علی رضا پناہیان: سنی اور شیعہ کو وحدت کی بحث سے آگے بڑھ کر ہمدلی کی طرف گامزن ہونا چاہئے / امام زمانہ(ع) کا منتظر وہ ہے جس کے دوستوں میں متعدد سنی افراد بھی شامل ہوں

استاد علی رضا پناہیان اتحاد اور ہمدلی کے بارے میں کہتے ہیں: "میں شیعہ ـ سنی اتحاد کے نعرے سے آگے ایک نئے نعرے کی تجویز دینا چاہوں گا اور وہ ہے "شیعہ اور سنی کے درمیان ہمدلی"۔ صرف وحدت ہی کیوں؟"

علی رضا پناہیان: سنی اور شیعہ کو وحدت کی بحث سے آگے بڑھ کر ہمدلی کی طرف گامزن ہونا چاہئے / امام زمانہ(ع) کا منتظر وہ ہے جس کے دوستوں میں متعدد سنی افراد بھی شامل ہوں

خبر رساں ادارہ تسنیم: استاد علی رضا پناہیان اتحاد اور ہمدلی کے بارے میں کہتے ہیں: میں شیعہ ـ سنی اتحاد کے نعرے سے آگے ایک نئے نعرے کی تجویز دینا چاہوں گا اور وہ ہے "شیعہ اور سنی کے درمیان ہمدلی"۔ صرف وحدت ہی کیوں؟ ہم صرف اس ہدف تک پہنچنے کو ہی اپنا مقصد بنائیں کہ ہمارے درمیان اختلاف و انتشار نہ ہو؟ اسی سطح پر ہی کیوں رک جائیں؟ ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنا چاہئے، ایک دوسرے کو آغوش میں لینا اور گلے لگانا چاہئے۔ آپ تب ہی اپنے آپ کو مہدویت کا دعوی کرنے کا حقدار سمجھیں جب آپ کے مخلص ترین دوستوں میں چند افراد اہل سنت سے بھی ہوں۔ یہی کافی نہیں ہے کہ ہم آپس میں جھگڑا نہ کریں بلکہ آگے بڑھنا چاہئے۔

جب امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں: "تم تمام دلوں کو ہماری طرف راغب کرو" تو ان دلوں سے مراد شیعہ نوجوانوں کے دل نہیں بلکہ اہل سنت کے نوجوانوں کے دل ہیں۔

اے امام زمانہ کے مریدو! شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد کی بحث سے آگے بڑھو اور ایک دوسرے سے محبت کرو۔ یہی جو اہل سنت کے علماء کہتے ہیں کہ "حدیث غدیر سے مراد علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ محبت کی دعوت ہے نہ کہ ولایت و وصایت کی دعوت"، تو ہم ان کے ساتھ علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی محبت پر مشترکہ جشن کیوں نہ منائیں؟ ہمارا عقیدہ ہمارے اپنے لئے باقی اور محفوظ ہے لیکن غدیر کی بحث میں ہمارے درمیان مشترکہ نقطہ "محبت علی(ع)" ہے اور ہم اس مسئلے پر ان کے ساتھ "جشن محبت" بپا کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم اپنی زیادہ تر مجالس میں اہل بیت علیہم السلام کی محبت کی بات کرتے ہیں۔ تو کیوں نہ ہم اسی موضوعات پر مشترکہ مجالس برپا کریں؟

ہفتۂ وحدت کی آمد پر مسجد جمکران میں جامعات کے طلبہ کے اجتماع سے جناب پناہیان کے خطاب کے بعض اہم نکات:

الف) امام زمانہ کے لئے ماحول فراہم کرنے والا شیعہ اپنی معنویت [روحانیت] کو انفرادی پہلؤوں تک محدود نہیں کرتا

منتظر شیعہ کو اجتماعی زندگی اور اجتماعی کام کی مہارت سے لیس ہونا چاہئے / موجودہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے سے تعامل و تعاون اور ایک دوسرے کو تقویت پہنچانے کی قوت کا حامل ہونا چاہئے۔

•  حضرت ولی عصر(ع) اپنے ایک خط میں فرماتے ہیں: "اگر ہمارے شیعہ ـ جنہیں اللہ اپنی طاعت و بندگی میں کامیاب فرمائے ـ اخلاص کے ساتھ اکٹھے ہوجائیں اور اس عہد پر عمل کرنے کا ارادہ کریں جو ہماری طرف سے ان پر عائد ہے۔ ہمارے دیدار کا وعدہ مؤخر نہیں ہوگا:

متن حدیث:
"وَلَوْ أَنَّ أَشْیَاعَنَا وَفَّقَهُمْ اللَّهُ لِطَاعَتِهِ عَلَی اجْتِمَاعٍ مِنَ الْقُلُوبِ فِی الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ عَلَیهِمْ لَمَا تَأَخَّرَ عَنْهُمُ الْیُمْنُ بِلِقَائِنَا وَلَتَعَجَّلَتْ لَهُمُ السَّعَادَةُ بِمُشَاهَدَتِنَا عَلَی حَقِّ الْمَعْرِفَةِ وَصِدْقِهَا مِنْهُمْ بِنَا فَمَا یحْبِسُنَا عَنْهُمْ إِلَّا مَا یتَّصِلُ بِنَا مِمَّا نَکرَهُهُ وَلَا نُؤْثِرُهُ مِنْهُمْ"؛

ترجمہ: اگر ہمارے شیعہ ـ اللہ انہیں اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے ـ اپنے کئے ہوئے عہد کی وفا کے سلسلے ـ جس کی وفا ان پر فرض قرار دی گئی ہے ـ یکدل و یک جہت ہوتے اور ان کے دلوں کے درمیان اس سلسلے میں اتفاق و اتحاد ہوتا تو قطعی طور پر ہمارے ساتھ دیدار کی برکت ان سے مؤخر نہ ہوتی اور وہ ہماری ملاقات کی سعادت بہت جلد حاصل کرلیتے ایسی ملاقات جو  ہماری نسبت دینی معرفت اور صداقت قلبی پر استوار ہوتی۔ ان سے ہمارے مخفی ہوجانے کا سبب وہ اعمال ہیں جو ان کی طرف سے ہم تک پہنچتے ہیں جبکہ ہم ان سے ان اعمال کی توقع نہیں رکھتے۔
(احتجاج، ج2، ص499؛ بحارالأنوار، ج53، ص177، ح8)

• یہ کہ شیعہ اکٹھے ہوجائیں اور ایک دوسرے کو تقویت پہنچائیں ہم کاری و تعاون کریں، یہ بہت زیادہ اہم ہے۔ جو شیعہ الگ تھلگ رہ کر اپنا راستہ طے کرنا چاہے، جو شیعہ اپنے زمانے کے امام کے ساتھ ایک ذاتی تعلق قائم کرے اور اپنی معنویت کو اپنی ذات اور رازونیاز و مناجات کی حد تک محدود کرنا چاہے۔ امام علیہ السلام ایسے شخص کو ان لوگوں میں شمار نہیں کرتے جو آپ(ع) کے ظہور کے لئے زمین ہموار کرتے ہیں۔ مثلاً احادیث میں بیان ہوا کہ اگر کوئی زیارت کے لئے آنا چاہے تو چند افراد کو اپنے ساتھ لے کر جائے یعنی بہتر ہے کہ انسان زیارت کے لئے بھی تنہا نہ جائے۔

•  یہ جو امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "شیعہ اکٹھے ہوجائیں"، اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ اجتماعی زندگی کو سیکھ لیں۔ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ منتظر شیعہ اجتماعی زندگی سے واقف ہی نہ ہو۔ بعض اوقات سیاستدانوں یہ ثقافتی و تعلیمی شخصیات کے درمیان دیکھا جاتا ہے کہ وہ مختلف افکار اور ذائقوں کے حامل افراد کے اجتماع میں رہنے اور کام کرنے کے لئے ضروری لچک نہیں رکھتے اور دوسروں کے ساتھ کام نہیں کرسکتے اور اگر کوئی شخص ان سے زیادہ صلاحیتوں کا حامل ہو تو اسے قبول نہیں کرسکتے اور اگر کوئی ان سے کمزور ہے تو اس کی مدد نہیں کرسکتے اور اس کو اپنی قوتیں فراہم کرنے اور اپنی سطح پر لے آنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

•  فطری امر ہے کہ جب انسان ایک نقطے پر اکٹھے ہوتے ہیں تو ان کے درمیان اختلاف رائے اور حوصلوں اور جذبوں کا اختلاف ابھرتا ہے اور یہ اختلافات کبھی تناؤ اور تنازعے کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ یقینا اہل بیت(ع) نے ہم سے یہ نہیں فرمایا کہ اکٹھے ہوکر آپس میں جھگڑا کریں بلکہ انھوں نے ہدایت فرمائی ہے کہ ایک دوسرے کے دوش بدوش کھڑے ہوجائیں، اختلافات کے باوجود باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی تقویت کی صلاحیت کے حامل ہوں۔ بعض لوگ حتی کہ تین رکنی ٹیم میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و تعامل کی قوت سے عاری ہیں چہ جائیکہ ایک بڑی ٹیم میں قرار پائیں۔

•  تعامل و تعاون کی قوت بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی بہت ساری کمزوریوں کو اپنے آپ سے دور کریں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی ہمیں غضبناک کرے، ہمیں غصہ دلائے اور ہماری توہین کرے تو ہمارا رد عمل کیا ہوگا؟ یا اگر کوئی ہماری بات کو نہ سمجھے یا ہماری بات سے غلط تاثر لے تو ہم اس کے ساتھ کیا سلوک روا رکھنا چاہیں گے؟ ہم اس فرمان پر کس طرح عمل کرنا چاہیں گے کہ "نہ صرف یہ کہ اپنے عیوب کو دوسروں سے نسبت نہ دو بلکہ دوسروں کے عیوب کو بھی اپنے آپ سے منسوب کرو اور اپنی اچھائیوں کو دوسروں سے منسوب کرو۔

متن حدیث:
"۔۔۔ "عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُمْرَانَ عَنْ أَبِیهِ‏ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ عَلَیهِ السَّلَامُ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ مُؤْمِنَیْنِ اهْتَجَرَا فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا وَبَرِئْتُ مِنْهُمَا فِی الثَّالِثَةِ فَقِیلَ لَهُ یَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ هَذَا حَالُ الظَّالِمِ فَمَا بَالُ الْمَظْلُومِ فَقَالَ عَلَیهِ السَّلَامُ مَا بَالُ الْمَظْلُومِ لَا یَصِیرُ إِلَى الظَّالِمِ فَیَقُولُ أَنَا الظَّالِمُ حَتَّى یَصْطَلِحَا"؛

ترجمہ: امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: دو افراد مؤمن [اور صاحب ایمان] نہیں ہیں جو تین دن سے زیادہ ایک دوسرے سے ناراض ہوں اور دوری اختیار کریں کہ اگر انھوں نے ایسا کیا تو میں تیسرے دن ان دونوں سے بیزار ہوں۔ کہا گیا: اے فرزند رسول خدا(ص)! یہ تو ظالم کا حال ہوگا، مظلوم کا کیا قصور ہے؟ فرمایا: مظلوم ظالم کی طرف کیوں نہیں جاتا اور یہ کیوں نہیں کہتا ہے کہ بھائی میں ظالم ہوں! تاکہ یوں وہ آپس میں صلح کرلیں؟ شیخ صدوق، خصال، ج1، ص183۔

•  اگر ہم نے جماعتی طور پر مشترکہ کام [Teamwork] انجام دیا اور کسی نے کام کو خراب کیا تو فوری طور پر نہ کہیں کہ "فلان شخص کا قصور تھا، میں نے تو اس کو کہہ دیا تھ کہ۔۔۔"۔، بلکہ اس کے برعکس ہم میں اپنی قوت و جرئت ہونے کی ضرورت ہے کہ حتی کہ دوسروں کی غلطیوں کو اپنے ذمے لے لیں اور کہہ دیں کہ "فلان مسئلے میں قصوروار میں تھا"، گوکہ بہت ہی دشوار ہے کہ انسان اس حد تک تعامل کی صلاحیت حاصل کرے۔

•  عصر غیبت یا عصر انتظار، ظہور کے لئے تیاری اور تمہید سازی کا زمانہ ہے۔ تمہید ساز عناصر کو بعض خصوصیات کا حامل ہونا چاہئے۔ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ہمارے حوزات اور یونیورسٹیوں کا ایک طالب علم "مہدی یاور" [اور امام زمانہ کا یار و مددگار ہو] لیکن کسی بھی ثقافتی اور علمی تنظیم اور ادارے میں دوسروں کے ساتھ مل کر کام نہ کررہا ہوں؟ کیا وہ کسی کو برداشت نہیں کرسکتا؟ اور کسی کے ساتھ رابطہ قائم کرنے سے قاصر ہے؟ بعض لوگ جماعتی کام [ٹیم ورک] کی صلاحیت نہیں رکھتے اور الگ سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ فطری امر ہے کہ جماعتی سرگرمیوں کے اپنے لوازمات ہوتے ہیں: اپنے موقف سے پسپا ہونا اور مصالحتی رویہ روا رکھنا، اور ایثار و درگذر کرنا۔

ہمیں دوسرے مؤمنین سے محبت کرنا چاہئے خواہ ہمارے درمیان اختلافات ہی کیوں نہ ہوں۔

•  یہ جو امام(ع) فرماتے ہیں: "لَوْ أَنَ‏ أَشْیَاعَنَا... عَلَى اجْتِمَاعٍ مِنَ الْقُلُوبِ؛ اگر ہمارے شیعہ خلوص دل کے ساتھ اکٹھے ہوجائیں اور ان کے دل ایک دوسرے کے نزدیک ہوں"، مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے عشق کی حد تک محبت کریں نا یہ کہ محض ایک دوسرے کو برداشت کریں۔ ہمیں دوسرے مؤمنین سے محبت کرنا چاہئے خواہ ہمارے درمیان اختلافات ہی کیوں نہ ہوں اور حتی ہمیں ان اختلافات سے ذاتی طور پر نقصان اٹھانا پڑا ہو۔ لیکن ان اصولوں کی خاطر جو ہم نے تسلیم کرلئے ہیں، ہمیں ایک دوسرے سے عشق و محبت کرنا چاہئے اور ایسا نہ ہو کہ اپنے قریب دوستوں سے محبت کریں۔ یہ وہ احکامات و فرامین ہیں جو اہل بیت علیہم السلام نے واضح طور پر ظہور کے سلسلے میں جاری فرمائے ہیں۔

•  ایک شخص امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "آپ اٹھتے کیوں نہیں ہیں، آپ(ع) کے انصار و اعوان کی تعداد بہت زیادہ ہے جو آپ کے رکاب میں لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا:

"کیا آپ [شیعیان اہل بیت(ع)] ایک دوسرے کی دولت سے ایک دوسرے کی اجازت کے بغیر فائدہ اٹھاتے ہیں؟ یعنی یہ کہ کیا آپ ابھی تک بلا تکلف ایک دوسرے کا مال اپنا مال سمجھتے ہیں؟ کیا تمہارے درمیان ذاتی مالکیت کی سرحدیں ہٹ گئی ہیں؟

اس شخص نے عرض کیا: نہیں ہم ابھی ایسے نہیں ہیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: تو پھر تو وہ اپنا خون دینے میں زیادہ کنجوس ہونگے۔

ہمارے مہدی اس وقت قیام فرمائیں گے جب ان کے اصحاب ان صفات سے متصف ہوں۔ آپ اس حد تک تعاون و تعامل کی سطح پر نہیں پہنچے تو میرے قیام کی توقع نہ رکھو:

متن حدیث:
"قِیلَ لِأَبِی جَعفَرٍ البَاقِرِ عَلَیهِ السَّلامُ: إنَّ أَصْحَابَنَا بِالْکُوفَةِ لَجَمَاعَةٌ کَثِیرَةٌ فَلَوْ أَمَرْتَهُمْ لَأَطَاعُوْکَ وَاتَّبَعُوْکَ قَالَ: یَجِیْ‏ءُ أَحَدُکُمْ إِلَى کِیْسِ أَخِیْهِ فَیأْخُذُ مِنْهُ حَاجَتَهُ، فَقَالَ: لَا، قَالَ: فَهُمْ بِدِمَائِهِمْ أبْخَلُ؛ ثُمَّ قَالَ: إنَّ النَّاسَ فِی هُدنَةِ نُنَاکِحُهُم وَنُوَارِثُهُمْ وَنُقِیْمُ عَلَیْهِمُ الحُدُوْدَ وَنُؤَدِّی أَمَانَاتِهِم حَتَّى إذَا قَامَ القَائمُ جَاءَت المُزَامَلَةُ وَیَأتِی الرَّجُلُ إلَى کِیسِ أَخِیهِ فَیَأخُذُ حَاجَتَهُ لَا یَمنَعُهُ۔"‏؛

ترجمہ: امام محمد باقر علیہ السلام سے کہا گیا: کوفہ میں ہمارے دوستوں کی بڑی جماعت ہے، اگر آپ انہیں فرمان دیں تو وہ آپ کی اطاعت کریں گے۔ فرمایا: کیا تم میں سے سے کوئی ایک اپنے دوست کی جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنی ضرورت کے مطابق اٹھا لیتا ہے؟ کہا: نہیں۔ فرمایا: تو وہ خون دینے میں زیادہ کنجوس ہوںگے! امام علیہ السلام نے مزید فرمایا: یقینا لوگ امن و سکون میں جی رہے ہیں؛ ہم ان کے ساتھ رشتے کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے ارث و ترکہ پاتے ہیں اور ان پر حدود جاری کرتے ہیں اور ان کی امانتیں ادا کرتے ہیں، [اور یہ سلسلہ جاری رہے گا] حتی کہ ہمارے قائم علیہ السلام قیام فرمائیں اور رفاقت و یکدلی کا دور آجائے اور اس دور میں ایک فرد آ کر اپنے [دینی] بھائی کی جیب سے اپنی ضرورت کے مطابق اٹھائے گا اور وہ اسے منع نہیں کرے گا۔ (شیخ مفید، الإختصاص، ص24)

متن حدیث:
"عَن مُحَمَّدِ بنِ عَلِیٍ البَاقِر عَلَیهِ السَّلَام ُ قَالَ یَوماً لِأصْحابِهِ أیُدخِلُ أحَدُکُم یَدَهُ فی کُمِّ صَاحِبِهِ فَیَأخُذُحَاجَتَهُ مِنَ الدَّنَانِیرِ قَالُوا لَا، قَالَ فَلَستُم إذاً بِإخوَانٍ"۔

ترجمہ: امام باقر علیہ السلام نے ایک دن اپنے اصحاب سے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ اپنے دوست کے لباس میں ڈال کر اس کے پاس موجود رقم میں سے اپنی ضرورت بھر کی رقم اٹھا لیتا ہے؟ جواب ملا: نہیں! فرمایا: تو پھر تم بھائی نہیں ہو۔ (علی بن عیسی الاربلی، کشف الغمة، ج2، ص148)۔

ایک منتظر شخص در حقیقت ایک تنظیمی عنصر ہے تاہم محض جماعت کے معنی میں نہیں۔

•  اجتماعی زندگی اور تنظیمی زندگی ظہور کے منتظرین کے لئے ایک ضرورت ہے۔ قابل قبول نہیں ہے کہ گوشۂ تنہائی، یا مدرسے کے کسی کمرے کے کونے میں، یا کسی ہاسٹل کے کسی گوشے میں یا پھر کسی مسجد اور کتب خانے کے گوشے میں مصلے کے اوپر سر بہ سجود رہے اور محض خودسازی میں پوری زندگی بسر کرے، اس طریقے سے خودسازی سرے سے ممکن ہی نہیں ہے۔
خداوند متعال قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

" یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ"؛

ترجمہ: اے ایمان والو!ضبط و تحمل سے کام لو اور دوسروں کو بھی ضبط و تحمل پر آمادہ کرو، اور دشمن کے مقابلے میں پامردی کا ثبوت دو اور سرحدوں پر مورچے مضبوط رکھو اور اللہ سے ڈرو؛ شاید کہ تم دین و دنیا کی بہتری حاصل کر لو۔ (سورہ آل عمران، آیت 200)
"إصْبِرُواْ" یعنی تم میں سے ہر ایک، الگ الگ صبر و استقامت کرو، اور پھر فرماتا ہے "صَابِرُواْ" یعنی تم سب مل کر صبر کرو۔

•  سوال: ہم مذہبی نوجوان کس حد تک "مل کر صبر کرنے" اور "الگ الگ صبر کرنے" کے درمیان فرق کو سمجھتے ہیں اور اس کے لوازمات سے باخبر ہیں؟ ایک منتظر عنصر یعنی ایک تنظیمی عنصر، تاہم تنظیم سے مراد محض جماعت ہی نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی تنظیم مراد ہے۔ یعنی ہر وہ با با مقصد اور منظم ادارہ جو ایک خاص مشن کے حصول کے لئے سرگرم عمل ہے۔

ب) امام زمانہ کے عقیدتمندوں کو شیعہ ـ سنی اتحاد کی بحث سے آگے بڑھ کر عشق و محبت کی طرف جانا چاہئے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کی تزویری ہدایت: "جُرُّوا إِلَیْنَا کُلَّ مَوَدَّةٍ" یعنی تمام محبتوں کو ہماری طرف مائل و راغب کرو۔

•  اگر شیعہ آپس میں اکٹھے ہوجائیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں اور فردیت کو ـ جو کہ مغربی تہذیب کا مرکزی عنصر ہے ـ دور پھینکیں اور اجتماع کو خلوص دل سے تسلیم کریں اور پھر اس عہد پر عمل کرنا چاہیں جو ائمہ ہدایت علیہم السلام کی طرف سے ان پر عائد ہے، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کیا واقعہ رونما ہوگا؟

امام علیہ السلام اجتماع اور یکدلی کے سلسلے میں اپنے کلام کے ضمن میں فرماتے ہیں: اگر تم یکدل و ہمراہ و ہمفکر ہوجاؤ تو دیدار کا وعدہ مؤخر نہ ہوگا اور دیدار کی سعادت بہت جلد تمہارے نصیب ہوگی؛ لَمَا تَأَخَّرَ عَنْهُمُ الْیُمْنُ بِلِقَائِنَا وَلَتَعَجَّلَتْ لَهُمُ السَّعَادَةُ بِمُشَاهَدَتِنَا»(الاحتجاج ۔۔۔) اب سوال یہ ہے کہ ظہور ابھی تک مؤخر کیوں ہوا ہے؟ جواب: ہمارے اپنے اعمال و عادات و اطوار اور اخلاقیات کی وجہ سے۔

•  میں اس کلام شریف سے استفادہ کرکے ایک نقطہ نظر آپ کے لئے عرض کرنا چاہتا ہوں، اور وہ یہ کہ ہمیں مؤمنین کے درمیان اتحاد و اتفاق کی حد سے بڑھنا چاہئے اور مسلمانوں کے درمیان اتفاق و اتحاد تک پہنچنا چاہئے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے اس نہایت اہم اور تزویری [Strategic] فرمان کی روشنی میں، جو فرماتے ہیں: تمام مودتوں کو ہماری طرف مائل اور تمام دلوں کو ہماری طرف راغب کرو۔

متن حدیث:
"أُوصیکُمْ بِتَقْوَى اللّهِ وَ الْوَرَعِ فى دینِکُمْ وَالاْجْتَهادِ لِلّهِ وَصِدْقِ الْحَدیثِ وَأَداءِ الأَمانَةِ إِلى مَنِ ائْتَمَنَکُمْ مِنْ بَرٍّ أَوْ فاجِر وَطُولُ السُّجُودِ وَحُسْنِ الْجَوارِ. فَبِهذا جاءَ مُحَمَّدٌ(صلى الله علیه وآله) صَلُّوا فى عَشائِرِهِمْ وَاشْهَدُوا جَنائِزَهُمْ وَعُودُوا مَرْضاهُمْ وَأَدُّوا حُقُوقَهُمْ، فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْکُمْ إِذا وَرَعَ فى دینِهِ وَصَدَقَ فى حَدیثِهِ وَأَدَّى الاْمانَةَ وَحَسَّنَ خُلْقَهُ مَعَ النّاسِ قیلَ: هذا شیعِیٌ فَیسُرُّنی ذلِکَ. إِتَّقُوا اللّهَ وَکُونُوا زَینًا وَلا تَکُونُوا شَینًا، جُرُّوا إِلَینا کُلَّ مَوَدَّة وَادْفَعُوا عَنّا کُلَّ قَبیح، فَإِنَّهُ ما قیلَ فینا مِنْ حَسَن فَنَحْنُ أَهْلُهُ وَما قیلَ فینا مِنْ سُوء فَما نَحْنُ کَذلِکَ. لَناحَقٌّ فى کِتابِ اللّهِ وَقَرابَةٌ مِنْ رَسُولِ اللّهِ وَتَطْهیرٌ مِنَ اللّهِ لا یدَّعیهِ أَحَدٌ غَیرُنا إِلاّ کَذّابٌ أَکْثِرُوا ذِکْرَ اللّهِ وَذِکْرَ الْمَوْتِ وَتِلاوَةَ الْقُرانِ وَالصَّلاةَ عَلَى النَّبِىِّ (صلى الله علیه وآله) فَإِنَّ الصَّلاةَ عَلى رَسُولِ اللّهِ عَشْرُ حَسَنات، إِحْفَظُوا ما وَصَّیتُکُمْ بِهِ وأَسْتَوْدِعُکُمُ اللّهَ وَأَقْرَأُ عَلَیکُمْ السَّلامَ"؛

ترجمہ: میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اپنے دین میں تقوائے الہی اور زہد و پارسائی اختیار کرو، خدا کے لئے سعی و کوشش اور جدوجہد کرو، بات کرنے میں صداقت و سچائی پر کاربند رہو، اور امانت ادا کرو ہر اس شخص کو جو تم پر اعتماد کرتا اور تمہیں قابل اعتماد سمجھتا ہے چاہے وہ شخص نیکوکار چاہے بدکار ہو، طویل سجدے کیا کرو اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک روا رکھو۔ بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ یہی کچھ لے کر آئے ہیں۔ اپنے مسلمان بھائیوں کی جماعتوں میں نماز ادا کیا کرو، ان کے جنازوں پر حاضری دیا کرو اور ان کے بیماروں کی عیادت کیا کرو، اور ان کے حقوق ادا کیا کرو، کیونکہ یقینا تم میں سے ایک شخص جب اپنے دین میں زہد و پارسائی اختیار کرے، سچی بات کیا کرو اور امانت ادا کرو اور لوگوں کے ساتھ خوش اخلاق ہو، کہا جاتا ہے: "یہ ایک شیعہ ہے"، پس یہ بات میرے سرور و شادمانی کا سبب بنتی ہے۔ تقوائے الہی اختیار کئے رکھو، اور ہماری زینت بنو اور بدنامی کا سبب نہ بنو، تمام مودتوں اور محبتوں کو ہماری طرف مائل کرو اور ہر برائی قباحت کو ہم سے دور کرو یقینا اچھائیاں ہمارے لئے بیان کی جاتی ہیں ہم ان کے اہل ہم اور جو بری نسبتیں ہماری طرف دی جاتی ہیں ہم ان سے دور ہیں۔ اللہ کی کتاب میں ہمارے کچھ حقوق ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے ساتھ ہماری قرابت ہے اور اللہ تعالی نے ہمیں پاک و طاہر قرار دیا ہے اور ہمارے سوا کوئی بھی اس رتبے کا دعوی نہیں کرتا مگر وہ لوگ جو بہت زیادہ جھوٹے ہیں۔ اللہ کو بہت یاد رکھا کرو اور موت کو زیادہ یاد کیا کرو، بکثرت قرآن کی تلاوت کیا کرو اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ پر بہت زیادہ درود و صلوات بھیجا کرو کیونکہ پیغمبر(ص) پر صلوات بھیجنے کے دس حسنات ہیں۔ جو کچھ میں نے تم سے کہا اسے محفوظ کرو [اور اس پر عمل کرو] اور میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور میرا سلام ہو تم پر۔ (ابن شعبه حرانی، تحف‌العقول، ص488؛ محمد باقر مجلسی، بحارالأنوار ج75، ص372؛ سید محسن امین عاملی، أعیان الشّیعة، ج2، ص41)

ہمیں شیعہ اور سنی کے درمیان "وحدت" سے بڑھ کر شیعہ اور سنی کے درمیان ہمدلی اور خلوص و محبت کے درپے ہونا چاہئے / منتظر شیعہ نوجوان وہ ہے کہ اس کے کچھ مخلص دوست اہل سنت میں سے ہوں۔

•  میں شیعہ ـ سنی اتحاد کے نعرے سے آگے اور اسی تسلسل میں ایک نئے نعرے کی تجویز دینا چاہوں گا اور وہ "شیعہ اور سنی کے درمیان ہمدلی" کا نعرہ ہے۔ صرف وحدت ہی کیوں؟ ہم صرف اس ہدف تک پہنچنے کو ہی اپنا مقصد بنائیں کہ ہمارے درمیان اختلاف و انتشار نہ ہو؟ اسی سطح پر ہی کیوں رک جائیں؟ ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنا چاہئے، ایک دوسرے کو آغوش میں لینا اور گلے لگانا چاہئے۔ آپ تب ہی اپنے آپ کو مہدویت کا دعوی کرنے کا حقدار سمجھیں جب آپ کے مخلص ترین دوستوں میں چند افراد اہل سنت سے بھی ہوں۔ یہی کافی نہیں ہے کہ ہم آپس میں جھگڑا نہ کریں بلکہ آگے بڑھنا چاہئے۔

•  آج عالمی منظر بھی یہی تقاضا کررہا ہے "عدو شود سبب خیر اگر خدا خواہد" [دشمن سبب خیر ہوگا اگر خدا چاہے]؛ ایسے حال میں جبکہ ہمارے دشمن شیعہ اور سنی مسلمانوں کے قتل عام کی غرض سے تکفیریوں کے لشکر تیار کررہے ہیں تو ہمارے فرائض خود بخود واضح ہوجاتے ہیں، چنانچہ ہمیں اپنی بانہوں کو اہل سنت برادران کے لئے کھول دینا چاہئے۔ عراق میں عالم تشیع کے مرجع تقلید آیت اللہ سیستانی فرماتے ہیں کہ "یہ نہ کہو کہ اہل سنت ہمارے بھائی ہیں بلکہ کہہ دو کہ وہ "انفسنا" [ہماری جان ہیں] یعنی ان کی جنگہ ہمارے دلوں میں ہے۔

•  امام صادق(ع) نے اہل بیت(ع) کا تعارف کرنے کے لئے فکرمند شخص سے مخاطب ہوکر فرمایا: نوجوانوں کو توجہ دو، کیونکہ وہ ہر خیر و خوبی قبول کرنے کی طرف تیزرفتاری سے چلے جاتے ہیں۔

متن حدیث:
"عَلَیکَ بِالأَحداثِ فَإِنَّهُم أسرَعُ إلى کُلِّ خَیرٍ"(محمد بن یعقوب کلینی، الکافی، ج8، ص93)
امام عسکری(ع) نے فرمایا تمام دلوں کو ہماری طرف مائل کرو، اس میں مکتب اہل سنت کے پیروکار شامل ہیں۔

•  سوال: بعض لوگ مذہب شیعہ کو ایک فرقہ کیوں کہتے ہیں؟ امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں: "دلوں کو ہماری طرف مائل کرو"، اب آپ میں سے ہر ایک دو جواب دینا چاہئے کہ اسی نوجوانی کے دور میں آپ نے کتنے دلوں کو اہل بیت(ع) کی طرف مائل کیا ہے؟ جب امام حسن عسکری(ع) فرماتے ہیں "جُرُّوا إِلَیْنَا کُلَ‏ مَوَدَّةٍ"؛(تحف‌العقول/ص488) مراد شیعہ نوجوان نہیں ہیں بلکہ اس مراد یہی اہل سنت کے نوجوان ہیں جن کے بڑے علماء اور ائمہ اسی زمانے میں ان کی شاگردی پر فخر کرتے تھے اور ان سے محبت کرتے تھے اور اہل بیت(ع) کی محبت کو دین کا جزء اور لازمہ سمجھتے تھے۔ اگر آپ کا مذہب و عقیدہ درست اور برحق ہے – جو کہ یقینا بر حق ہے ـ تو اس کا پھل، ثمرہ اور نتیجہ یہ ہے کہ دلوں کو جیت لو اور دلوں کو اپنے مرام و عقیدے کی طرف مائل کرو۔ اسی روایت کے تسلسل میں امام عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں: "ہر قبیح امر کو ہم سے دفع دور کرو"، (وَادْفَعُوا عَنَّا کُلَّ قَبِیحٍ) کچھ اس طرح سے عمل کرو کہ جب وہ تمہیں دیکھ لیں تو آپ کے اس امام کو خراج تحسین و عقیدت پیش کریں جس نے تمہاری پرورش کی ہے۔ اگر اہل سنت میں سے تمہارا کوئی مسلم بھائی بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کو جاؤ۔ پابندی کے ساتھ ان کے جنازوں پر حاضری دو۔ اور ان کی نماز جماعت میں شرکت کرو۔

امام زمانہ(ع) کے عقیدتمند شیعہ ـ سنی وحدت کی بحث سے آگے بڑھ جائیں اور ان سے محبت کرو اور ان کی محبت اپنی جانب مائل کرو / میری تجویز یہ ہے کہ ہم اہل سنت کے ساتھ مشترکہ امور میں مشترکہ مجالس و تقریبات بپا کریں۔

•  اے امام زمانہ کے مریدو! شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد کی بحث سے آگے بڑھو اور ایک دوسرے سے محبت کرو۔ یہی جو اہل سنت کے علماء کہتے ہیں کہ "امام مہدی(ع) ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں" تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ "یہی جو آپ مہدی(ع) سے محبت کرتے ہیں" اچھی بات ہے، یعنی ان کے اسی عقیدے کو بھی غنیمت سمجھیں اور  انہیں اسی مشترکہ عقیدے کے اوپر مشترکہ تقریبات منعقد کریں۔

•  یا بطور مثال: یہی جو اہل سنت کے علماء کا عقیدہ ہے کہ "غدیر علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ساتھ محبت کی دعوت ہے نہ کہ ولایت و وصایت کی دعوت"، تو ہم ان کے ساتھ علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی محبت پر مشترکہ جشن کیوں نہ منائیں؟ ہمارا عقیدہ ہمارے اپنے لئے محفوظ ہے لیکن غدیر کی بحث میں ہمارے درمیان مشترکہ نقطہ "محبت علی(ع)" ہے اور ہم اس مسئلے پر ان کے ساتھ "جشن محبت" بپا کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم اپنی زیادہ تر مجالس میں اہل بیت علیہم السلام کی محبت کی بات کرتے ہیں۔ تو کیوں نہ ہم اسی موضوعات پر مشترکہ مجالس برپا کریں؟

امام حسین علیہ السلام شیعہ ـ سنی اتحاد کا مرکزی نقطہ ہیں / یزید شیعہ اور سنی کا مشترکہ دشمن تھا

•  عاشورا کے ایام میں بھی ہر دوسرے وقت سے زیادہ، شیعہ ـ سنی مشترکہ مجالس کا انعقاد کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ امام حسین علیہ السلام یزید کے خلاف لڑے جو کہ شیعہ ـ سنی کا مشترکہ دشمن تھا۔ جس جرم کا یزید نے اہل سنت کے حق میں ارتکاب کیا، مدینہ میں اس جرم کا ارتکاب شیعوں کے حق میں نہیں کیا۔ یزید کی سپاہ نے یزید کے حکم پر مدینہ میں اہل سنت پر وہ مظالم کئے جن تک پہنچنے کے لئے تکفیری ابھی پہنچ ہی نہیں سکے ہیں۔ اس نے مدینہ میں اہل سنت کے بزرگوں کو ـ جو کہ صحابہ اور تابعین میں سے تھے ـ ذبح کیا۔ امام حسین علیہ السلام کی بحث شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد کا مرکزی نقطہ ہے۔ شیعہ ـ سنی دونوں کے دل یزید کی وجہ سے پرخون ہیں۔

•  ہفتۂ وحدت محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی میلاد ہی کا ہفتہ نہیں ہے۔ اس وحدت کے لئے مختلف قسم کے نقاط اور مواقف ہیں جن میں سے ایک ہفتہ وحدت ہے، ایک امام حسین علیہ السلام ہیں۔ ہم نے کربلا کے راستے میں بعض اسٹالوں پر دیکھا جہاں اہل سنت برادران امام حسین علیہ السلام کی محبت میں خدمت کررہے تھے اور کہتے تھے: امام حسین علیہ السلام ہمارے نبی(ص) کے فرزند ہیں اور انہیں ظلم کے ساتھ قتل کیا گیا ہے اور ہم ان سے عقیدت رکھتے ہیں۔ ہم نے ان سے کہا: "اپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم اہل سنت ہیں؟"؛ کہنے لگے: "ہمیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں شیعہ ہم پر ناراض نہ ہوجائیں اور ہماری میزبانی کو قبل نہ کریں"۔

شیعہ اور سنی کے درمیان محض اتحاد کی بحث کا زمانہ گذر چکا ہے / ہم دنیا کی سطح پر معنوی وحدت کی طرف جارہے ہیں

•  وحدت کا دور گذر چکا ہے اور ہمدلی کا دور آن پہنچا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ ہمارے دشمن بھی اپنی حماقتوں کی بنا پر جب ان تکفیریوں کو شیعہ ـ سنی مسلمانوں کی جان لینے کے لئے بھگاتے ہیں، یہ وحدت و ہمدلی مزید بڑھ جاتی ہے۔ جب شام اور عراق میں سنی مسلمان دیکھتا ہے کہ ایک شیعہ نوجوان اپنے سنی مسلم پڑوسیوں کی ناموس کے تحفظ کے لئے جان کی بازی لگا رہا ہے وہی سنی نوجوان شام میں حضرت زینب اور سامرا میں امامین عسکریین کے حرم کے دفاع کے لئے لپکتا ہے۔ یہ وہ معجزات ہیں جو تفرقہ اور اختلاف کے لئے دشمن کی عظیم سرمایہ کاری کے باوجود آج کی دنیا میں رونما ہورہے ہیں۔

•  نہ صرف مؤمنین کے درمیان تعامل و اتحاد و محبت کی سطح کو بڑھنا چاہئے، اور نہ صرف شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان وحدت و یکدلی کی فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے بلکہ آج ہم دنیا کی سطح پر معنوی وحدت کی طرف گامزن ہیں۔ کیا آپ نے گرجا گھروں کے بزرگوں کو اربعین کی ریلیوں میں نہیں دیکھا؟ کیا انھوں نے اپنے مستقل دستے روانہ نہیں کئے تھے جو کربلا کی طرف رواں دواں تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ دنیا والے ایک ہورہے ہیں اور یہ سب ظہور کی تمہیدات ہیں۔ ہم آج اس سمت میں حرکت کررہے ہیں۔

حسین (ع) عالمی سطح پر معنویت والوں کے درمیان اتحاد کا محور اور مرکزی نقطہ / ہمارا دور استکبار، کفر اور انتشار و تفرقے کے خلاف اتحاد کا دور ہے

•  بھلا ہمارے اور مسیحیوں کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے؟ یہ ہم امام حسین علیہ السلام کے عقیدتمندوں کی کوتاہیاں ہیں کہ عیسائی حضرت عیسی علیہ السلام کے مصائب کے لئے گریہ و بکاء کرتے ہیں لیکن ہمارے حسین(ع) [شیعہ کے حسین اور سنی کے حسین(ع)] کو جانتے تک نہیں ہیں! فی الوقت مستکبرین اسلام کا تعارف کرا رہے ہیں کچھ اس طرح سے کہ اسلام وہ دین ہے جو بڑے ظالمانہ انداز سے بےگناہوں کے سر قلم کرتا ہے [=->تکفیری فرقہ] لیکن اربعین حسینی کا عظیم حماسہ [Epic] ہے جو اس عالمی استکبار کی اس سازش اور فتنے کے مد مقابل آ کھڑا ہوا اور اس نے ثابت کرکے دکھایا کہ ہمارے اسلام کی علامت وہ نہیں ہے بلکہ اس کی علامت وہ حسین(ع) ہیں جن کو مظلومیت کی انتہا پر شہید کیا گیا او اپنے زمانے کے مستکبرین نے ان کا سر قلم کردیا ہے۔  

•  حسین(ع) دنیا بھر میں معنویت کی طرف راغب انسانوں کی وحدت کا محور ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کا مرید اگر عیسائی دنیا کو امام حسین علیہ السلام کا تعارف ان ہی کی زبان میں نہ کراسکے تو وہ خود کہہ دے کہ اس نے امام حسین علیہ السلام کے لئے کیا کیا ہے؟ اگر حسین(ع) کا مرید اس راستے سے دلوں کو امام کی طرف مائل نہ کرسکے تو اس نے امام حسین(ع) کی طرف کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ امام حسین(ع) اس لئے نہیں ہیں کہ آپ ایک گوشے میں بیٹھ کر ان کے ساتھ راز و نیاز کریں اور گوشۂ تنہائی میں ان کے لئے آنسو بہائیں اور حسین(ع) کے لئے اشک ریزی سے لذت اٹھائیں بلکہ امام حسین(ع) کے لئے فریاد اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ پورا عالم خبردار ہوجائے، زمانہ عالمی استکبار، کفر اور تفرقے و انتشار کے خلاف اتحاد و ہمدلی کا زمانہ ہے۔

ج) سیاسی میدان میں بھی ہر قسم کی تفرقہ اندازی کا مقابلہ کرنا پڑے گا

سیاست میں بہت سے اختلافات بےجا اور مضرّ ہیں / اگر سیاستدان آپس میں اختلاف رکھتے اور رقابت کرتے ہیں تو انہیں ملت کو دو محاذوں میں تقسیم نہیں کرنا چاہئے

•  مجھے اس بحث کے سیاسی پہلو پر بھی روشنی ڈالنے  دیں۔ سیاست کے میدان میں بہت سے اختلافات بےجا اور مضرّ ہیں۔ سیاستدانوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ قوم کو ٹکڑوں میں تقسیم کریں۔ خواہ سیاستدان مجرم ہی کیوں نہ ہوں اور ان کے درمیان اختلافات بہت شدید کیوں نہ ہوں لیکن ہمیں انہیں سماج کی تقسیم کی اجازت نہیں دینا چاہئے۔

•  ہم عہد کریں کہ سیاستدانوں کو اپنے اختلافات کی خاطر طلبہ اور نوجوانوں کے درمیان اختلاف نہیں ڈالنے دیں گے۔ جن لوگوں نے ان کے درمیان موہوم زمرہ بندیاں قائم کی ہیں وہ غدار اور خائن ہیں۔ امام خمینی(رح) فرمایا کرتے تھے کہ "میں ان زمرہ بندیوں کو تسلیم نہیں کرتا، اگر سیاستدانوں کے درمیان اختلاف ہے تو انہیں یہ حق کس نے دیا ہے کہ قوم کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کریں؟

اساتذہ اور طلبہ کو غلط تلقینات کے ذریعے سیاسی گینگز میں تقسیم نہ کریں

•  ہمارے معاشرے میں بعض لوگ اپنے آپ کو غلط تلقینات کی بنیاد پر اصلاح پسند یا اصول پسند کا نام دیتے ہیں، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ خود ان عناوین کے قابل ہیں؟

•  ایک عدالت پسند نوجوان طالب علم ـ جو عقلیت اور معنویت کا قائل ہے اور قومی مفادات کو اہمیت دیتا ہے کیا اس کو کسی خاص جماعت سے جوڑا جاسکتا ہے؟ اگر ایسا کیا کیا جائے تو یہ اس طالبعلم پر ظلم نہیں ہوگا؟ میں کہتا ہوں کہ اس کو جس جماعت سے بھی جوڑنے کی کوشش کی جائے اس پر ظلم ہوا ہے۔ اگر کوئی پروفیسر سائنسی میدان میں محنت کررہا ہو اور ملک کی ترقی اور پیشرفت چاہتا ہے اور معنویت اور دینداری کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے، تو کیا اس کو سیاستدانوں کے ترسیم کردہ گروہوں میں سمایا جاسکتا ہے؟ خاص طور پر اس زمانے میں، جبکہ مغربی تہذیب شکست و ریخت کا شکار ہوچکا ہے اور اب ان کے پاس اس حوالے سے کہنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اور جو بات کہی جاسکتی ہے وہی بات ہے جو خالص محمدی اسلام کہہ رہا ہے۔  
سیاست کے میدان میں اختلاف ڈالنے والوں کو کردار ادا نہ کرنے دیں / لوگوں کو ٹکڑوں میں تبدیل کرنے کے نتیحے میں نفسیاتی طور پر ایک قسم کی استبدادیت اور گھٹن کی فضا قائم ہوجاتی ہے

•  زمانہ ہمدلی اور وحدت کا زمانہ ہے، سیاست کے میدان میں اتنی آسانی سے تفرقہ پھیلانے والوں کو کردار ادا نہ کرنے دیں۔ سیاستدانوں پر تنقید کی فضا فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی ٹکڑوں میں تقسیم کرنا بذات خود ایک قسم کی نفسیاتی استبدادیت اور گھٹن کی فضا قائم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ لوگ تنقید سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان پر تہمتیں نہ لگائی جائیں کہ مثلا وہ فلان جماعت کا رکن بنا ہے۔۔۔ یا کوئی خائف ہوجائے کہ انقلابی نوجوان تنقید کریں تو اس سے انقلاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے، حالانکہ اس وقت آپ جس بھی انقلابی شخصیت پر تنقید کریں تو اس سے انقلاب کو نقصان نہیں پہنچتا اگر آپ کسی بھی سیاستدان پر تنقید کریں تو آپ پر فلان جماعت میں چلے جانے کا الزام نہیں لگنا چاہئے۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ آپ پر اس گروپ یا اس گروپ میں شامل ہونے کا الزام لگائے۔

•  ہمیں باہمی تعاون و تعامل کی سطح کو ترقی دینے کی ضرورت ہے۔ اور اس بات کی اجازت نہ دیں کہ یہ ساسی کھیل، یہ جماعت بندیاں اور یہ تفرقہ اندازیاں ہمارے درمیاں رائج کی جائیں۔ جن سیاستدانوں کا مفاد عوام کے درمیان اختلاف ڈالنے میں ہے، انہیں یہ امکان نہیں ملنا چاہئے کہ ہمارے درمیان اختلاف ڈالیں۔ ہم کسی بھی گروپ اور فرقے سے تعلق نہیں رکھتے۔ ہم عوام کا ایک فرد ہیں۔ جہاں بھی تنقید کی ضرورت ہو تنقید کرتے ہیں، جہاں بھی کسی تنقید کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہو، اس کے مد مقابل کھڑے ہونگے۔ جہاں کسی حق کا تحفظ کرنا ہو، تحفظ کریں گے۔ ہمارے آپس میں بھی یقینا اختلاف رائے ہوگا لیکن عوام کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔

یہ ہمدلی دور ہے /  ہر قسم کی اختلاف اندازی کا شدت سے مقابلہ کرنا پڑے گا / عالمی سطح پر مکتب حسینی کا تعارف کرایا جائے تو پوری دنیا میں ہمدلی معرض وجود میں آئے گی

•  ہمدلی کا عصر ہے۔ ان شاء اللہ قوی ادبیات کے ساتھ غلط فہمیوں کو دور کریں۔ ہم اگر اپنے حسینی مکتب عیسائیوں کو متعارف کرا دیں تو دنیا بھر میں ہمدلی وجود میں آئے گی، اگر ہم اپنے حسینی مکتب کا تعارف اہل سنت سے کرا دیں تو ہمدلی معرض وجود میں آے گی۔ میں مصر کے بعض سنی شخصیات سے بات کررہا تھا۔ میں نے ان سے کہا: آپ کو ہم شیعوں سے زیادہ امام حسین علیہ السلام کے گریہ کرنا چاہئے۔ کہنے لگے: کیوں؟ میں نے کہا: اس لئے امام حسین علیہ السلام شیعوں کے لئے شہید نہیں ہوئے بلکہ اسلام کے لئے شہید ہوئے۔ اور یزید جیسے شخص کے مد مقابل ڈٹ گئے جس نے واقعء حرہ میں اہل سنت کے خلاف اتنے سارے جرائم کا ارتکاب کیا۔ مصری علماء یہ سن کر خوش ہوئے اور کہنے لگے: "کسی نے آج تک اس انداز سے امام حسین علیہ السلام کا تعارف ہمیں نہیں کرایا تھا"۔

•  کبھی ہم شیعیان اہل بیت(ع) امام حسین علیہ السلام کی محبت سے سرشار ہوکر اس طرح سے امام حسین(ع) کی ذات بابرکات کو گھیر لیتے ہیں کہ ہمارے سوا کوئی انہیں دیکھ ہی نہ سکے۔ حالانکہ امام حسین علیہ السلام کا تعارف اس طرح سے کرانا چاہئے کہ پوری دنیا انہیں دیکھ لے اور پہچان لے۔ امام حسین(ع) کو اپنے تک محدود نہیں کرنا چاہئے۔

•  ہمیں امام مہدی علیہ السلام کے سپاہیوں اور آپ(ع) کے ظہور کے لئے راستہ ہموار کرنے والے افراد کے طور پر ہر قسم کی تفرقہ اندازی کا شدت سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ ہمیں کوئی بھی اختلاف آسانی سے قبول نہیں کرنا چاہئے جو تنازعات، جھگڑوں اور دلوں کی جدائی اور اصولوں سے دوری کا سبب بنے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
•  مقام: قم - مسجد مقدس جمکران
•  یکم جنوری 2015۔
•  بسلسلۂ آغاز امامت امام زمانہ(عج)
•  مقرر: حجۃ الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان
•  مترجم: فرحت حسین مہدوی

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری