حکومت پاکستان کی جانب سے پاک ایران گیس پائپ لائن کی منسوخی کا انکشاف

خبر کا کوڈ: 1533786 خدمت: ایران
خط لوله گاز صلح

وزارت توانائی کی پٹرولیم ڈویژن میں کام کرنے والے ایک اعلیٰ افسر نے دی نیوز کو انکشاف کیا ہے کہ ایران نے اس بات پر غصے اور شدیدتحفظات کااظہار کیاہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے گیس پائپ لائن کو ختم کردیاگیاہے اور گیس کی خریدوفروخت کےمعاہدے (جی ایس پی اے) پر نظر ثانی کیلئے گزشتہ ڈیڑھ سال کےدوران اسلام آبادکےکسی بھی وفدنے تہران کا دورہ نہیں کیا۔ 

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے پراجیکٹ کے حوالے سے اپنی پریشانی اور تحفظات کااظہار وفاقی وزیر برائے پٹرولیم وقدرتی وسائل جو اس وقت پاکستان کے وزیراعظم ہیں کو ایک خط میں کیا۔

پاکستان اور ایران کےدرمیان گیس کی خریدوفروخت کا معاہدہ (جی ایس پی اے) آئی پی پراجیکٹ کے تحت 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کےد ور میں طے پایاتھا۔

مزید براں چین بھی پراجیکٹ کے اچانک بند ہونے پر بے حد پریشان ہے کیونکہ چینی کمپنی سی پی پی نےپاکستان کے ساتھ گوادرسے نواب شاہ تک 700کلومیٹرایل این جی پائپ لائن بچھانےکا معاہدہ کیاتھا۔چین کے ایگزیم بینگ نے اس پراجیکٹ کی فنڈنگ کرنےپررضامندی ظاہر کی تھی اس کے تحت 85فیصد فنڈز چین نےفراہم کرنے تھےاوراس کے لیے ستمبر2016 میں ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے گئے تھےاس کے بعد سےاس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور آخر کار پراجیکٹ بند ہوگیا۔

حال ہی میں چینی وفد نے پاکستان کا دورہ کیااور پراجیکٹ کو اچانک بند کرنے پر تحفظات کااظہارکیااور پراجیکٹ کے اخراجات پر مزید نرمی کرنے کی پیش کش کی۔

اب چونکہ وزیراعظم امریکا سے واپس آچکے ہیں اور خود چینی وفد سے ملاقات کریں گے تو پٹرولیم ڈویژن بھی ایرانی انتظامیہ کوجواب دے گی۔ 

اعلیٰ افسر نے یہ انکشاف بھی کیاکہ پاکستان نے ایران کو سرکاری سطح پر یہ نہیں بتایاتھاکہ پراجیکٹ پراب مزید کام نہیں ہورہااس وجہ سے بھی ایرانی انتظامیہ پریشان ہے۔ تاہم پٹرولیم ڈویژن میں آئی پی پراجیکٹ پر کام کرنے والے افسرنےمزید پیش رفت پر بات کرنے سے گریز کیا۔

آئی پی گیس لائن پرا جیکٹ کے تحت ایران نے اپنے علاقے میں پارس گیس فیلڈ سےپاکستانی سرحد تک 56انچ قطر والی پائپ لائن بچھانے کیلئے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی، لیکن اسلام آبادتہران کے ساتھ معاہدے کی پیروی میں ناکام ہوگیا۔

وزیربرائے پٹرولیم و قدرتی وسائل جو اب پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہیں کے نام ایک حالیہ خط میں ایران نے اس بات پر مایوسی کااظہارکیاہے کہ آئی پی پراجیکٹ کے تحت پاکستان نے اپنے علاقے میں 781کلومیٹر پائپ لائن بچھانی تھی لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری