کشمیریوں کو کچلنا اور نتیجہ خیز مذاکراتی عمل بیک وقت ممکن نہیں، حریت کانفرنس

خبر کا کوڈ: 1528163 خدمت: اسلامی بیداری
سید علی گیلانی

حریت کانفرنس کے مطابق این آئی اے (NIA)کے نام پر سیاسی قیادت کی شبیہ بگاڑی جارہی ہو، سالہاسال سے جیلوں میں نوجوانوں اور قائدین کو سڑایا جارہا ہو، ہر جگہ کشمیری نہتے لوگوں کا لہو بہایا جارہا ہو، ٹی وی چینلوں پر کشمیری عوام کی تذلیل کی جارہی ہو ایسے ماحول میں کیسے کوئی مذاکراتی عمل نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس روزِ اول سے ہی مذاکرات کے عمل کا خیرمقدم کرتی آئی ہے، تاہم ہمارا یہ موقف رہا ہے کہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول ہو، جس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار حریت کانفرنس(گ) کی مجلس شوریٰ کے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت چیرمین سید علی گیلانی کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ جب این آئی اے (NIA)کے نام پر سیاسی قیادت کی شبیہ بگاڑی جارہی ہو، سالہاسال سے جیلوں میں نوجوانوں اور قائدین کو سڑایا جارہا ہو، ہر جگہ کشمیری نہتے لوگوں کا لہو بہایا جارہا ہو، ٹی وی چینلوں پر کشمیری عوام کی تذلیل کی جارہی ہو ایسے ماحول میں کیسے کوئی مذاکراتی عمل نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔

چیرمین سید علی گیلانی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہم نے مذاکرات کے عمل سے کبھی فرار کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ ہمارے پاس وہ ٹائلینٹ موجود ہے جو کسی بھی سطح پر کہیں بھی قومی وقار کا تحفظ رکھتے ہوئے مذاکرات کے عمل میں شریک ہوسکتا ہے، تاہم ہمارا یہ ماننا ہے کہ سہ فریقی مذاکرات ہی نتیجہ خیز ثابت ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیاءمیں پائیدار امن کے لیے منقسم جموں کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کا فیصلہ کرنا ہے، تاکہ برصغیر امن کا گہوارہ بن سکے۔

اجلاس میں حالیہ گرفتاریوں بالخصوص حریت ترجمان غلام احمد گلزار کی گرفتاری کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ان حربوں اور گرفتاریوں سے حریت قائدین اور کارکنان کے عزائم کو توڑا نہیں جاسکتا۔

اس اہم اجلاس حریت اکائیوں کے سربراہان یا ان کے نمائندوں جن میں مسلم لیگ، مسلم ڈیموکریٹک لیگ، خواتین مرکز، پیروان ولایت، کشمیر فریڈم مومنٹ جموں، تحریک وحدت اسلامی، ایمپلائز مومنٹ، پیپلز لیگ، تحریک حریت، انجمن شرعی شیعاں، ڈیموکریٹک پولیٹکل مومنٹ، تحریکِ مزاحمت، اسلامک پولیٹیکل پارٹی، مسلم کانفرنس، پیپلز مومنٹ، خواتین کشمیر، پیپلز لیگ اور کشمیر فریڈم فرنٹ شامل ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری