رواں سال بھی قرضہ نہیں لیا گیا تو ملک دیوالیہ ہوسکتا ہے، پاکستان اکانومی واچ

خبر کا کوڈ: 1530088 خدمت: پاکستان
پاکستان اکانومی واچ

پاکستان اکانومی واچ کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ رواں سال قرضہ نہیں لیا گیا تو ملک دیوالیہ ہوسکتا ہے جس سے بچنے کے لیے حکومت مزید اربوں ڈالر کے قرضے لے گی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستان اکانومی واچ کے نائب صدر کاشف اقبال نے کہا ہے کہ رواں سال قرضہ نہیں لیا گیا تو ملک دیوالیہ ہوسکتا ہے جس سے بچنے کے لیے حکومت مزید اربوں ڈالر کے قرضے لے گی۔

اس بات کا انکشاف انہوں نے اپنے ایک بیان میں کیا، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اور ان کی ٹیم نے عوام کو اقتصادی ترقی کا دھوکا دے کر معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

نائب صدر پاکستان اکانومی واچ کا کہنا تھا کہ حالیہ قیادت نے ملک پر قرضوں کے بوجھ میں بے پناہ اضافہ کیا ہے جس کے باعث حالات اس نہج تک پہنچ گئے ہیں کہ اگر آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر قرضے نہیں لیے گئے تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔

کاشف اقبال نے کہا کہ حکمرانوں نے اپنے اثاثوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا لیکن ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے کوئی کام نہیں کرسکی ہے چنانچہ ملک کی مالی حالت دگر گوں ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کی نا اہل اکنامک ٹیم نے چند سال میں مختلف ذرائع سے 35 ارب ڈالر کے غیرملکی قرضے لیے مگر قوم ان کے ثمرات سے محروم رہی جب کہ وزیر خزانہ کے اثاثوں میں 91 گنا اضافہ ہوا جب کہ دیگر بہت سے سیاست دانوں نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔

پاکستان اکانومی واچ کے نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ کرپشن عام ہو گئی ہے جس کی روک تھام کے لیے احتساب کا عمل صرف مخالفین کا ہوتا ہے جس نے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی کے لیے کرپشن کا خاتمہ، منافع بخش ادارے کوڑیوں کے مول اپنے دوستوں کے حوالے کیے جانے اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی فروخت کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری