غیر اعلامیہ اور مندرجات بیان نہ کرنے پر کور کمانڈر کانفرنس زیر بحث

پاکستانی میڈیا کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے اس کانفرنس کے بارے میں ایک روز قبل آگاہ نہ کرنے اور نہ ہی اس کانفرنس کے مندرجات بیان کرنے پر نہ صرف افواہیں گردش کرنے لگی ہیں بلکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کانفرنس میں زیر بحث آنے والے معاملات پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کردیا۔

کور کمانڈر

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملکی سیکیورٹی کو درپیش مسائل اور ہر بدلتی صورتحال میں فوج کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت خصوصی کور کمانڈرز منعقد ہوئی جو 7 گھنٹوں تک جاری رہی۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کور کمانڈرز کانفرنس میں بھارت کی جانب سے سرحد پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ اور نئی دہلی کی جانب سے جاری ہونے والے غیر ذمہ دارانہ بیانات زیر بحث آئے۔

تاہم پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے باضابہ طور پر اس طویل دورانیے پر مشتمل کانفرنس کا اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے عمومی طور پر ایک بیان جاری کیا جاتا ہے جس میں کور کمانڈر کانفرنس کے حوالے سے ریز بحث آنے والے امور سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

تاہم آئی ایس پی آر کی جانب سے اس کانفرنس کے بارے میں ایک روز قبل آگاہ نہ کرنے اور نہ ہی اس کانفرنس کے مندرجات بیان کرنے پر افواہیں گردش کرنے لگی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجرل جنرل آصف غفور نے کور کمانڈر کانفرنس اور اس میں زیر بحث آنے والے معاملات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

خیال رہے کہ یہ کانفرنس سابق وزیراعظم نواز شریف کے احتساب عدالت میں پیش ہونے کے ایک روز بعد منعقد کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جب نواز شریف سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپرز کیس کی روشنی میں نیب کی جانب سے دائر ریفرنسز کا سامنا کرنے کے لیے اسلام آباد میں سپریم جوڈیشل کونسل میں موجود احتساب عدالت پہنچے تو ان کے ہمراہ آنے والے وزراء بشمول وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو رینجرز اہلکاروں نے کورٹ میں داخل ہونے سے روک دیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے رینجرز حکام کو طلب کرلیا تھا۔

خیال کیا جارہا ہے کہ آرمی چیف کی جانب سے اس کانفرنس میں حالیہ دورہ افغانستان اور افغان صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے حوالے سے کور کمانڈرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری