تصاویر/

پنجاب اور کے پی کے حکومتوں میں کیا فرق ہے؟ جانئے اس رپورٹ میں

خبر کا کوڈ: 1528700 خدمت: اسلامی بیداری
سپاہ صحابہ

اگرچہ حکومت پنجاب نے کالعدم تنظیم کو ریلی کی اجازت نہیں دی لیکن دوسری جانب ایک شیعہ خاتون کیخلاف چاردیواری کے اندر مجلس عزاء بپا کرنے پر مقدمہ درج کرلیا گیا تاہم دوسری جانب کے پی کے حکومت نے بچی کچی کسر پوری کرکے سپاہ صحابہ کو یوم حضرت عمر فاروق رض کے سلسلے میں ریلی نکالنے کی اجازت دی اور ساتھ سیکورٹی بھی فراہم کی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق دنیا کے دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں یوم وفات حضرت عمر فاروق رض کے سلسلے میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ سڑکوں پر نکل آئے اور مطالبہ کیا کہ یوم وفات حضرت عمر فاروق جو کہ بقول اس تنظیم کے رہنماوں کے، پہلی محرم الحرام ہے، عام تعطیل کا اعلان کیا جائے۔

اگرچہ کالعدم تنظیم کے حضرت عمر فاروق رض کی وفات کے حوالے سے یہ دعویٰ اہلسنت اور اہل تشیع دونوں کے نزدیک مستند نہیں اور اس رپورٹ میں بھی اس مسئلے پر بحث کرنے کی گنجائش نہیں تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس اسلامی ملک میں چاردیواری کے اندر نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس عزاء برپا کرنے کیلئے حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے اسی ملک میں اسی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم کو کھلے عام ریلیاں نکالنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اہل تشیع حضرات کے بقول؛ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

واضح رہے راولپنڈی پولیس نے اپنے گھر میں نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کے ذکر کیلئے مجلس برپا کرنے پر چکری روڈ کی رہائشی سیدہ نصرت زہرہ کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ کیونکہ سیدہ نصرت کے گھر کے عقب میں مکتب دیوبند کی ایک مسجد ہے اور اس مسجد کی انتظامیہ کو اس مجلس عزا پر اعتراض تھا اور تھانے میں پہلے سے شکایت بھی درج کروا رکھی تھی، جبکہ بانی مجلس کی جانب سے گھر میں مجلس کی اجازت بھی نہیں لی گئی تھی، اس لئے نصرت زہرہ کیخلاف دفعہ 153 اے کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔

جبکہ دوسری جانب کالعدم سپاہ صحابہ کے کارندے کھلے عام پشاور میں ریلیاں نکالتے ہیں اور حکومت کی جانب سے انہیں سیکورٹی بھی فراہم کی جاتی ہے۔

تصاویر ملاحظہ فرمائیں؛

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری