خصوصی رپورٹ/

پاک افغان تعلقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ؟

خبر کا کوڈ: 1525545 خدمت: پاکستان
جنرل باجوہ اور عمر زخیلوال

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر نے عسکریت پسندوں کے خاتمے کیلئے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے تعاون کا مطالبہ کیا جس کے دوسرے ہی روز افغان سفیر نے اسلام آباد میں پاکستان آرمی چیف سے خصوصی ملاقات کی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور افغان سفیر عمر زخیل وال کے درمیان ملاقات میں باہمی دلچسپی اورسیکیورٹی امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی صورتحال پر بھی اظہار اطمینان کیا گیا۔

دوسری جانب افغان سفیر عمر زخیل وال نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر آرمی چیف سے ملاقات کی تصویر شیئر کی اور جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات سے آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا چیلنج افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری ہے۔ اگرچہ پاکستان کے پاس اپنے مغربی ہمسائے کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا وسیع تجربہ ہے لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ آج تک افغانستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی واضح نہیں ہے۔

اسلام آباد کی جانب سے افغان جہاد سے لے کر آج تک کابل کے ساتھ تعلقات کا تعین بھارت کو مدِ نظر رکھ کر کیا جاتا رہا ہے۔ اسی پالیسی کی وجہ سے پاکستان نے افغانستان میں بہت سے عسکریت پسند گروہوں کی معاونت کی جس کی وجہ سے کابل کے ساتھ ساتھ واشنگٹن سے بھی ہمارے تعلقات کشیدگی کا شکار رہتے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگر اب بھی پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں خاطر خواہ تبدیلی نہ لائی تو کابل - اسلام آباد تعلقات مزید خراب ہوں گے اور بھارت میں بھی پاکستان مخالف سیاست کو فروغ ملے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی نزدیکیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے طالبان کی حمایت کرنے کی پاکستان پالیسی بالکل غلط ہے۔ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ تعلقات میں ریاستوں کے درمیان تعلقات کی روایات کی پیروی کرنی چاہیے۔ پاکستان حقانی نیٹ ورک کو اپنے ملک میں کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ماضی کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ طالبان اس وقت تک مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتے جب تک ان کو عسکری لحاظ سے شکست کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

طالبان یا کسی بھی عسکری گروپ کو اپنے خفیہ ٹھکانوں، بھرتی اور منصوبہ بندی کے لئے پاکستان کی سرزمین کی اجازت نہیں دینی چاہیے جبکہ صرف مذاکرات کے مقصد کے لئے ان گروہوں کو پاکستان کی زمین استعمال کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کو ایک واضح اور شفاف پالیسی اپنانی ہوگی اور امریکہ کو یہ بتانا ہوگا کہ طالبان کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے اور پاکستان کس حد تک طالبان سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں ہیں۔

پاکستان کی جانب سے امریکہ کو صاف صاف بتا دینا چاہیے کہ وہ کس حد تک افغانستان میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔

پوری دنیا آج اس بات پر متفق نظر آتی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں نکل سکتا اس لئے جتنا جلدی امریکہ، افغان حکومت اور طالبان اس حقیقت کا ادراک کرلیں اتنا ہی بہتر ہوگا۔ لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تینوں سٹیک ہولڈرز اس حقیقت کا ادراک کریں گے اور اگر کریں گے تو مزید کتنا وقت لگے گا ؟

بہرحال اب دیکھنا یہ ہوگا کہ مسلسل کئی سالوں سے تعلقات میں اتار چڑھاو اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کے باوجود افغان صدر کا حالیہ بیان دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے کا سبب بن سکے گا یا ماضی کی طرح معمول کے الزامات کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوجائیگا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری