پاکستان مخالف مہم میں بھارت ملوث ہے، دفترخارجہ

خبر کا کوڈ: 1526057 خدمت: پاکستان
نفیس زکریا

ترجمان دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جینوا میں ہونے والی پاکستان مخالف مہم میں براہ راست بھارت ملوث ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق،دفترخارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنیوا میں پاکستان مخالف مہم چلانے والی بلوچستان ہاؤس نامی تنظیم کی فنڈنگ براہ راست بھارت کررہا ہے۔

اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا تسلسل جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  کشمیریوں کو نماز جمعہ ادا نہیں کرنے دی گئی جب کہ مزید 4 معصوم شہریوں کو بھی شہید کردیا گیا بین الاقوامی برادری وادی میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ میں کشمیر میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور اپنے ہمسایوں میں بھی ریاستی دہشت گردی کررہا ہے گزشتہ چند برسوں میں پاکستان مخالف مہمات جاری ہیں اور بھارت ان میں براہ راست ملوث رہا ہے، پاکستان بالخصوص بلوچستان میں تخریب کاری کی کارروائیوں میں بھارت کا ہاتھ رہا ہے جو دوسرے ممالک کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام اور دہشت گردی پھیلا رہا ہے، بھارتی خفیہ ایجسی را ک ایجنٹ کلبھوشن یادو اور تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے بیانات ہمارے مؤقف کی تائید ہیں۔

نفیس زکریا نے کہا کہ  بھارتی وزیراعظم کے بلوچستان کے حوالے سے بیان کے بعد پاکستان مخالف کارروائیوں میں مزید تیزی آئی اور اب جنیوا میں بھی پاکستان مخالف مہم شروع کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے چاپانی وزیراعظم کے دورہ بھارت کے مشترکہ اعلامیہ پر مایوسی ہوئی اور جاپان کی جانب سے بھارتی بیان کی حمایت قابل افسوس ہے، پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جہاں اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کی جاتی ہے اور پاکستانی عدلیہ بھی اپنا فعال کردار ادا کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم اور وزیرخارجہ کی بھارتی قیادت سے ملاقاتوں کا امکان نہیں کیوں کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اجلاس میں موجود نہیں۔

اکسپرس نیوز کے مطابق پاک افغان سرحد کے قریب امریکی ڈرون حملے کی مذمت نہ کرنے پر سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کے بیان پر ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزارت دفاع اور داخلہ نے ڈرون حملے کی تصدیق نہیں کی اور جب تک کوئی تصدیق نہیں ہوجاتی وزارت خارجہ کسی واقعے کی مذمت نہیں کرتا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری