امریکہ کیساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، ایرانی وزیر خارجہ

خبر کا کوڈ: 1527292 خدمت: ایران
ظریف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ایٹمی معاہدے سے حوالے سے امریکی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی پالیسی اور رویہ دیکھ کر دنیا جان گئی ہے کہ اس ملک کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مختلف ممالک کے ہم منصبوں اور اعلی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں مختلف امور بالخصوص ایٹمی معاہدے کے حوالے سے تہران کے موقف کو پیش کیا۔

انہوں نے گزشتہ روز اپنے جاپانی ہم منصب تارو کونو کے ساتھ ملاقات میں جوہری معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے گفتگو کی۔

فریقین نے اس کے علاوہ ایران اور جاپان کے درمیان بینکاری، سرمایہ کاری، توانائی، سائنسی اور تعلیمی شعبوں میں بھی دوطرفہ تعاون کو بڑھانے پر زور دیا.

ایران اور جاپان کے وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ ترین صورتحال اور اہم عالمی امور بالخصوص خلیج فارس اور یمن کے مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا.

ظریف نے کوریائی خطے میں جاری بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری ھتھیار کی پیداوار، اس کی توسیع یا اس کے تجربے کی مخالفت کرتا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جاپان سمیت علاقائی اور عالمی ممالک کی جانب سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے سے ایک بڑے بحران پیدا ہونے سے بچایا جاسکتا ہے.

اس موقع پر جاپانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے کا اہم اور بڑا ملک ہے اور جاپانی حکومت کی جانب سے جوہری معاہدے کی حمایت کا سلسلہ جاری رہے گا.

خطے کی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم عراقی علاقے کردستان میں ریفرنڈم کرانے کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ ہمیں عراق کی سالمیت اور قومی یکجہتی زیادہ اہم ہے۔
 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری