امریکی وزیر دفاع کے بعد پاک آرمی چیف کا افغانستان دورہ؛ کیا دہشتگردی پر قابو پالیا جائیگا ؟

خبر کا کوڈ: 1534188 خدمت: پاکستان
آرمی چیف کابل

پاکستان کا اعلیٰ سطحی عسکری وفد امریکی وزیر دفاع کے افغانستان دورے کے بعد کابل پہنچا تو ان کا ماضی کی طرح والہانہ استقبال کیا گیا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کیا پاک آرمی چیف کا یہ دورہ پاکستان اور افغانستان میں امن لانے کا سبب بن سکے گا یا گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات بھی سرد خانے کی نذر ہوجائیں گے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان پائی جانیوالی غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلیے اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی جس میں دہشت گردی کے خاتمے سمیت خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلیے اعلیٰ سطح پر بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک روزہ دورہ پر کابل پہنچے جہاں ان کا افغان ہم منصب نے استقبال کیا اور آرمی چیف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی سے صدارتی محل میں ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات کی۔

افغان میڈیا کے مطابق افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات میں آرمی چیف نے دو طرفہ تعلقات، خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جنگ پر تبادلہ خیال کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے افغان صدر کو افغان فورسز کی تربیت کی پیشکش کی جبکہ افغان صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دوست ہیں اور دونوں ممالک کو امن و استحکام کیلیے ساتھ مل کر چلنا چاہیے۔

آرمی چیف اور افغان صدر کے درمیان ملاقات میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کو روکنے پر بھی گفتگو ہوئی جب کہ مشترکہ خطرات سے نمٹنے اور دیرپا امن کے حوالے سے بھی تبادلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ انٹیلی جنس، عوامی رابطوں اور تجارت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات میں افغانستان و علاقائی امن کیلیے سیاسی عمل کے فریم ورک پر اتفاق ہوا جب کہ دونوں ممالک کے درمیان پائی جانیوالی غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلیے اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفود کی سطح پر ملاقات میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور آئی ایس آئی چیف بھی آرمی چیف کے ہمراہ تھے۔ افغان وفد میں افغان نائب صدر، فرسٹ ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر، افغان وزیر داخلہ و خارجہ اور این ڈی ایس چیف بھی شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل امریکی وزیر دفاع جم میٹس اور نیٹو سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے بھی افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔

افغان میڈیا کے مطابق جم میٹس اور جینز اسٹولٹن برگ نے عزم کیا کہ افغانستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر اشرف غنی نے خطے کے ممالک سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کا مطالبہ بھی کیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی وزیر دفاع کے بعد پاکستان کے اعلیٰ عسکری وفد کا کابل دورہ خطے بالخصوص پاکستان اور افغانستان میں امن کا باعث بن سکتا ہے یا گزشتہ حکام کے دوروں اور مذاکرات کی مانند ایک بار پھر کئے گئے وعدے اور مذاکرات سردخانے کی نذر ہوجاتے ہیں۔ 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری