امریکہ شام اور عراق کے ٹکڑے کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے، روسی عہدیدار

خبر کا کوڈ: 1526701 خدمت: دنیا
نقشه عراق

روسی جیوپولیٹیکل سٹڈیز سنٹر کے سربراہ اور وزارت دفاع کے سابق عہدیدار ایواشف نے کہا ہے کہ امریکہ علاقائی ممالک کے خلاف سازشیں کر رہا ہے اورعراقی کردستان میں ریفرنڈم کا انعقاد ان ہی سازشوں کا حصہ ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق روسی جیوپولیٹیکل سٹڈیز سنٹر کے سربراہ اور سابق روسی وزارت دفاع کے بین الاقوامی باہمی تعاون کے ادارے کے ڈائریکٹرجنرل ایواشف نے کہا ہے کہ امریکہ علاقائی ممالک کے خلاف سازشیں کر رہا ہے اورعراقی کردستان میں ریفرنڈم کا انعقاد ان ہی سازشوں کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر بش کے صدارتی دورمیں بننے والے گریٹرمشرق وسطی کامنصوبہ جاری ہے اور واشنگٹن اپنے جھوٹے دعوے کے باوجود ریفرنڈم کے انعقادک ی حمایت کرتا ہے۔ ادارے کے ڈائریکٹرجنرل ایواشف نے کہا کہ بعض امریکی حکام نے جھوٹے دعوے کئے کہ عراقی کردستان میں ریفرنڈم کے انعقاد کے مخالف ہیں مگر امریکہ عراق اور شام ی تقسیم کا خواہاں ہے اسی لئے خفیہ طور پر داعش دہشتگردوں کی حمایت کررہا ہے اوراس حوالے سے حقیقی دستاویزات بھی موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ امر یکہ واضح طور پر شام میں بعض مسلح اور دہشتگرد گروہوں کی حمایت کررہا ہے اسی لئے شام اور عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی بہت ہی خطرناک اور ان کا مقصد علاقائی ممالک پر قبضہ کرنا ہے۔

ایوا شیف کے مطابق فغانستان، لیبیا اور یمن میں بحران امر یکہ اور ان کے اتحادیوں کی سازشوں کا نتیجہ ہے اسی لئے موجودہ صورتحال میں علاقائی ممالک ے لئے امر یکی سازشوں کو ناکام بنانے سے متعلق یجہتی کی ضرورت ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری