تحریر: رضا مشہدی

عراقی کردستان کا ریفرنڈم اور گریٹر اسرائیل منصوبہ؛ ایک تحقیقی رپورٹ

خبر کا کوڈ: 1528641 خدمت: مقالات
کرد اسرائیل

2007 میں امریکی صحافی اور ایشیا ٹائمز کے کالم نگار ڈیوڈ گولڈ مین نت انکشاف کای تھا کہ قسیم عراق کا نتیجہ ایک آزاد کرد ریاست کا قیام ہوگا جس کا دارالحکومت کرکوک یا "کردش یروشلم" ہوگا اور جہاں تیل کے وافر وسائل ہوں گے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: 2007 میں امریکی صحافی اور ایشیا ٹائمز کے کالم نگار ڈیوڈ گولڈ مین نے اپنے ایک مضمون میں عراق کی تقسیم کے امریکی منصوبے کا انکشاف کرتے ہوئے لکھا تھا؛

"امریکی سینٹ نے اکثریت سے عراق کی تین حصوں میں تقسیم کی حمایت کی ہے۔ سینٹ کے تقریبا تمام ڈیموکریٹ ارکان اور نصف ری پبلیکن ارکان امریکی فوجوں کے عراق سے انخلاء کی سٹریٹجی کے طور پر عراق کی تقسیم کے حامی ہیں۔ تقسیم عراق کا نتیجہ ایک آزاد کرد ریاست کا قیام ہوگا جس کا دارالحکومت کرکوک یا "کردش یروشلم" ہوگا اور جہاں تیل کے وافر وسائل ہوں گے۔

اس نے مزید لکھا تھا کہ "آزاد کرد ریاست کو زیادہ عرصہ روکا نہیں جا سکتا۔ عراقی کردستان ہر لحاظ سے آزاد ہے سوائے نام کے اور اب عراق کی (تین حصوں میں) تقسیم صرف تعین وقت کی دیر ہے۔"

گویا عراق کو دو لخت کرنے اور کردستان کی علیحدگی کی سازش کا جال امریکی سینٹ میں منظوری کی صورت میں آج  سے دس سال پہلے ہی بنا جا چکا تھا۔

 اور آج نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ عراق کے شمالی علاقے کردستان جو کہ  عراقی کردستان ریجن کہلاتا  ہے، کی حکومت کے سربراہ مسعود بارزانی باوجود  عراقی عدلیہ کی جانب  سے  اس نام نہاد علیحدگی  ریفرنڈم کے  کالعدم  قرار دیئے جانے، عراق، ایران  اور  ترکی کی حکومتوں کی شدید مخالفت کے، اس   بات پر مصر  ہیں کہ  علیحدگی ریفرنڈ م اپنی مقررہ  تاریخ  یعنی 25 ستمبر  2017  کو  ہر  صورت میں منعقد ہوگا۔ 

ڈیوڈ گولڈ مین کے  الفاظ "کردش یروشلم" پر  غور کیجئے  گا اور حال ہی میں کردستان کے شہر اربیل سے شائع ہونے والے جریدے "اسرائیل۔ کرد"  میں  شائع ہونے والی ایک خبر پر نظر ڈالئے۔ اس جریدے "اسرائیل۔ کرد" کے مطابق (غاصب صیہونی ریاست) اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور کردستان کی علاقائی حکومت کے صدر مسعود بارزانی کے درمیان ایک خفیہ منصوبہ طے پایا ہے جس کے تحت کردستان میں علیحدگی کے ریفرنڈم کے بعد اسرائیل دو لاکھ کرد اسرائیلیوں کو کردستان منتقل کریگا۔

Yeni Akit اور Aksam ترکی کے اخبارات نے بھی اس سازشی منصوبے کی تفصیلات کو اپنے سرورق پر شائع کیا ہے۔ ترکی کی نیوز ویب سائٹ انٹرنیٹ ہیبر نے بھی اس خبر کو شائع کیا ہے اور اپنی شہ سرخی میں لکھا ہے "بارزانی کا کھیل ظاہر ہوگیا

حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور مغربی استعماری ممالک 90 کی دھائی سے عراق، شام اور سوڈان کو توڑنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ سوڈان جو رقبہ کے لحاظ سے اسلامی دنیا کا ہی نہیں افریقہ کا بھی سب سے بڑا ملک تھا، اور تیل و قدرتی وسائل کی دولت سے  مالا مال ہے، اسے عرصہ دراز تک ان استعماری ممالک نے استحصال، نسلی  تصادم، غربت اور  دہشت گردی کا شکار رکھنے کے بعد بالآخر  اپنے  منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے دو لخت  کردیا  اور جنوبی  سوڈان کو علیحدہ  عیسائی ریاست بنا دیا۔

سوڈان میں اربوں ڈالر مالیت کاتیل نکلتا ہے لیکن 80 فیصد تیل کے علاقے جنوبی سوڈان میں ہیں جو اب ایک علیحدہ عیسائی ریاست بن چکی ہے۔

البتہ ان ممالک کا شام  اورعراق کے ٹکڑے کرنے کا خواب محور مقاومت کی وجہ سے بہت کوششوں اور سازشوں کے باوجود شرمندہ تعبیر نہیں ہوپایا۔ اب انہوں نے مسعود بارزانی کو استعمال کرتے ہوئے ایک بار پھر عراق کی تقسیم کی کوششیں تیز کردی  ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل میں بسنے والے پچیاسی لاکھ (85 لاکھ) یہودیوں میں سے دو لاکھ یہودی کرد نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسعود بارزانی کا خاندان جو کہ عراقی کردستان ریجن پر حکومت کر رہا ہے، تاریخی اعتبار سے اس کے تانے بانے اسرائیل سے جڑے ہوئے ہیں۔ مسعود بارزانی کے والد ملا مصطفیٰ بارزانی، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایک اعلیٰ عہدہ دار تھے۔

چنانچہ 1950ء میں اسرائیلی مشیروں نے مسعود بارزانی کے والد مصطفیٰ بارزانی (جنہوں نے کردستان کی علیحدگی کی تحریک شروع کی تھی) کی زبردست مدد کی تھی اور اب وہ ان کے بیٹے مسعود بارزانی کی حمایت اور مدد کررہے ہیں تاکہ 25ستمبر کو ہونے والا ریفرنڈم کامیاب ہوجائے۔

مارچ 1951 میں اسرائیل نے آپریشن ازرا اور نیہیمیا کے ذریعے ہزاروں کرد یہودیوں کو عراق سے اسرائیل منتقل کیا تھا اور امریکہ کی امریکن جیوش جائنٹ ڈسٹریبیوشن کمیٹی نے اس ائر لفٹ آپریشن کی فنڈنگ کی تھی۔

یورپ اور امریکا کی طرف سے بھی بظاہر عراقی کردستان حکومت کے سربراہ مسعود بارزانی کو ریفرنڈم موخر کرنے کا کہا گیا ہے کہ اس سے خطے میں داعش کے خلاف جاری جنگ کو نقصان ہوگا، تاہم اندرونِ خانہ یہ ریفرنڈم امریکا اور خاص طور پر اسرائیل کی ایماء اور آشیرباد سے ہی ہورہا ہے۔

جس کا اندازہ مسعود بارزانی کی 2005 میں جارج بش اور بعد ازاں اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما سے ہونے والی کئی ملاقاتوں، مسعود بارزانی کے اس بیان کہ "امریکا کو کردستان کی آزادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے" اور 16 اگست2017 کو غاصب صیہوںی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے ایک بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے نہ صرف کردستان ریفرنڈم کی بھر پور حمایت کی بلکہ امریکا سے بھی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کردوں اور ہمارے درمیان کئی چیزوں میں اشتراک ہے۔

اسرائیلی سیاسی تجزیہ نگار ایوگڈرسکن (جو عبرانی زبان میں اسرائیل سے نکلنے والے ایک اخبار کے ایڈیٹر ہیں) کے مطابق "کردستان ریفرنڈم کا دنیا میں سب سے زیادہ پرجوش حامی اسرائیل ہے اور 25ستمبر کو ہونے والے اس ریفرنڈم سے مشرق وسطیٰ کی ری میپنگ (نیا نقشہ وجود میں آنا) ہوگی۔"

ایوگڈر سکن کے مطابق "اسرائیل کردستان کی آزادی کا حامی آج سے نہیں ہے بلکہ ماضی سے اسرائیل کردستان کی آزادی کا حامی رہا ہے۔"

اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ایک سابق ڈائرکٹر جنرل نے ایک ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئی کہا کہ "اسرائیل۔عرب جنگ کے بعد اسرائیل مشرق وسطیٰ میں اپنے نئے اتحادی تلاش کرنے لگا تھا اس وقت سے اسرائیل کردستان کی آزادی کی حمایت کرتا آرہا ہے۔"

عراقی کردستان ریجن سمیت مختلف ممالک میں بسنے والے مسعود بارزانی کے کرد حامیوں نے کردستان ریفرنڈم کے حوالے سے ریلیاں نکالیں جس میں کرد جھنڈے کے ساتھ اسرائیلی جھنڈا بھی ریلی میں شریک لوگوں کے ہاتھوں میں نظر آرہا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسعود بارزانی، جن کو عراق سے آزادی کے اس نام نہاد سازشی ریفرنڈم میں اب تک اعلانیہ طور پر صرف اسرائیل کی مدد حاصل ہے، ان دو لاکھ کرد اسرائیلیوں کے ذریعے اپنے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتے ہیں جو اسرائیل میں حکومتی پوزیشنز پر براجمان ہیں۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف)  کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف، یائر گولان نے واشنگٹن میں 10 ستمبر 2017 کو کردستان علیحدگی پسند پارٹی (پی کے کے)  کے حق میں، جنہوں نے گذشتہ تین عشروں سے شورش برپا کررکھی ہے اور جسے بین الاقوامی طور پر ایک دھشت گرد تنظیم تسلیم کیا جاچکا ہے، بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھشت گرد تنظیم نہیں ہے۔ 

اگرچہ عراقی عدالت نے کردستان کی آزادی کے ریفرنڈم کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور عراق کی پارلیمان سمیت تمام سیاسی جماعتوں نیز ایران اور ترکی کی حکومتوں نے اس سازشی ریفرنڈم کی مخالفت کردی ہے، تاہم مسعود بارزانی ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے اسرائیلی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر مصر ہیں کہ ریفرنڈم اپنی مقررہ تاریخ 25 ستمبر 2017 کو ضرور ہوگا۔

اب سوال یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکا کیوں کردستان کی آزادی کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں؟

نیز غور طلب بات یہ بھی ہے کہ ریفرنڈم کا یہ سلسلہ اسلامی ممالک میں ہی کیوں چل نکلاہے؟

آخر کیا وجہ ہے کہ سکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم کامیاب نہیں ہوتا، مگرمشرقی تیمور سے لے کر جنوبی سوڈان تک یہ ریفرنڈم کامیاب ہوجاتا ہے؟

سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ یہ ریفرنڈم عراقی کردستان میں تو کروانے کی بھر پور حمایت کی جارہی ہے، جہاں کردوں کو ہر قسم کی آزادی ہے اور کردستان ریجن میں ان کی اپنی حکومت ہے، اور انہیں عراق، شام اور ایران میں برابر کے حقوق حاصل ہیں، مگر مقبوضہ کشمیر میں 70 سال کے ظلم وستم کے باوجود عالمی امن کے ٹھیکیداروں کی طرف سے کوئی فیصلہ کن آواز اٹھائی جاتی ہے نہ ظلم و جبر سے آزاد کروانے کے لیے کسی ریفرنڈم کی حمایت کی جاتی ہے۔

 بہتر ہے کہ ایک مختصر سا جائزہ کردستان اور کردوں کی تاریخ پر ڈالا جائے۔

کردوں کی تاریخ تقریبا 2 ہزار سال پرانی ہے۔ کرد دراصل مشرق وسطیٰ کے شمال میں رہتے ہیں۔ کردوں کی کل تعداد30 سے 45 ملین کے لگ بھگ ہے، جن میں سے 25 فیصد کرد ترکی، 16 فیصد ایران، 15فیصد عراق اور 6 فیصد شام میں رہتے ہیں، جب کہ لبنان، آرمینیا، اسرائیل، کویت اور یورپ سمیت دنیا بھر کے30 مختلف ممالک میں بھی کردوں کی کثیر تعداد رہائش پذیرہے۔ کرد اکثریت سنی مسلم ہیں، جب کہ شیعہ کردوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جن کی اکثریت اسلامی جمہوری ایران میں رہائش پذیر ہے۔ اور جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ دو لاکھ یہودی کرد اسرائیل میں بھی رہائش پذیر ہیں جنہیں اسرائیل کردستان منتقل کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ عراق، ایران اور شام کی سرحدوں سے جڑے ہوئے اس علاقے میں ایک اور اسرائیل کی بنیاد رکھی جا سکے۔

کردستان کے نام سے اب تک دنیا میں کوئی علیحدہ ملک موجود نہیں ہے۔ خلافت عثمانیہ کے سقوط تک کردعلاقہ جات خلافت عثمانیہ کے ماتحت تھے۔ خلافت عثمانیہ کی بندر بانٹ کے بعد کرد علاقہ جات ترکی، شام، عراق وغیرہ میں تقسیم کردیے گئے۔  عراق میں کردستان ریجن کے نام سے 1970 میں اس علاقے کو خودمختار صوبہ کا درجہ ملا، امریکہ عراق جنگ کے بعد 2005 میں عراقی دستور میں تبدیلی کی گئی اور کردستان صوبے کو خودمختار ریجنل حکومت بنانے کا اختیار دیدیا گیا جس کے سربراہ مسعود بارزانی ہیں۔

اب اسی خودمختار حکومت کے ماتحت علاقوں میں آزاد کردستان کے لیے بارزانی 25 ستمبر کوریفرنڈم کرانے پر بضد ہیں۔

عراقی کردستان کا کل رقبہ 78736 اسکوائر کلومیٹر ہے جہاں ساڑھے پانچ ملین کے قریب لوگ آباد ہیں۔ کردستان کا یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے جہاں دریا، جھیلیں، پہاڑ،  تیل اور معدنیا ت کے بے شمار ذخائر ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہاں 45بلین بیرل سے زائد تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کرد گورنمنٹ کے مطابق یہاں گیس کے ذخائر بھی بے شمار ہیں۔

جہاں تک بات ہے عالمی غارت گروں اور استعماری ممالک کی تو انہوں  نے 1923 میں کنگڈم آف کردستان کے نام سے عراق، ایران، شام اور ترکی کی سرحدوں کے ساتھ علیحدہ ریاست کا نقشہ پیش کردیا تھا، جسے اب تک ان  ممالک کے احتجاج اور مزاحمت کی وجہ سے عملی جامہ نہ پہنایا جاسکا۔

 گریٹر کردستان کی اصطلاح بھی عالمی استعمار گروں نے رکھی جس کی وجہ سے اب تک کئی خون ریز جنگیں اور جھڑپیں ہوچکی ہیں۔

چنانچہ عراق کے خلاف کرد باغیوں کی پیش قدمی کے بعد زبردست جنگ ہوئی جس میں لگ بھگ دو لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے۔ یہی حال ترکی میں پی کے کے کی شورشوں سے ہوا۔

در حقیقت  پی۔ کے۔ کے کا گریٹر کردستان منصوبہ گریٹر اسرائیل منصوبے کی ایک کڑی ہے جس کے لیے پلاننگ سوسال پہلے کرلی گئی تھی۔

اسی سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ اسرائیل کردستان کی علیحدگی کے لیے اتنے پر کیوں ماررہا ہے۔ عراق اور شام میں القائدہ اور داعش کا ڈرامہ رچانے اور دھشت گردی کا بازار گرم کرنے کے پیچھے بھی اصل ہدف یہی تھا کہ کسی طرح مشرق وسطیٰ کے معدنیات اور تیل سے مالامال اور انتہائی اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل خطوں کو انتشار اور خلفشار میں الجھا کر ان پر قبضہ جمایا جائے اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو آگے بڑھایا جائے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عراقی کردستان ریجن کے سربراہ مسعود بارزانی کی جانب سے پچیس ستمبر کو ریفرنڈم کے انعقاد پر اصرار کے بعد عراقی حکومت اور ملک کی سیاسی جماعتوں نیز اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی کی حکومتوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

عراقی نائب صدرنوری المالکی نے بیان دیا ہے کہ کردستان کو دوسرا اسرائیل نہیں بننے دیں گے۔ البدر کے جنرل سیکریٹری ہادی العامری کا کہنا ہے کہ کردستان ریجن میں علیحدگی کے ریفرنڈم کے نتیجے میں ملک خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کردستان ریجن کے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ ریفرنڈم کے بجائے معاملات کو حل کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے ساتھ ٹھوس مذاکرات کا آغاز کریں۔ ہادی العامری نے یہ بھی کہا کہ بغداد حکومت ملک کی تقسیم کے حق میں نہیں ہے اور اگر نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کی جائے تو معاملات حل ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب عراقی نیشنل کانگریس نے بھی اپنے ایک بیان میں متعلقہ فریقوں سے اپیل کی ہے وہ مسائل اور اختلافات کے حل کے لیے تعمیری مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

 نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلامی جمہوری ایران، ترکی اور عراق کے وزرائے خارجہ نے کردستان ریفرنڈم کے خلاف مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس ریفرنڈم کو خطے کے لئے خطرناک قرار دیا ہے اور اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ علیحدگی ریفرنڈم کے حوالے سے پیش رفت جاری رکھنے کی صورت میں کردستان کے خلاف اقدامات زیرِ غور آئیں گے۔

 ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھی عراقی کردوں سے ریفرنڈم سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے نیز عراقی پارلیمان نے بھی اس علیحدگی ریفرنڈم کی تجویز کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔

اس سے قبل عراقی وزیراعظم حیدر العبادی بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر اربیل حکومت نے ریفرنڈم کے نتائج نافذ کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور ریفرنڈم کے نتائج دیگر نسلی قومیتوں کے لیے انارکی اور انتشار کا باعث بنے تو بغداد حکومت کردستان ریجن کے خلاف عسکری مداخلت کر سکتی ہے۔

 واضح رہے کہ عالمی برادری کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات کا ابھی تک کردستان ریجن کی قیادت پر کوئی اثر نظر نہیں آرہا ہے۔ کردستان ریجن کے صدر مسعود بارزانی اس بات پر مصر ہیں کہ وہ آزاد کردستان کے لیے اعلان کردہ ریفرنڈم کو اپنی مقررہ تاریخ پر کرائیں گے۔

بارزانی پر امید ہیں کہ وہ امریکہ میں موجود با اثر یہودی لابیوں اور اسرائیلی حکومت کی بیساکھیوں کے سہارے عراق کو دو لخت کرکے آزاد کردستان کے قیام میں کامیاب ہوجائیں گے۔ جس کے بعد اسرائیل سے دو لاکھ کرد یہودی یہاں منتقل ہوجائیں گے جن سے ان کی حکومت کو استحکام ملے گا اور اس سلسلے میں ان کی امید کے تمام ڈورے اسرائیلی وزیراعظم کے دامن سے جڑے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب اسرائیل اور امریکہ میں موجود طاقتور یہودی لابیاں کردستان کے ساتھ ہیں تو پھر ہمارے خلاف کون کھڑا ہوسکتا ہے؟

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری