تاریخ کربلا کو سامنے رکھ کر حق و باطل میں فرق دیکھا جا سکتا ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری

خبر کا کوڈ: 1533758 خدمت: پاکستان
طاہر القادری

پیغام امام حسین علیہ السلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس نظام ظلم و جبر کیخلاف حق کا علم بلند کیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کے بانی و سرپرست ڈاکٹرطاہر القادری نے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ ’’پیغام امام حسین علیہ السلام کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ کربلا 2 فلسفوں کا ٹکراؤ ہے، ایک طبقہ کہتا ہے طاقت ہی حق ہے اس کا ساتھ دو جبکہ دوسرا طبقہ کہتا ہے حق ہی طاقت ہے اس کا ساتھ دو، طاقت کو حق ماننا یزیدیت اور حق کو طاقت ماننا حسینیت ہے، معرکہ کربلا انسانیت اور بربریت، امانت اور خیانت، عدل اور ظلم، صبر اور جبر، وفا اور جفا، مساوات ایمانی اور مطلق العنانی کے درمیان جنگ تھی، یزید ظلم و جبر، آمریت، سفاکیت، خیانت، مطلق العنانیت اور کرپشن کا بانی تھا، حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس نظام ظلم و جبر کیخلاف حق کا علم بلند کیا۔

انہوں نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یزید نے سیاسی، مالی، اخلاقی 3 طرح کی کرپشن کی بنیاد رکھی، سیاسی کرپشن کے تحت نظام خلافت کو ملوکیت میں بدل کر اسے پامال کیا۔ مالی کرپشن کے تحت قومی خزانے کو اپنی عیاشیوں اورشہنشانہ انداز حکمرانی پر صرف کیا۔ اخلاقی کرپشن کے تحت دینی اقدار کو پامال کیا۔ پوری ریاست کو اپنی حرص و ہوس کی بھینٹ چڑھایا، دین کے اصولوں، احکام شریعت، عدل و انصاف، نظام احتساب کو ریاستی ظلم و جبر کے ذریعے ختم کر دیا اور ہر قسم کی کرپشن اور بربریت کو ریاستی دہشتگردی کے ذریعے تحفظ دیا۔

انہوں نے کہا کہ یزید کے نظام جبر اور ملوکیت کے تحت 3 طبقات وجود میں آئے۔ ایک طبقہ اپنے ذاتی چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر یزیدی نظام کا تابعدار اور مددگار بن گیا۔ دوسرا طبقہ عامۃ المسلمین کا تھا یہ کمزور لوگ تھے جنہوں نے رخصت، خاموشی اور مصلحت کا راستہ اپنا لیا، یہ طبقہ یزیدی نظام جبر کا حامی تھا اور نہ اس نظام ظلم کیخلاف باہر نکلا، اس طبقے نے خاموشی اور عافیت کا راستہ اپنایا۔ تیسرے طبقے کا عنوان امام حسین علیہ السلام تھا اور اس نے راہ عزیمت کو اختیار کیا۔ پیغمبرانہ سنت اور خلفائے راشدین کے طریق اور طرز حیات کو زندہ کیا، یہ طبقہ شہید ہو گیا مگر اسلام کے آفاقی اصولوں کو ہمیشہ کیلئے زندہ کر گیا۔ انہوں نے کہا کہ 14 سو سال گزر جانے کے بعد آج بھی یہی دو فلسفے اور تین طبقے ہیں جن کے درمیان جنگ اور جدوجہد جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق طاقت ہے یہی حسینیت ہے اور طاقت حق ہے اس فلسفے کو یزیدیت کہتے ہیں، کون حق پر ہے اور کون ظلم و جبر پر مبنی نظام طاقت پر ہے یہ پرکھنے کیلئے تاریخ کربلا کو سامنے رکھ لیا جائے تو کھرے اور کھوٹے کا فرق سامنے آجائیگا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری