مقبوضہ کشمیر اور محرم الحرام؛ جلوسوں پر پابندی دینی معاملات میں مداخلت اور بزدلی کی علامت ہے

خبر کا کوڈ: 1527767 خدمت: اسلامی بیداری
سبط محمد شبیر قمی

پیروان ولایت جموں و کشمیر کے سرپرست اعلیٰ نے ایسی حالت میں بھارتی حکومت کی جانب سے جلوسوں پر پابندی کو دینی معاملات میں سراسر مداخلت اور بزدلی قرار دیا ہے کہ پاکستان میں بھی گزشتہ دنوں بعض حکام کی جانب سے عزاداری برپا کرنے کیلئے اجازتنامے کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پیروان ولایت جموں و کشمیر نے ایام ہائے عزاء کے موقعے پر امت اسلامیہ کو تعزیت و تسلیت پیش کی ہے۔

 پیروان کے سرپرست اعلیٰ مولانا سبط محمد شبیر قمی نے کہا ہے کہ سرینگر کے دو بڑےتاریخی اور مرکزی جلوسوں پر پابندی دینی معاملات میں سراسر مداخلت ہے، پابندیوں اور بندشوں کے باوجود عزاداری کے یہ جلوس شان و شوکت سے بر آمد کئے جائینگے دینی معاملات میں سرکاری حکمنامے اور اجازت کے پابند نہیں رہیں گے۔

پیروان کے سرپرست اعلیٰ مولانا سبط محمد شبیر قمی امت اسلامیہ سے پرزور استدعا کی ہے کہ ایام عزاء کے دوران آپسی اتحاد و اتفاق اور بھائی چارے کی مثال قائم و دائم رکھ کر دشمنان اسلام کی سازشوں کا توڑ کریں انہوں نے کہا کہ دشمنان اسلام کسی نہ کسی بہانے سے وحدت اسلامی کے مضبوط قلعے پر وار کرنا چاہتے ہیں اس لئے وہ مذہبی لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے صفوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ کربلا درسگاہ اتحاد اور درسگاہ مساوات ہے لہذا ہمیں چاہئے کہ ایام ہائے عزاء میں ان تمام چیزوں کو مد نظر رکھ کر ہی عزادری کے مراسم انجام دئے جائے۔

انہوں نے کہا کہ علمائے کرام، دانشور، مفکرین اسلام اور زاکرین حضرات پر زمہ دارای عائد ہوتی ہے کہ وہ مراسم عزاداری کے ساتھ ساتھ قیام حسینی کا اصل ہدف اور مقصد واضع کریں۔

مولانا قمی نے کہا کہ سرینگر کشمیر کے دو بڑے تاریخی اور مرکزی عزاداری کے جلوسوں پر پابندی عائد کرنا دینی معاملات میں سراسر مداخلت  اور بزدلی کی علامت ہے جس کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مولانا قمی نے کہا کہ پابندیوں اور بندشوں کے باوجود عزادارن مظلوم کربلا ان جلوسوں کو بڑی شان و شوکت جوش و جذبہ کے ساتھ بر آمد کریں گے اور مذہبی معاملات میں کسی سرکاری حکمنامے اور اجازت کے پابند  نہیں رہیں گے اور نہ ہی کسی سرکاری امداد کے محتاج ہیں۔

مولانا نے ملت اسلامیہ کشمیر سے اپیل کی کہ وہ 8 اور یوم عاشورہ کے مرکزی جلوس میں شرکت کرنے کیلئے جوق در جوق سرینگر کا رخ کریں

واضع رہے کشمیر میں 1989 سے سرینگر کے ان دو بڑے مرکزی جلوسوں پر سرکاری  پابندی عائد ہے اور عزادار ہر سال پابندیوں کے باوجود اس کو بر آمد کرنے کی کوشش کررہے ہیں

ادھر اتحاد المسلمین جموں و کشمیر،  انجمن شرعی شیعان اور انجمن صدائے حسینی سمیت دیگر مذہبی تنظیموں نے بھی 8 اور 10 محرم الحرام کے عزاداری کے دو بڑے مرکزی جلوسوں کو پابندیوں اور بندشوں کے باوجود سرینگر سے برآمد کرنے کا عزم دہرایا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران بعض پاکستانی حکام نے بیانات دئے تھے کہ چاردیواری کے اندر بھی عزاداری امام حسین علیہ السلام برپا کرنے کیلئے حکومت سے اجازت لینی پڑیگی جس پر اس ملک کے اہل تشیع کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری