"بُثینہ" کی ادھ کھلی آنکھ ۔۔۔ جس نے دنیا کی آنکھیں کھول دیں

اچانک رات کی خاموشی کو چیرتی ہوئی، جنگی طیاروں کی گھن گرج کی آوازیں گونجیں۔۔۔ بثینہ کی خوف کے مارے آنکھیں کھل گئیں ۔۔۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا تھا ۔۔۔ بثینہ دو سال کی تھی جب سے وہ ان طیاروں کی گھن گرج اور بم دھماکوں کی دھشتناک آوازیں سنتی آ رہی تھی لیکن اس بار ۔۔۔

"بُثینہ" کی ادھ کھلی آنکھ ۔۔۔ جس نے دنیا کی آنکھیں کھول دیں

خبر رساں ادارہ تسنیم: چوبیس اور پچیس اگست 2017 کی درمیانی شب تھی۔ رات کا ڈیڑھ بجا تھا اور جمعہ کی صبح کا سورج طلوع ہونے میں کچھ گھنٹے باقی تھے۔ محمد الریمی کی ساڑھے چار سالہ خوبصورت اور معصوم بیٹی بُثینہ اپنے پانچ بہن بھائیوں کے ساتھ  کمرے میں سوئی ہوئی تھی۔۔۔ اس کا دو سالہ بھائی ۔۔۔ اس سے کچھ فاصلے پر سویا ہوا تھا ۔۔۔ باقی بہن بھائی جن کی عمریں تین سال سے دس سال کے درمیان تھیں وہ بھی اسی کمرے میں سو رہے تھے۔

اچانک رات کی خاموشی کو چیرتی ہوئی، جنگی طیاروں کی گھن گرج کی آوازیں گونجیں۔۔۔ بثینہ کی خوف کے مارے آنکھیں کھل گئیں ۔۔۔  یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا تھا ۔۔۔ بثینہ دو سال کی تھی جب سے وہ ان طیاروں کی گھن گرج اور بم دھماکوں کی دھشتناک آوازیں سنتی آ رہی تھی ۔۔۔  وہ ہمیشہ سہم جایا کرتی تھی ۔۔۔ پھر کبھی اٹھ کر ماں کے پاس چلی جاتی اور کبھی اپنے بابا  کی آغوش میں دبک جاتی ۔۔۔ اس بار بھی سہم گئی تھی ۔۔۔ مگر اسے نہیں معلوم تھا کہ اس بار طیارے اسے ماں یا باپ کی آغوش تک پہنچنے کا موقع نہیں دیں گے۔۔۔ اس بار سعودی طیارے اس کے گھر اور خاندان کو تاراج کرنے آئے تھے۔

تین زور دار دھماکے ہوئے ۔۔۔ اور  بثینہ کا گھر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ اس کے ماں باپ، اس کے پانچوں بہن بھائی ۔۔۔ وہ دو سالہ بھائی بھی جس کے ساتھ وہ سب سے زیادہ کھیلا کرتی تھی ۔۔۔ اور اس کے خاندان کے دیگر سات افراد ۔۔۔ سب کے سب مرگئے ۔۔۔ بُثینہ کے گھر کے 14 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

معصوم بُثینہ معجزاتی طور پر بچ گئی اور شدید زخمی حالت میں اپنے گھر کے ملبے سے امدادی کارکنوں کے ہاتھوں نکالی گئی ۔۔۔ اسکے بدن پر کئی جگہ شدید چوٹیں آئی تھیں۔

اس کی آنکھیں اس قدر زخمی اور سوج گئی تھیں کہ وہ اپنی آنکھیں نہیں کھول سکتی تھی۔ ہسپتال میں دوران علاج اس معصوم بثینہ کو نہیں پتہ تھا کہ اس کے خاندان پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے اور وہ اپنے پیارے ماں باپ اور پانچوں بہن بھائیوں سے جن کے ساتھ وہ کھیلا کرتی تھی، ہمیشہ کیلئے بچھڑ چکی ہے۔۔۔  مگر اسے سعودی طیاروں کی گھن گرج اور خوفناک بم دھماکے یاد تھے۔

جس وقت ایک رپورٹر اس سے بات کرنے کے لئے اپنے کیمرے کے ساتھ اس کے پاس گیا تو اس نے اسے دیکھنے کے لئے اپنی سوجی ہوئی آنکھ کی پلکوں کو اپنے ہاتھ سے کھولا اور معصوم بثینہ کی ادھ کھلی آنکھ میں چھپے درد و الم کا منظر اس رپورٹر کے کیمرے میں قید ہو کر دنیا والوں تک پہونچ گیا۔ سوشل میڈیا پراس فوٹو کا وائرل ہونا تھا کہ اس نے دنیا کی آنکھیں کھول دیں۔۔۔

بُثینہ کی تصویر دنیا بھر میں سوسائٹی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لاکھوں انٹرنیٹ صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئی اور ہزاروں لوگوں نے اس بچی سے اظہار ہمدردی اور سعودی عرب کے وحشیانہ جنگی جرائم کی مذمت کرنے کے لئے بثینہ کے انداز میں اپنی تصویر لے کر سوشل میڈیا پراس Hashtag کے ساتھ شیئر بھی کیا۔ #BouthainaTheEyeOfHumanity

بُثینہ کے چچا علی الریمی نے روتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندے کو بتایا کہ آپ اس سے پوچھیں کہ اسے کیا چاہئے، تو وہ بس ایک ہی بات کہتی ہے کہ مجھے گھر جانا ہے۔۔ کیونکہ معصوم بثینہ اب بھی یہی سمجھ رہی ہے کہ گھر میں اس کے بہن بھائی اس کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ وہ ان کے ساتھ کھیلے۔ اب اگر اسے یہ پتہ چل جائے کہ اب کوئی نہیں رہا ۔۔ نہ اس کے ماں باپ اور نہ پانچوں بہن بھائی۔۔ تو اس کے دکھ اور کرب کا اندازہ کوئی لگا سکتا ہے؟؟

اسی رہائشی بلڈنگ پر سعودی طیاروں کی وحشیانہ بمباری سے بُثینہ کے خاندان کے 14 افراد کے علاوہ 3 اور افراد بھی جاں بحق ہوئے جن میں دو سالہ بچے باسم الحمدانی کے ماں باپ بھی شامل ہیں۔  یہ بچہ اور دیگر سات بچے اس بمباری میں زخمی ہوگئے تھے۔

راقمِ سطور بھی کافی دنوں سے اس المناک واقعے پر لکھنا چاہ رہا تھا مگر جب بھی لکھنے کیلئے بیٹھتا، اس معصوم بچی کی تصویر دیکھ کر درد و غم کے مارے  سینہ پھٹنے لگتا ۔۔۔ اس پانچ سالہ بچی کی بمشکل کھلنے والی آنکھ میں چھپے درد کو محسوس کر کے صرف آنکھ ہی نہیں دل بھی رونے لگتا ،  سوچیں لرزنے لگتیں ۔۔۔ پھر لکھنا بس میں نہیں رہتا تھا۔

مگر چند روز قبل جب اسی واقعے سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ نظر سے گزری جس میں انہوں نے تحقیق کے بعد ثابت کیا کہ 25 اگست کو معصوم بثینہ کے گھر پر سعودی طیاروں نے جو لیزر گائڈڈ بم گرائے وہ امریکی ساختہ تھے اور کسی "تکنیکی غلطی" کا نتیجہ نہیں تھے (جیسا کہ سعودی حکومت نے بیان دیا تھا)، بلکہ دانستہ طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔۔ اور اس کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر اس کے خلاف آزادنہ تحقیقات کے مطالبے کو برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے مسترد کردینے اور عالمی ذرائع ابلاغ کی خاموشی کو بھی ہدفِ تنقید بنایا۔۔

 تب راقم سے رہا نہیں گیا ۔۔۔ بُثینہ جیسی کتنی ہی معصوم بچیاں اپنی آنکھوں میں آنسو کی جگہ خون سمیٹ کر دنیا کے انسانوں کی طرف اس امید سے دیکھ رہی ہیں کہ کوئی  تو سعودی ظلم و ستم  پر آواز اٹھائے۔

ہم سب اپنی اپنی استعداد کے مطابق ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے مکلف ہیں۔ ۔۔۔اور ہم سب کو ایک دن خدا کے محضر میں حساب دینا ہے ۔۔۔

کہاں گزار دی سانسیں جواب مانگے گا

وہ جب بھی ہم سے ملے گا حساب مانگے گا

بُثینہ کی کہانی یمن میں سعودی عرب اوراس کے اتحادیوں کے انسانیت سوز مظالم کی ان گنت  المناک داستانوں میں سے ایک داستان ہے۔ تیس (30) مہینوں سے جاری یمن کے رہائشی علاقوں پر سعودی بمباری سے بُثینہ اور باسم کی طرح اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں سے بچھڑنے والے ہزاروں معصوم بچے سعودی شاہی حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ خادمِ حرمین شریفین کا ماسک پہن کرحرمین شریفین کے ماننے والوں کی یہ نسل کشی کب تک جاری رکھو گے ۔۔۔؟

آج  یمن  کے مظلوم مسلمانوں کا  سعودی جارحیت کے نتیجے  میں  ہونے والا قتل عام   دیکھ  کر انسانیت اپنا چہرہ دامن میں چھپا رہی ہے ۔۔۔ وہاں پر سعودی اور اتحادی فورسز کی جارحیت اور بربریت اس مقام پر پہنچ گئی کہ دلِ حساس خون کے آنسو روتا ہے۔۔۔ آپ احساس کیجیئے کہ یہ ظلم جب ہم اور آپ تصویروں اور ویڈیوز کے حوالے سے نہیں دیکھ پا رہے ہیں تو جن پر بربریت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں انکا کیا حشر ہوتا ہوگا۔۔۔۔ وہ اس درد کی شدت کو کیسے برداشت کرتے ہونگے۔

 یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے مظالم کے دلخراش حقائق، برطانوی اور امریکی پشت پناہی، یہودی تھنک ٹینک جیرالڈ ورسٹین کی اپنے ادارے کے ہمراہ سعودی جارحیت کو سپورٹ اور منصوبہ سازی، سعودی عرب کی عالمی ذرائع ابلاغ کی ’’خاموشی کی خریداری‘‘ اور چیک بک ڈپلومیسی، اپنے خلاف عالمی تحقیقات کو رکوانا،  مختلف تھنک ٹینک اور رائے عامہ کو متاثر کرنے والے اداروں کو کڑوڑوں ڈالرز کی فنڈنگ اور اپنی جارحیت کا دفاع وغیرہ سے متعلق راقم کے مضامین قارئین اسی ویب سائٹ پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں، ان کو دوبارہ یہاں ضبط تحریرمیں لانا مطلوب نہیں۔

۔۔۔۔۔۔  تاہم صرف ان قارئین کی خدمت میں جن کی نظر سے راقم کے گذشتہ مضامین نہیں گزرے، چند سطریں لکھ دوں کہ سعودی جارحیت کے تیس مہینوں سے زیادہ کے عرصے میں یمن میں اب تک پینتالیس ہزارسے زیادہ یمنی شہری ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں جن میں چار ہزار سے زیادہ بچے شامل ہیں۔   (296) دو سو چھیانوے اسپتال اور طبی امداد کے مراکز تباہ کردیے گئے ہیں، (794) سات سو چورانوے اسکول اور انسٹی ٹیوٹس، (114) ایک سو چودہ یونیورسٹیز،  (773ٔ) سات سو تہتر مساجد شہید کردی گئی ہیں اور (406289) چار لاکھ چھ ہزار دو سو نواسی گھر ملبے کا ڈھیر بنا دیئے ہیں جس کی وجہ سے تیس لاکھ سے زائد شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔

 یمن میں ہیضے کی وبا پھیلنے اور ہسپتالوں کی تباہی کی وجہ سے سات لاکھ بچے اس کا شکار ہوگئے ہیں۔  ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بچے کی ہلاکت ہورہی ہے اور ہر روز پانچ ہزار یمنی بچے ہیضے کی وبا کا شکار ہو رہے ہیں۔ 

 گذشتہ ماہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ یمن کے بچوں کی 80 فیصد تعداد کو ایمرجنسی بنیادوں پر طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

سعودی حکومت اپنے پیٹرو ڈالرز کی طاقت اور امریکہ و برطانیہ سے خریدے گئے اربوں ڈالرز کے اسلحے کے بل بوتے  پر نہتے یمنی  شہریوں پر لیزر گائڈڈ  بم،   ممنوعہ ڈزنی کٹر اور کلسٹر بموں کی بوچھاڑ کر کے  قتل و خون کی سیاہ روداد لکھ رہی ہے۔ سعودی  عرب اور اس کی اتحادی  جارح افواج  کے ہاتھوں یمن میں جو کچھ ہورہا ہے وہ انسانیت کو شرمسارکرنے والا ہے۔

 

مشہورصحافی نکولس کرسٹوف نے یمن پر سعودی جارحیت سے  متعلق اپنے گزشتہ ماہ کے کالم The Photos the U.S. and Saudi Arabia Don’t Want You to Seeجو نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا تھا، میں لکھا ہے کہ امریکی حکومت اس ظلم و جنایت میں برابرکی شریک ہے کیونکہ ایک  تو وہ سعودی حکومت کو یمن جنگ کیلئے اربوں ڈالر کا اسلحہ دے رہی ہے، پھر سعودی طیاروں کو ائیر ٹو ائیر ری فیولنگ اور فضائی حملوں کی انٹیلی جنس بھی فراہم کر رہی ہے۔

نکولس کرسٹوف نے یہ بھی لکھا ہے کہ  سعودی عرب کسی بھی بین الاقوامی صحافی کو یمن کے متاثرہ شہری علاقوں کی کوریج نہیں کرنے دے رہا اور وہ خود بھی ایک سال سے یمن جانے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں مگر سعودی حکومت ہر بار روکنے میں کامیاب ہوجاتی ہے کیونکہ سعودی طیاروں کے یمن کے فضائی محاصرے کے بعد کوئی کمرشل فلائٹ وہاں نہیں جاسکتی۔ صرف ایک راستہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر جہاز سے جایا جائے، مگر سعودی عرب اقوام متحدہ کو بلیک میل کرتا ہے، جس کی وجہ سے اقوامِ متحدہ صحافیوں کو وہاں نہیں لے جارہی ہے۔ 

ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کے مطابق، 2015 میں یمن جنگ کے آغاز پر امریکی حکومت نے سعودی عرب کو 2800 لیزر گائڈڈ بم MAU-169L/B GBU-48, اور GBU-54, GBU-56 فروخت کیے تھے جو کہ انتہائی مہلک گائڈڈ بم ہیں اور 2015 سے ابتک امریکہ و برطانیہ سعودی عرب کو ہزاروں کروز میزائل، ممنوعہ کلسٹر اور ڈزنی کٹر بم فروخت کرچکے ہیں اور یہ بم سعودی اور اماراتی طیارے  یمن کی شہری آبادیوں پر گرا رہے ہیں۔  

ایمنسٹی انٹرنیشنل مڈل ایسٹ کے ریسرچ ڈائرکٹر، لین مالوف کا کہنا ہے کہ ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ بم جس نے چار سالہ بچی بثینہ کے ماں باپ بہنوں بھائیوں سمیت خاندان کے 14 افراد کو ہلاک کیا، وہ امریکہ نے سعودی عرب کو دیا تھا۔

 لین مالوف کے مطابق، انتہائی شرمناک بات ہے کہ بجائے سعودی و اتحادی فورسز کو بین الاقوامی جنگی جرائم سے روکا جائے اور یمن میں شہریوں کی ہلاکت کا زمہ دار ٹہراتے ہوئے وار ٹریبونل میں کیس داخل کیا جائے، امریکہ اور برطانیہ مسلسل اپنا اسلحہ فروخت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

 ہیومن رائٹس واچ کے ڈائرکٹر ڈیوڈ میفام نے کہا ہے کہ برطانیہ نے یمن میں سعودی جنگی جرائم پر پردہ ڈالتے ہوئے ایک آزاد انٹرنیشنل انکوائری کے قیام کی تجویز کو مسترد کردیا ہے اور سعودی عرب اور اتحادیوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے سامنے سد راہ بن گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 30 مہینوں سے سعودی عرب کی جانب سے مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کا ارتکاب ہورہا ہے، جس کی وجہ شہری آبادیاں سنگین تباہی سے دوچار ہورہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرسیِ صدارت سنبھالتے ہی سعودی عرب کو امریکی اسلحے کی فروخت کو بے تحاشہ بڑھاوا دیا اور امریکی تاریخ کی سب سے بڑی اسلحے کی ڈیل کی گئی جبکہ سعودی عرب جس نے مارچ 2015 سے یمن پر خوفناک جنگ مسلط کی ہوئی ہے اپنے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی شدید پامالی اور بیگناہ شہریوں کے قتل عام کی وجہ سے عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔

جبکہ ان شہریوں کے قتل عام کو سعودی عرب "تکنیکی غلطیوں" کا نام دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتا آرہا ہے۔

 ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بار پھر سعودی عرب کو تمام ملکوں کی جانب سے اسلحے کی فروخت پر فی الفور پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

جس کے دل میں رمق برابر بھی انسانیت ہوگی اور جو بھی اپنے سینے میں انسانی دل رکھنے والا ہوگا وہ یقینا  یمنی مسلمانوں پر ہونے والے وحشیانہ مظالم پر تڑپ اٹھے گا ۔۔۔  باقی رہی حکمرانوں اور عالمی ذرائع ابلاغ کی بات، تو اُن کا ضمیر مفادات کا قیدی اور نگاہیں سعودی پیٹرو ڈالرز کے جلوہ سے خیرہ ہیں۔

شاید یمن کے ہسپتال کے ایک کمرے میں چند گڑیائوں کو اپنا ساتھی بنائے درد و الم کی تصویر بنی بیٹھی بُثینہ اور اس جیسی ہزاروں بُثیناوں کے نصیب میں ابھی مزید آنسو ہیں ۔۔۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری