ایران نے فضائی جبکہ ترکی نے شمالی عراق (کردستان) کے ساتھ اپنی زمینی سرحدیں بھی بند کر دیں

خبر کا کوڈ: 1529333 خدمت: دنیا
رفراندوم کردستان عراق

شمالی عراقی انتظامیہ کی خود مختاری کےلیے ہونے والے ریفرنڈم کے جواز میں ایران نے فضائی جبکہ ترکی نے کردستان سے ملحقہ اپنی سرحدوں کو بند کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق شمالی عراقی انتظامیہ کی خود مختاری کےلیے  ہونے والے ریفرنڈم کے جواز میں  ترکی نے شمالی عراق سے ملحقہ اپنی سرحد کو بند کر دیا ہے۔

 شمالی عراقی لیڈر مسعود بارزانی نے امید ظاہر کی تھی کہ ترکی ہمارے ساتھ اپنی سرحد بند نہیں کرے گا جس نے عالمی دباو کے باوجود ریفرنڈم منعقد کروانے پر اصرار جاری رکھا   ہوا ہے جس کے لیے رائے دہی آج شروع  ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ شمالی عراق کی درآمدات کا 70 فیصد ترکی کے راستے پورا  ہوتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی عراقی کردستان کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردی ہے۔

واضح رہے کہ عراق نے کردستان علاقے کیساتھ ملحقہ سرحدوں کی بندش کا مطالبہ کیا۔

حکومت عراق نے کردستان کے حکام کی جانب سے ریفرنڈم کے انعقاد کو منسوخ نہ کرنے کے ردعمل میں ہمسایہ ممالک اور دنیا سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ وہ کردستان کے علاقے سے ملحقہ زمینی اور فضائی سرحدوں کو بند کریں۔

خیال رہے کہ عراقی علاقے کُردستان کے حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ آج بروز 25 ستمبر اس خطے میں ریفرنڈم کا انعقاد کیا جائے.

عراقی حکومت نے اس سے پہلے اعلان کردیا ہے کہ کُردستان میں ریفرنڈم غیرقانونی ہے اور حکومت اس کے نتائج کی پابندی نہیں کرے گی.

تفصیلات کے مطابق عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی سربراہی میں قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس کے اختتام میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کردستان تمام سرحدی اور ہوائی اڈوں سے متعلق محکموں کے اختیارات کو مرکزی حکومت بغداد کو واپس دے.

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری