سعودی عرب میں دہائیوں سے حرام فعل 2018 کے بعد حلال ہوگا

سعودی مفتیوں کے نزدیک خواتین کا گاڑی چلانا حرام فعل سمجھا جاتا تھا لیکن تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس ملک نے خواتین کے بنیادی حقوق میں سے ایک "ڈرائیونگ" کو 2018 کے بعد حلال قرار دیدیا ہے۔

سعودی عرب میں دہائیوں سے حرام فعل 2018 کے بعد حلال ہوگا

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سعودی حکومت نے ملک میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دے دی ہے جس کے مطابق اب سعودی خواتین اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرسکیں گے۔ خواتین کو ڈرائیونگ کے لئے فوری طور پر لائسنس جاری کئے جائیں گے۔

خواتین کو ڈرائیونگ کے اجازت نامے کے حکم پر شاہ سلمان نے دستخط کر دئیے ہیں۔ شاہ کے دستخطوں کے بعد یہ حکمنامہ فوری طور پر رائج ہو جائے گا۔

خواتین اگلے سال جون 2018ءتک ڈرائیونگ کر سکیں گی۔ غیر جانبدار تجزیہ کاروں کے مطابق خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت تو مل گئی ہے مگر سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کے حوالے سے کوئی نظام موجود نہیں ہے، اس وجہ سے خواتین فوری طور پر ڈرائیونگ نہیں کرسکیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ڈرائیونگ کی اجازت نہ ملنے پر خواتین کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا، وہ گھروں سے باہر سفر کرنے کے لئے ”اوبر“ اور ”کریم“ جیسی ٹیکسی سروسز کا سہارا لیتی تھیں، سعودی خواتین نے ڈرائیونگ کی اجازت کے لئے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے جس کے دوران کئی خواتین کو جیلوں میں ڈالا گیا اور انہیں سزائیں بھی دی گئی تھیں۔

تاہم سعودی حکام نے اب ڈرائیونگ کو حلال قرار دیکر خواتین کیلئے اس فعل کی اجازت دیدی ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری