نواز شریف 3 اکتوبر کو دوبارہ مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوجائیں گے

خبر کا کوڈ: 1533574 خدمت: پاکستان
نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو باضابطہ طور پر دوبارہ پارٹی کا صدر منتخب کرنے کے لیے 2 اور 3 اکتوبر کو پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس بلا لیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹری جنرل مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف پارٹی کے دوبارہ صدر منتخب ہونے تک لندن روانہ نہیں ہوں گے۔

ڈان نیوز نے ان کے حوالے سے مزید کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ اور جنرل کونسل کے علیحدہ علیحدہ اجلاس بلائے گئے ہیں جس میں پارٹی قیادت کو منتخب کرنے کے لیے 1600 اراکین حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

اس سے قبل یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ نواز شریف اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے جمعرات (28 ستمبر) کو لندن واپس روانہ ہو جائیں گے جو کینسر کے علاج لیے لندن کے ایک نجی ہسپتال میں داخل ہیں۔

تاہم بیگم کلثوم نواز کی حالت اب بہتر ہے اور انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔

مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی حالت بہتر ہونے کے بعد اب میاں نواز شریف 3 اکتوبر سے قبل لندن روانہ نہیں ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ 2 اکتوبر کو اسلام آباد کنونشن سینٹر میں پارٹی کی جنرل کونسل کا اجلاس منعقد کیا جائے گا جبکہ اس سے قبل پارٹی کے آئین میں تبدیلی کے لیے مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی کی جنرل کونسل کے اجلاس کا دوسرا سیشن 3 اکتوبر کو منعقد کیا جائے گا جس میں پارٹی کے صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔

مشاہد اللہ خان نے بتایا کہ نواز شریف کو پارٹی کی صدارت سے روکنے والے تمام عوامل کو ختم کر دیا جائے گا اور وہ 3 اکتوبر دوبارہ پارٹی کے صدر منتخب ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ رواں برس 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نا اہل قرار دے دیا تھا۔

ریپریزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ 1976 کے تحت پارلیمنٹ سے نا اہل قرار دیا جانے والا فرد کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ بننے کا اہل نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کے بعد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سردار محمد یعقوب خان، مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ریپریزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ 1976 کی ان رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے انتخابی اصلاحات بل 2017 رواں برس 22 اگست کو قومی اسمبلی کی جانب سے پاس کیا گیا جبکہ 22 ستمبر کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اسے سینیٹ نے پاس کیا۔

تاہم نئے قانون کا مسودہ جاری کرنے کے لیے یہ بل اب ایوانِ زیریں میں موجود ہے، جس کے مطابق اب پارلیمنٹ سے نااہل فرد سیاسی جماعت کا سربراہ بننے کا اہل ہوگا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری