حافظ سعید کا وزیر خارجہ کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس

خبر کا کوڈ: 1533781 خدمت: پاکستان
حافظ سعید

کالعدم جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید نے توہین آمیز بیان پر وزیر خارجہ خواجہ آصف کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا۔ حافظ سعید کی جانب سے خواجہ آصف کو ہرجانے کا نوٹس ان کی قانونی ٹیم نے بھیجا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خواجہ آصف نے نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان پر حقانی نیٹ ورک، حافظ سعید اور دیگر دہشت گردوں کو تحفظ دینے کا الزام نہ لگایا جائے، یہ وہ لوگ ہیں جو 20 سے 25 سال قبل کبھی امریکا کے لاڈلے تھے اور وائٹ ہاؤس میں دعوتیں اڑایا کرتے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ کہنا بہت آسان ہے کہ پاکستان حقانی اور حافظ سعید کو تحفظ فراہم کررہا ہے، ’پاکستان پر طالبان کی سرپرستی کا الزام نہ لگایا جائے۔‘

ایڈووکیٹ اے کے ڈوگر کی جانب سے وزیر خارجہ کو ہتک عزت کے آرڈیننس 2002 کے سیکشن 8 تحت بھجوائے نوٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’حافظ سعید کی ایک مذہبی رہنما اور عقیدت مند مسلمان کی حیثیت سے عزت کی جاتی ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت انسانی عظمت کی ضمانت دی گئی ہے۔‘

نوٹس میں خواجہ آصف پر الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’یہ بات انتہائی غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے کہ حافظ سعید ان لوگوں میں شامل ہیں جو امریکا کے لاڈلے ہوا کرتے تھے اور وائٹ ہاؤس میں دعوتیں اڑاتے تھے۔‘

نوٹس میں کہا گیا کہ ’حافظ سعید کبھی امریکا کے قریب نہیں رہے اور یہ انتہائی چونکانے والی بات ہے کہ وزیر خارجہ نے امیر جماعت الدعوۃ پر شراب پینے کا الزام لگایا، یہ بیان توہین آمیز ہے جس پر پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 500 کے تحت 5 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔‘

قانونی ٹیم کی جانب سے کہا گیا کہ ’شراب نوشی کا الزام لگانے سے حافظ سعید کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور انہیں دوسروں کی نظر میں گرانے کی کوشش کی گئی، لہٰذا 14 روز کے اندر خواجہ آصف الزامات کا ثبوت پیش کریں ورنہ پاکستان اور بیرون ملک حافظ سعید کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ان کے خلاف 10 کروڑ ہرجانے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

واضح رہے کہ حافظ سعید کو رواں سال کے اوائل میں لاہور کے جوہر ٹاؤن میں موجود ان کے گھر میں نظربند کردیا گیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے ان کی نظربندی کو ’پالیسی فیصلہ‘ قرار دیا گیا۔

حافظ سعید کی نظربندی کے ساتھ ہی جماعت الدعوۃ کے خلاف کریک ڈاؤن کا بھی آغاز کردیا گیا اور لاہور کی سڑکوں پر لگے جماعت الدعوۃ کے بینرز اتار دیئے گئے تھے۔

امیر جماعت الدعوۃ کی نظربندی میں کئی بار توسیع بھی کی جاچکی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری