محرم الحرام کے حوالے سے سربراہ ایم ڈبلیو ایم کا پیغام؛

بظاہر کلمہ پڑھنے والا اور عمل میں یزیدی کردار اپنانے والا حکمران دورحاضر کا یزید ہے

خبر کا کوڈ: 1528480 خدمت: اسلامی بیداری
راجہ ناصر عباس

سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی حکمران اسلام کا نام لیوا اور کلمہ پڑھنے والا ہے اور اس کے کام یزید کے جیسے ہیں، تو وہ دور حاضر کا یزید ہی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے محرم الحرام 1439ء کے حوالے سے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ ہلال محرم 1439ء ایک بار پھر نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام ان کے اصحاب و یاوران و کی الم و غم اور شجاعت و حریت سے بھرپور داستان لے کر طلوع ہو رہا ہے، دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں خصوصی طور پر امت مسلمہ اس ماہ، جو آغاز سال نو بھی ہے، کا آغاز الم و غم اور دکھ بھرے انداز میں کرتی ہے، اس کی بنیادی ترین وجہ اپنے پیارے نبی آخرالزمان محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لاڈلے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و انصار و یاوران کی عظیم قربانی جو 10محرم اکسٹھ ہجری کو میدان کربلا میں دی گئی، کی یاد کو زندہ کرنا ہے۔ میدان کربلا میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے باوفا اصحاب نے جو قربانیاں پیش کیں، ہمارے لیئے اسو ہ حسنہ کی حیثیت رکھتی ہیں، کربلا کے شہداء کی داستان ہائے شجاعت سے ہمیں درس حریت و آزادی ملتا ہے، یہ کربلا ہی ہے جو آزادی کا پیغام دیتی ہے، کربلا کا درس ہے کہ بصیر ت و آگاہی اور شعور و فکر کو بلند و بیدا ر رکھا جائے، ورنہ جہالت و گمراہی کے پروردہ ہر جگہ ایسی ہی کربلائیں پیدا کرتے رہیں گے۔

انکا کہنا تھا کہ کربلا ایک لگاتار پکار ہے، یزیدیت ایک فکر اور سوچ کا نام ہے، اسی طرح حسینیت بھی ایک کردار کا نام ہے، اگر کوئی حکمران اسلام کا نام لیوا اور کلمہ پڑھنے والا ہے اور اس کے کام یزید کے جیسے ہیں، تو وہ دور حاضر کا یزید ہی ہے۔ یزیدیت پاکیزہ نفوس کے قاتلوں کا ٹولہ تھا جس کا راستہ روکنے کیلئے نواسؑہ رسؐول، جسے امت کے سامنے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تربیت کیا تھا، سامنے آئے اور اپنی عظیم قربانی سے اس کے ارادوں کو خاک میں ملا دیا، آپ علیہ السلام کی قربانی آج چودہ صدیاں گذر جانے کے بعد بھی اسی انداز میں یاد رکھی جاتی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ دین کی بقا کی اس داستان کو مٹانے کی خواہش دل میں رکھنے والے اپنی موت آپ مرتے رہیں گے۔ یہ تاریخی و بے مثال قربانی اور نمونہ ء ایثار و شجاعت سے ہمارے لیئے درس کا باعث ہے، اس شہادت میں بہت سے درس اور راز و سر موجود ہیں، ہمیں چاہیئے کہ ہم اس داستان سے درس لے کر موجودہ دور کی مشکلات کا مقابلہ کریں اور یزیدی طاقتیں جو امت مسلمہ کو نابود کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں، کے ارادوں کو ناکام و نامراد کر دیں، بالخصوص امت مسلمہ کی وحدت و بھائی چارہ پر فرقہ واریت کے منحوس سائے نہ پڑنے دیں۔ یہ قربانی کس قدر بے مثال ہے کہ جس سے چودہ صدیاں گذر جانے کے بعد بھی ایسے ہی درس و سبق حاصل کیئے جاتے ہیں، جیسے ابھی کل ہی ہونے والے کسی واقعہ سے انسان کوئی سبق یا نصیحت حاصل کرتا ہے، حکیم الامت حضرت علامہ اقبال نے تو اس واقعہ میں حضرت اباعبداللہ الحسؑین کی داستان شہادت میں پنہاں اسرار و رموز کو سامنے لانے کی تڑپ کا اظہار کیا ہے اور برملا کہا ہے کہ ؎

بیاں سر شہادت کی اگر تفسیر ہو جائے
مسلمانوں کا قبلہ روضہ ء شبیر ہو جائے

یہ بات کس قدر افسوسناک ہے کہ علامہ اقبال تو حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب کی قربانیوں کی داستان اور اسرار کو اس قدر اہم جانتے ہیں، کہ انہیں یہ یقین ہے کہ اگر یہ راز کھل جائیں اور امت اس سے آگاہ ہو جائے تو اپنا کعبہ و قبلہ ہی تبدیل کر لیں، مگر اس ملک میں بسنے والے بہت سے تعفن و تعصب زدہ لوگ محرم الحرام میں شہادت و شجاعت کی اس داستان کے بیان کی محافل کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں اور اپنی پست ذہنیت پوری قوم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، افسوس ان حکومتوں پر ہوتا ہے جو امام حسین علیہ السلام کی اس تاریخی و بے مثال قربانی بیان کرنے کیلئے لائسنس اور پابندیوں کا شکار کرتی ہے۔ بلا اجازت جلوس و مجلس برپا کرنے کو جرم قرار دیتی ہے اور اس محرم کی آڑ میں ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں ڈالتی ہے۔ یہ مفکر پاکستان اور مصور پاکستان کی فکر سے مکمل انحراف ہے اور کروڑوں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ علامہ کا دل دکھانے کا باعث بھی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آج بانی پاکستان اور مصور پاکستان حیات ہوتے تو پاکستان میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قربانی کے ذکر کی محافل ایسی ہی پابندیوں کی ذد پہ ہوتیں؟ ہرگز نہیں، بلکہ بانی پاکستان اور مصور پاکستان ان مجالس و محافل کا حصہ ہوتے، علامہ اقبال تو وہ سر اور راز کھول کھول کر بیان کرتے، جو ان کے نزدیک مسلمانوں کے قبلہ کو تبدیل کر سکتے تھے، پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے حکمران ان محافل و مجالس کو نشانہ بنانے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں کھل کھیلنے کا پورا موقعہ مہیا کرتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری