نواز شریف: جب قانونی ماہرین نے نااہلی کا فیصلہ مسترد کردیا تو میں کیسے مانوں ؟

خبر کا کوڈ: 1531150 خدمت: پاکستان
نواز شریف

سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دئے جانے والے سابق پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ قانونی ماہرین کی جانب سے نااہلی کا فیصلہ مسترد کردیا گیا ہے تو میں اسے کیسے تسلیم کرلوں اور اگر فیصلوں کی ساکھ نہ رہے تو عدالتوں کی ساکھ بھی نہیں رہتی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاناما ملکی تاریخ کا پہلا کیس ہے جس میں دفاع کرنے والے کے تمام حقوق سلب کرلیے گئے اور عدل و قانون کا پورا وزن درخواست گزار کے پلڑے میں ڈال دیا گیا، ان مقدمات نے سیاسی انتقام کی کوکھ سے جنم لیا، چونکہ عدلیہ نے مجھے بہرصورت نااہل کرنا تھا اس لیے اقامہ کی آڑ لے گئی، کیا ایسا ہوتا ہے انصاف، کیا قانون کی پاسداری اور فیئر ٹرائل یہی ہے، جانتا ہوں اصل جرم کیا ہے لیکن عوام کے ساتھ کھڑا رہوں گا، عوام کا حق حکمرانی تسلیم نہ کرنے پر پاکستان دولخت ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز نے سابق وزیراعظم کے حوالے سے کہا ہے کہ انصاف کے عمل کو انتقام کا عمل بنادیا جائے تو پہلی سزا کسی فرد کو نہیں بلکہ عدالت کو ملتی ہے، فیصلوں کی ساکھ نہ رہے تو عدالتوں کی ساکھ بھی نہیں رہتی، تمیزالدین سے نواز شریف تک تاریخ ایسے فیصلوں سے بھری ہے جن پر ندامت ہوتی ہے،  70 سالہ پرانے کینسر کا علاج تجویز کرنے کا وقت آگیا ورنہ پاکستان خدانخواستہ کسی سانحے کا شکار نہ ہوجائے، میں جھوٹ پر مبنی بے بنیاد مقدمے لڑ رہا ہوں اور سزا پارہا ہوں، میں اور میرے بچے ان ہیروں سے بنی جے آئی ٹی میں پیش ہوئے جنہیں واٹس ایپ کالوں سے چنا گیا جب کہ بعض ہیروں کے خلاف تو خود انکوائریاں چل رہی تھیں اور اب یہ ہیرے مقدس مخلوق بن گئے ہیں جن کے خلاف سپریم کورٹ بھی کوئی کارروائی نہیں کرسکتی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ عدالت نے پہلے پٹیشن کو فضول اور ناکارہ قرار دیا، پھر مقدمے کی سماعت شروع کی، ثبوت نہ ملا تو پراسرار طریقے سے جے آئی ٹی بنائی اور پھر اس کی نگرانی بھی سنبھال لی، پھر کبھی 5 اور کبھی 3 ججز کے ساتھ فیصلے بھی دے دیے، نیب کو حکم دیا کہ سارے ضابطے توڑ کر براہ راست ریفرنس دائر کرو اور پھر اسی عدالت نے نیب کا کنٹرول بھی سنبھال لیا اور احتساب کورٹ کی نگراں بھی بن گئی اور اب یہی عدالت میری آخری اپیل بھی سنے گی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ پہلے بھی قانون و انصاف کے عمل سے گزرا اب بھی گزر رہا ہوں، پہلے اور اب میں فرق یہ ہے کہ پہلے آمریت تھی لیکن اب جمہوری دور ہے، آمر کے دور میں 2 اپیلوں کا حق حاصل تھا مگر آج اس سے بھی محروم کردیا گیا، ہم قانون کی عملداری پر یقین رکھتے ہیں، ہم نے جائز اور ناجائز سب تسلیم کیا لیکن ملک میں ہر صورت قانون کی پاسداری اور انصاف ہونا چاہیے، قانون کی بالادستی نہ ہونے سے اداروں میں تصادم کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، حالات کی سنگینی کا سامنا پہلے بھی کیا اور اب بھی کررہا ہوں۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ میں میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتا ہوں، صحافیوں پر تشدد کی مذمت کرتا ہوں، احتساب عدالت میں پیشی کے وقت ناخوشگوار واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا، آمریت کے دور کے پٹے ہوئے مقدمات کو میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے، نشانہ میری ذات اور میرا خاندان ہے لیکن سزا پوری قوم کو اور ان کی نسلوں کو دی جارہی ہے،  میرا ضمیر اور دامن صاف ہے، عوام میرے ساتھ کھڑے ہیں، امید ہے کہ کہیں نہ کہیں انصاف زندہ ضرور ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اہلیہ کلثوم نواز کی بیماری کی وجہ سے ہنگامی طور پر لندن جانا پڑا، افسوس ہوا ہے کہ الزامات اور جھوٹ کی سیاست کرنے والوں نے طرح طرح کی کہانیاں بنائیں، حالات کی سنگینی کا سامنا کیا پہلے بھی کیا اور اب بھی کر رہا ہوں، 10 سال پہلے بھی ہر طرح کی دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اسی پی آئی اے کی 786 فلائٹ سے پاکستان آیا تھا لیکن مجھے ملک بدر کردیا گیا، عدالتی توہین کا مقدمہ آج بھی کسی عدالتی الماری میں پڑا ہوگا، عدالتی عمل سے فرار ہمارا طریقہ نہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ آمریت کے دور کے پٹے ہوئے مقدمات کو میرے خلاف استعمال کرتے ہوئے انصاف اور قانون کے تقاضوں کو پامال کیا جارہا ہے، مجھے پر ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، کم از کم یہ اعتراف ہی کرلیا جاتا کہ آپ کو پاناما میں سزا نہیں دی جاسکتی اس لیے اقامہ کو نااہلی کی بنیاد بنایا گیا، ایسے فیصلوں میں سزائیں تو مل جاتی ہیں لیکن کوئی تسلیم نہیں کرتا، ہم کیسے اس فیصلے پر ایمان لے آئیں، ایسے فیصلوں کو عوامی عدالت مسترد کردیتی ہے۔ عوام نے این اے 120 میں فیصلہ سنایا اور اگلا فیصلہ 2018 میں آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اس کی راہ پر چلنے دو اور اہلیت و نااہلی کے فیصلے 20 کروڑ عوام کو کرنے دو، میں نے سب سے بڑا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو قائداعظم کے پاکستان، 20 کروڑ عوام کے حق حکمرانی اور 70 برس میں نشانہ بننے والے وزرائے اعظم کا مقدمہ ہے، میں یہ مقدمہ لڑتا رہوں گا، یقیں ہے کہ آخری فتح ملک و قوم کی ہوگی، ترقی کرتے جمہوری پاکستان کو تماشہ بنادیا گیا ہے، خدارا ملک کو آئین کے مطابق چلنے دو، اگر آئین عوام کو حکمرانی کا حق دیتا ہے تو اس کو تسلیم کرو 70 سال میں پاکستان میں یہی ہوتا آیا ہے اور اسی کھیل نے پاکستان کو دولخت کردیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری