سعودی عرب کی چیک بک ڈپلومیسی اور خاموشیوں کی خریداری + کارٹون


سعودی عرب کی چیک بک ڈپلومیسی اور خاموشیوں کی خریداری + کارٹون

یمن پر سعودی جارحیت، بحرین کی عوام پر جاری مظالم، سعودی صوبے قطیف میں نہتے لوگوں پر بربریت، مصر میں منتخب حکومت کے خاتمے اور اسرائیلی و امریکی کاسہ لیس جنرل سیسی کی پشت پناہی، خطے میں جاری دہشتگردی کے واقعات سے گہرا ربط، قطر کے خلاف بے جا پابندیاں، اپنے ہی خاندان کے مخالف شہزادوں کا اغوا اور ان کی نظر بندی اور انسای حقوق کی شدید خلاف ورزیاں سعودی نظام کی حکمت عملی اور طرز حکومت کو بیان کرنے کے لئے کافی ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے کالم میں رضا مشہدی کا کہنا ہے کہ یمن پر 900 سے زائد دنوں سے جاری سعودی جارحیت، 2011ء سے بحرین کی عوام پر سعودی پشت پناہی سے جاری مظالم، سعودی عرب کے صوبے قطیف میں نہتے لوگوں پر سعودی فورسزکی بربریت، مصر میں منتخب حکومت کے خاتمے اور اسرائیلی و امریکی کاسہ لیس جنرل سیسی کی پشت پناہی ، خطے میں جاری دہشتگردی کے واقعات سے گہرا ربط، قطر کے خلاف بے جا پابندیاں، اپنے ہی خاندان کے شہزادوں جو سعودی نظام کے خلاف ہوچکے ہیں، کا اغوا اور ان کی نظر بندی اور انسای حقوق کی شدید خلاف ورزیاں سعودی نظام کی حکمت عملی اور طرز حکومت کو بیان کرنے کے لئے کافی ہیں۔ البتہ یہ ابھی برفانی تودے کا وہ حصہ ہے جو سمندر سے باہر نظر آرہا ہے۔ سمندر کے نیچے کا حصہ ابھی تک میڈیا کی خاموشی، آزاد میڈیا کی نارسائی، خلیجی ریاستوں کی یورپ اور امریکا میں سرمایہ کاری اور بڑے پیمانے پر اسلحے کی خریداری اور اتحادوں کے پردوں تلے غرق ہے۔

با الفاظ دیگر، سعودی بادشاہت کی چیک بک ڈپلومیسی اور خاموشیوں کی خریداری کا بازار گرم ہے۔ اگر آپ مین اسٹریم میڈیا گروپس کی کوریج پر نظر دوڑائیں تو مشاہدہ کریں گے کہ یہ یمن پر جاری 900 روز سے زائد سعودی جارحیت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ ایسی جارحیت جس میں اسپتالوں، اسکولوں، یونیورسٹیوں، رہائشی علاقوں، خوراک و پانی کے ذخائر، دواوں کی رسد اور مسجدوں تک کو نہیں بخشا گیا۔

برطانوی جریدہ ڈیلی اںڈیپنڈنٹ نے اپنے رپورٹر کے حوالے سے کہا ہے کہ یمن کے اندر جاری لڑائی اور سعودی بمباری نے ناقابل یقین حد تک عمارتوں اور گھروں کو ملبے میں بدل ڈالا ہے اور گلیوں میں لاشیں بکھری پڑی ہیں، جبکہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، مریضوں کے ساتھ ناقابل بیان المئے رونما ہورہے ہیں، ایسے میں سعودی عرب کی بمباری جاری ہے، اس کے طیارے کلسٹر اور ڈزنی کٹر بموں کا استعمال کررہے ہیں، یہ وہ بم ہیں جو امریکیوں نے عراق اور افغانستان پر حملے کے دوران استعمال کئے تھے۔

اس کے علاوہ عام شہریوں کو قید کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق جو کہ ان عام یمنی شہریوں سے متعلق تھی، جنہیں یمن میں متحدہ عرب امارات اور سعودی فوجیوں نے عوامی رضا کار فورس سے تعلق کے شبہہ میں خفیہ جیلوں میں قید کیا تھا، جن میں سے کچھ جو رہائی پاسکے تھے، انہوں نے بتایا کہ انہیں پکڑ کر ایسے کنٹینرز میں بھر دیا جاتا تھا جو بول و براز کی نجاستوں سے پر ہوتے تھے، انہیں ان کنٹینرز میں اتنی تعداد میں ٹھونس دیتے تھے کہ سانس لینا محال ہوجاتا تھا، پھر انہیں خفیہ جیلوں میں لے جایا جاتا اور ہفتوں تک آنکھوں پر پٹی باندھ کر رکھا جاتا، ان پر بدترین ٹارچر کیا جاتا، ان کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے فوجییوں کی جنسی زیادتیاں معمول کا حصہ تھیں، اور ایک ایسا اذیت ناک ٹارچر کرنا انکا معمول تھا جس کا بیان بھی اذیت ناک ہے۔ اس ٹارچر کو متحدہ عرب امارات کے فوجیوں نے "گِرل"  کا نام دیا تھا۔ رہائی پانے والے قیدیوں نے بتایا کہ ان کو ایک بڑی لوہے کی سیخ سے باندھ دیا جاتا تھا اور جیسے گوشت کو روسٹ کیا جاتا ہے، ویسے ہی انسانوں کو اس سیخ سے باندھ کر آگ پر گھمایا جاتا تھا، کتنے ہی بے گناہ قیدی اس اذیت ناک ٹارچر کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہوگئے۔

مگر ان انسانیت سوز مظالم کا کسی مین اسٹریم میڈیا میں ذکر نہیں ہے۔۔۔ وجہ ؟ صاف ظاہر ہے۔ ان جارح خلیجی عرب بادشاہتوں کے پیٹرو ڈالرز کی برسات اور خاموشی کی خریداری۔۔  یہ عرب بادشاہتیں چیک بک ڈپلومیسی استعمال کرتے ہوئے مغربی میڈیا، سیاستدان اور تھنک ٹینکس کو خرید لیتے ہیں تاکہ یا تو وہ ان کی جارحیت کا دفاع کریں اور ان کے بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام پر تحسین و آفرین کے ڈونگرے برسائیں یا پھر مجرمانہ خاموشی اختیار کرلیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ اور پالیسی انسٹی ٹیوٹس ان خلیجی بادشاہتوں سے سالانہ کروڑوں ڈالرز کی فنڈنگ وصول کرتے ہیں، یہ با اثر پالیسی انسٹی ٹیوٹس جو رائے عامہ پر اثر انداز ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ان پیٹرو ڈالرز کے بدلے میں ان ریاستوں کی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں اور ظلم و بربریت پر چپ سادھ لیتے ہیں اور ان کی جارحیت پر نغمہ سرائی کرتے ہیں۔ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ، مڈل ایسٹ پالیسی کونسل وغیرہ ان بہت سے ناموں میں سے چند نام ہیں۔  

امریکی صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلسل ہیلری کلنٹن کو سعودی عرب سے بھاری رقوم لینے پر ہدف تنقید بناتے رہے اور کہتے رہے کہ سعودی عرب کا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ایک بھیانک ریکارڈ ہے اور سعودی عرب ہی نائن الیون کے واقعہ میں ملوث ہے، مگر جب موصوف صدر بننے کے بعد  خود اس ملک کے دورے پر گئے اور سعودی بادشاہت نے انہیں 110 ارب ڈالرز کے اسلحے کی ڈیل کا تحفہ دیا تب سے موصوف صدر سعودی عرب کے گن گانا شروع ہوگئے ہیں۔ اب نہ انہیں سعودی عرب کا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا بھیانک ریکارڈ یاد آتا ہے اور نہ نائن الیون کی دھشت گردی میں ملوث ہونا۔

گذشتہ ماہ سعودی عرب نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی جنیوا میں منعقد ہونے والی سالانہ کانفرنس میں آرگنائزیشن کی گورننگ باڈی کی سیٹ اپنے نام کرلی، جس کے بعد سعودی عرب انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی پالیسیاں، بجٹ اور پروگرام ایکٹی ویٹیز میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ کتنی مضحکہ خیز بات لگتی ہے کہ وہ ملک جہاں تارکین وطن مزدورں اور گھریلو نوکرانیوں پر ظلم و تشدد زبان زد عام ہے اس ملک کو آئی ایل او کی گورننگ باڈی کی سیٹ مل جائے۔ یہ سب پیٹرو ڈالرز کے معجزاتی کرشمے ہیں۔

اسی طرح سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کی سیٹ بھی اپنے نام کی ہوئی ہے اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حقوق نسواں کی سیٹ پر بھی براجمان ہوگیا ہے۔  انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کرنے والا ملک، ایسا ملک جہاں خواتین سے ڈرائیونگ کا حق بھی چھین لیا گیا ہو، اسے اقوام متحدہ کے حقوق نسواں کے کیمشن میں ایک سیٹ دے دی جائے۔۔۔ پھر اسی سعودی چیک بک کا اعجاز ۔۔۔

 انفرادی طور پر ان خلیجی بادشاہتوں کے قلمرو میں جس نے بھی ان مظالم کے خلاف آواز اٹھانی چاہی خواہ سعودی عرب ہو، متحدہ عرب امارات ہو یا بحرین۔ یا تو اسے قتل کردیا گیا، یا غائب کردیا گیا، یا لمبے عرصے کیلئے پابند سلاسل کردیا گیا اور اس کے اھل خانہ کو ایذائیں دی گئیں یا اس کی شہریت منسوخ کردی گئی اور جلا وطن کردیا گیا۔ کیا لوگوں کو سعودی عرب کے معروف شیعہ عالم دین شیخ نمر یاد نہیں جن کو سعودی بادشاہی نظام کے ظلم و بربریت کے خلاف علم احتجاج بلند کرنے کی پاداش میں سر قلم کرنے کی سزا دی گئی، یا بحرین میں معروف عالم دین اور عوام کے محبوب رہنما شیخ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخ کرنا اور انہیں ایک عرصے سے نظر بند کرنا جن کا جرم یہ ہے کہ وہ  بحرین کے آل خلیفہ کے مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، یا ابھی حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن احمد منصور کی گرفتاری اسی جبر و استبدادی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔  

معزز قارئین کو یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل کارپوریٹس اور ریاستوں کے راز شائع کرنے والی معروف ویب سائٹ وکی لیکس نے سعودی عرب کی خفیہ کیبلز کو شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا، اس حوالے سے ویکی لیکس نے پہلے پہل جو خفیہ مراسلات جاری کی تھیں، اسے اس نے "خاموشی کے خریدار" کا عنوان دیا تھا اور ان مراسلات میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ سعودی عرب کیسے اہل سیاست و صحافت کو سعودی عرب کے معاملے میں خاموش رہنے پر راضی کرتا ہے۔

 ویکی لیکس نے بائینگ سائلنس کے عنوان سے سعودی لیکس کے ابتدائیے میں صاف صاف کہا تھا کہ مغربی اور عرب میڈیا ان لیکس کے حوالے سے خاموشی دکھا رہا ہے اور اگر یہی لیکس کسی اور ملک کے بارے میں ہوتیں تو میڈیا پر شور کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا (غالبا وکی لیکس کا اشارہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف ہوگا)۔

یاد رہے مین اسٹریم میڈیا کی جانب سے سعودی عرب کی خفیہ ڈکٹیٹر شپ، چیک بک ڈپلومیسی اور ذرائع ابلاغ کیلئے سعودی عرب کے کیش مشین ہونے جیسے تصورات کا جو ان خفیہ کیبلز سے ابھرتے ہیں، کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا۔

ہاں البتہ بیروت سے شائع ہونے والے روزنامہ "الاخبار" نے روزانہ کی بنیاد پر سعودی عرب کی سفارتی دستاویزات اور وزرات خارجہ کے متعلق دستاویزات کو شائع کرنا شروع کیا تھا جس کا ٹائٹل بھی "الاخبار" نے  بڑا دلسچپ رکھا تھا۔ وہ ٹائٹل یہ تھا "صناعۃ الصمت: کیف طوّعت السعودیہ اعلام العربی" (خاموش انڈسٹری: سعودیہ نے کیسے عرب میڈیا کو اپنے مطابق ڈھالا)۔ 

الاخبار بیروت کے ایڈیٹر ابراہیم الامین سعودی عرب کی اس خاموشی کی خریداری کے بارے میں کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے بارے میں آپ اگر دو بنیادی حقیقتوں کو نہیں سمجھتے تو اس کو کبھی نہیں جان سکتے "ظالم، گناہ گار امراء کی بقاء اور غریبوں کے لیے موت ۔"

ابراہیم الامین کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی عرب کے سفارتی کیبلز اور وزرات خارجہ کی فائلوں کے مطالعے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آل سعود کا غلبہ اسلحہ و بارود اور مال کی قوت سے قائم ہے اور یہ اپنا غلبہ ہر مکن حد تک برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور ان کو اس کے لیے نہ تو کسی جغرافیائی حدود کا خیال ہے اور نہ ہی یہ ایک ملک یا اقوام تک محدود ہے، ان کا جو واحد مقصد ہے وہ یہ کہ کسی طرح سے بھی ان کے احکام، نظام اور سیاست پر تنقید سے روکا جائے، چاہے خفیہ طور سے روکا جائے یا اعلانیہ۔

ابراہیم الامین یہ بھی کہتے ہیں کہ سعودیہ عرب کے جو جابر ریاستی ادارے ہیں وہ ابھی تک بہت ابتدائی سطح پر ہیں، نہ تو ان کا بہت واضح سٹرکچر ہے، نہ ہی کسی قسم کا پروفیشنل ازم ہے، نہ ہی ان کی کوئی ترجیحات یا نظم ہے اور نہ ہی کوئی متعین ریفرنس ہیں، جو کوئی بھی اس ریاست کے کام کرنے کے سکوپ کے تحت آتا ہے، اس کا اول و آخر تعلق اور وفاداری ریاست کے حکمران خاندان سے ہے اور اسے سوائے تعریف کے کسی شہزادے کا ذکر نہیں کرنا۔ اور سینکڑوں ایسے سیاست اور میڈیا سے منسلک افراد اور اداروں کی فہرست ہمارے سامنے ہے جو اس سلطنت کی حمایت حاصل کرنے کے لئے یہ خدمت سرانجام دینے پر راضی ہیں اور ان کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ ان کا لکھا یا کہا ہوا لفظ سچ ہے بھی کہ نہیں اور ان کو تو بس وہ لفظ کہنا یا لکھنا ہے جو سعودی بادشاہت کو خوش کرنے والا ہو اور اس کے بدلے میں ان کو پیٹرو ڈالرز سے بھرے ہوئے بیگز مل جاتے ہیں اور جو ان کے دام میں نہ آئیں اور ان کے بارے میں سچ بولیں تو یہ جابر ریاست ان کے خلاف فرقہ وارانہ ہتھیار استعمال کرتی ہے اور ایسے سچ بولنے والے چاہے ان کے ملک کے اندر ہوں یا سمندر پار ہوں، ان کو سبق سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

وکی لیکس نے اپنی ویب سائٹ پر "خاموشی کی خریداری" پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ لکھا تھا کہ آسٹریلیا سے کینیڈا تک اور ان کے درمیان ہرجگہ سعودی عرب اپنے امیج کو کنٹرول کرنے کے لئے میڈیا کی مانیٹرنگ کرتا ہے اور اسے خریدتا ہے وکی لیکس نے سعودی عرب کی جانب سے عرب اور عالمی میڈیا کو خاموش کرانے کے طریقہ کار کے بارے میں کافی تفصیل سے لکھا تھا اور بتایا تھا کہ عرب اور عالمی میڈیا میں جو افراد یا ادارے سعودی عرب کے بارے میں حقیقت حال کو آشکار کرتے ہیں تو ان تک اپروچ کی جاتی ہے اور پیسہ دیکر یا تو ان کو خاموش رہنے کو کہا جاتا ہے یا ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ پیسے لیکر سعودی عرب کی امیج بلڈنگ کا کام کریں اور جو اس کے باوجود باز نہیں آتے تو ان کو سبق سکھانے کی بات بھی کی جاتی ہے۔

 وکی لیکس نے ایک مراسلہ بھی شائع کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ کیسے 500 ڈالر سے لیکر لاکھوں ڈالر تک میڈیا آؤٹ لیٹس کو خاموش رہنے یا آل سعود کا ترجمان بننے کے لئے ادا کئے گئے۔  ایک مراسلے میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ لبنانی ایم ٹی وی کو سعودی پروپیگنڈے کے لئے کئی لاکھ ڈالرز دئے گئے۔

اور جن جریدوں نے سعودی عرب کی حمایت میں خبریں شائع کیں یا مخالف خبروں اور رپورٹس کو بلیک آؤٹ کیا، ان کی ہزاروں کی تعداد میں شائع کاپیوں کو خریدنے کا معاہدہ کیا گیا اور ایسے ہی ایک مراسلے میں سعودی حکومت کی جانب سے اپنے سفارت خانے کو ایک نیوز ایجنسی کو کئی ہزار ڈالر فی الفور ادا کرنے کو کہا گیا ہے جو مشکلات کا شکار تھی مگر سعودی عرب کی حامی ایجنسی کا کردار ادا کررہی تھی۔

 ایسے ہی جب مصر کے آن ٹی وی نے سعودی عرب کی پالیسیوں کے بہت بڑے ناقد اور سعودی عرب میں مذھبی اصلاحات کی تحریک چلانے کے حامی، سعودی اسکالر سعد راشد محمد الفقیه، جو کہ لندن میں مقیم ہیں، کا انٹرویو چلایا گیا تو سعودی عرب کی مصر میں موجود سفارت خانے کو سعودی وزرات خارجہ نے ہدایت کی کہ اس ٹی وی کے مالک کو پیغام دیا جائے کہ اگر وہ ایسے انٹرویو چلائے گا تو اسے سعودی عرب کا دشمن سمجھ لیا جائے گا، جس پر ٹی وی مالک نے نیوز ڈائریکٹر کو سعد الفقیہ کا انٹرویو چلانے پر سخت جھڑکی دی اور سعودی سفیر کو اس ٹی وی پروگرام میں آنے کی دعوت دی۔

 اسی طرح سے ایرانی عربی زبان ٹی وی العالم نیوز نیٹ ورک جس سیٹیلائٹ سے آن ائر تھا اس کو خریدنے کی کوشش کی گئی اور جب اس میں ناکامی ہوئی تو پرنس فیصل الترکی نے اس چینل کے سگنل کمزور کروانے کی کوشش کی۔

ویکی لیکس کے مراسلات نے سعودی حکومت کے شام میں باغیوں اور دہشت گردوں کی مدد کرنے، ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت میں لابنگ کرنے اور مصر میں فوجی حکومت کے قیام میں مدد کرنے سے متعلق بھی بہت سے راز منکشف کئے تھے مگر وہ سب بھی پیٹرو ڈالرز کے بوجھ تلے دب گئے اور مین اسٹریم میڈیا پر اس حوالے سے خاموشی کا راج رہا۔

اسی طرح سعودی کیبلز یہ بھی بتاتی ہیں کہ سعودی عرب اپنے ملکی میڈیا کو ذرا محتلف طریقے سے کنٹرول کرتا ہے، ایک کیبل کے مطابق جب لبنانی  وزیراعظم سعد حریری نے سعودی اخبارات شرق الاوسط اور الحیات میں اپنے اوپر شائع ہونے والے تنقیدی مضامین کی شکایت سعودی حکام کو کی تو فوری طور پر ایک لیٹر لکھ کر ایسے مضامین لکھنے کو منع کیا گیا۔ سعودی عرب کے قومی و علاقائی اخبارات و ریجنل رسائل و جرائد کو سختی سے آل سعود اور وہابی آئیڈیالوجی پر تنقید سے بھی منع کیا گیا ہے۔

   سوال یہ ہے کہ جب حکومتیں، سیاستدان، پالیسی ادارے، ذرائع ابلاغ اور حتیٰ این جی اوز بھی اس خاموشی کی خریداری میں برائے فروخت کا لیبل لگائے قطار میں کھڑی ہوں اور سعودی عرب کی جارحیت، بے گناہ شہریوں کے قتل عام، انسانیت سوز مظالم، سیاسی اور مذھبی مخٰالفین کے سرقلم کرنا، خواتین کے استحصال جیسے جرائم پر سعودی پیٹرو ڈالرز کی چھائوں تلے خاموشی کا لحاف اوڑھ کر سو جائیں گی اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر چپ سادھ لیں گی تو پھر آواز کون اٹھائے گا؟؟ 

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری