نیتن یاہو نے جنگ شروع کی تو فلسطین سے باہر نکلنے کی فرصت بھی نہیں ملے گی، حسن نصراللہ

خبر کا کوڈ: 1534758 خدمت: اسلامی بیداری
السید حسن نصرالله

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے روز عاشور کی مناسبت سے ہزاروں عزاداروں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے خلاف جنگ شروع کی تو انہیں فلسطین سے باہر نکلنے کی فرصت تک نہیں ملے گی۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے یوم عاشورا کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے خلاف جنگ شروع کرنے کی غلطی کی تو انہیں فلسطین سے باہر نکلنے کی فرصت بھی نہیں ملے گی۔

بیروت میں یوم عاشور کے موقع پر عزاداران حسینی کے بڑے اجتماع سے بذریعہ ویڈیو کانفرنس خطاب کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ نے داعش کو امت مسلمہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔

سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے خطے کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے اور حقیقی اسلام کی شبیہ بگاڑ کر امریکہ اور اسرائیل کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ان کی تنطیم حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی قوتیں، تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ کے میدان میں پوری قوت کے ساتھ موجود رہیں گی۔

حزب اللہ کے سربراہ نے صیہونی حکومت کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاھو کی جانب سے خطے میں کسی نئے جنگ کے امکان کے بارے میں دیئے گئے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے ایسا کیا تو انہیں فلسطین سے باہر جانے کی فرصت بھی نہیں ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ صیہونیوں کو مقبوضہ فلسطین میں لانے والے یہودیوں کو یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ وہ خطے میں امریکہ کی پالیسیوں کا ایندھن بن چکے ہیں۔

سید حسن نے عراقی کردستان میں ریفرنڈم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا علاقے کے عوام کی سرنوشت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ نسلی بنیادوں پر علاقے کو تقسیم کرنےکی کوشش ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے یمن پر سعودی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اس ملک کے خلاف ظالمانہ جنگ کے خاتمے اور حملے بند کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بحرین میں شاہی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت بحرین اپنے عوام کو سرکوب کر رہی ہے لہذا عرب اور اسلامی ملکوں کو بحرینی عوام کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔

سربراہ سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب خطے میں امریکی اہداف کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں کشیدگی جاری رکھنے کے لئے امریکہ اور سعودی عرب کی پالیسی یکساں ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے میانماری مسلمانوں پر ہونے والا ظلم و تشدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم میانمار کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ  ہیں اور ہر قسم کے ظلم و جبر کو مسترد کرتے ہیں۔

سید حسن نے اپنی تقریر کے آخر میں کہا ہماری سیاست اور موقف وہی ہے جو ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کا تھا "هیهات منا الذله". یہی ہمارا موقف، سیاست اور اصول ہے۔

انہوں نے کہا تم ہمیں ہزار مرتبہ قتل کردو اور جلادو تب بھی ہم امام حسین علیہ السلام کے راستے سے نہیں ہٹیں گے۔

واضح رہے کہ شب عاشور کو سید حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کی حمایت یافتہ وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کا خاتمہ قریب ہے لیکن امریکہ داعش کے خاتمہ کے بعد اسے نئی شکل دینے اور خطے میں نئی جنگ چھیڑنے کی کوشش کررہا ہے۔

سید حسن نصراللہ نےآل سعود پر نکتہ چینی کرتے  ہوئے کہا: سعودی عرب خطے میں امریکی اہداف کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کررہا ہے خطے میں کشیدگی جاری رکھنے کے لئے امریکہ اور سعودی عرب کی پالیسی یکساں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: سعودی عرب امریکی پشتپناہی کی وجہ سے ہمسایہ مسلم ممالک اور مسلم عوام کے لئے بہت بڑآ خطرہ بن گیا ہے اورسعودی عرب لبنان میں بھی اختلافات پیدا کرنے کی تلاش و کوشش کررہا ہے۔

سید حسن کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے ہمسایہ ممالک کو خطرات لاحق ہیں آل سعود نے امریکی حمایت سے عراق، شام، لیبیا، بحرین، یمن اور قطر میں عظیم تباہی پھیلائی ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے عاشور کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ داعش کو جن ممالک نے تشکیل دیا تھا اب وہی داعشی ان کے لئے بھی بہت بڑا خطرہ بن گئے ہیں سعودی عرب نے داعش کو تشکیل دیکر اس کی پشت میں بھی خنجر گھونپ دیا ہے۔

سعودی عرب نے دہشت گردی کی حمایت کا پورا بوجھ قطر پر ڈال دیا ہے اور خود بری الذمہ ہونے کی کوشش کررہا ہے جبکہ دہشت گردی کی اصل جڑ خود سعودی عرب ہے اور امریکہ کو دہشت گردی کے حوالے سے تعاون فراہم کررہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری