کرد ریفرنڈم؛ ایران اور ترکی کی خطے میں اسرائیل کے نئے عزائم کو ناکام بنانے پر تاکید

مسلم دنیا کی دو بڑی طاقتوں ایران اور ترکی کے درمیان خطے میں اسرائیلی عزائم کو ناکام بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔

امیر حاتمی

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی نےترکی کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل خلوسی آکار کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ایران اور ترکی خطے کے دو بڑے اور اہم کردار ادا کرنے والے ممالک کی حیثیت سے ناجائز صہیونی ریاست کے نئے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ایران اور ترکی کے درمیان تاریخی، دینی اور ثقافتی مشترکات کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ تہران کی خارجہ، دفاعی اور سیکورٹی کے حوالے سے پالیسی میں ہمسایہ ملک ترکی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج مغرب اور ناجائز صہیونی ریاست خطے کے خلاف نئی سازشوں میں ملوث ہیں دوسری جانب داعش کے منصوبے میں امریکہ اور صہیونیوں کی شکست کے بعد اب وہ خطے کو تقسیم اور علیحدگی کی سازش پر اتر آئے ہیں مگر ایران اور ترکی ان سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے.

ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ حالیہ برسوں میں خطے میں ایسی تبدیلیاں ہوئیں جس سے صہیونیوں کو فائدہ اور عالم اسلام کو نقصان پہنچا اس کے علاوہ مسئلہ فلسطین کو جو اسلام کی اہم ترجیح ہے، کمزور کردیا گیا.

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقائی ممالک کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں ایران، ترکی اور عراق کے مشترکہ تعاون خطے میں امن و سلامتی کے قیام اور علیحدگی کی سازشوں سے نمٹنے کے لئے اہم ہے.

بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ موجودہ ایرانی حکومت ایران اور ترکی کی مسلح افواج کے درمیان تعلقات کے فروغ بالخصوص انسداد دہشتگردی کے حوالے سے تعاون کو بڑھانے کی بھرپور حمایت کرتی ہے.

اس ملاقات میں ترک چیف آف جنرل سٹاف نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کے حالیہ دورہ ترکی سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہوا ہے.

جنرل خلوسی آکار نے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے ایران اور ترکی کے درمیان تعاون کے فروغ کا خیرمقدم کیا.

انہوں نے کہا کہ ترکی، عراق اور شام کی جغرافیائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور ہم جغرافیائی سرحدوں میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کو تسلیم نہیں کریں گے.

انہوں نے مزید کہا کہ عراقی علاقے کردستان میں حالیہ ریفرنڈم کی مخالفت میں بھی ایران اور ترکی مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں.

سب سے زیادہ دیکھی گئی ایران خبریں
اہم ترین ایران خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری