جامعہ کراچی میں آئی ایس او کی جانب سے یوم حسینؑ کا انعقاد، اساتذہ اور طلباءکی شرکت


جامعہ کراچی میں آئی ایس او کی جانب سے یوم حسینؑ کا انعقاد، اساتذہ اور طلباءکی شرکت

جامعہ کراچی میں یوم حسین علیہ السلام کی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ حسینیت فرقہ واریت نہیں بلکہ اتحاد بین المسلمین کا ذریعہ ہے

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حسینیت ایک فکر اور ایک وژن کا نام ہے،حضرت امام حسین علیہ السلام کی ذات گرامی اور فکر حسینیت اسلامی فلاحی معاشرے کی تشکیل کا باعث ہے امام عالی مقام نے دین اسلام کی بقاء و احیا کے لئے عظیم قربانی دے کر اسلام کی آبیاری کی اور یزیدیت کو واصل جہنم کیا۔امام حسین علیہ السلام نے دین اسلام کی بقاءاور احیا ءکے لئے اپنی جان نثار کرکے ایثار وقربانی کی ایک عظیم تاریخ کربلا کے میدان میں رقم کی جس سے اسلام کی احیاءاور تجدید ہوئی، اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فکر حسینیت کو عام کریں اپنے کردار واخلاق سے یزیدیت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیں۔

ان خیالات کا اظہار علامہ احمد اقبال نے جامعہ کراچی میں سالانہ عظےم الشان یوم حسین علیہ السلام بعنوان مقصد ِ قیامِ امام حسین علیہ السلام اور ہماری ذمہ داری سے خطاب کرتے ہوئے کیاجس کا اہتمام دفتر مشیر امور طلبہ اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کراچی یونیورسٹی کی جانب سے پارکنگ گراﺅنڈ ایڈمن بلاک جامعہ کراچی میں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یزیدیت نہ اس وقت ختم ہوئی تھی اور نہ آج ختم ہوئی ہے بلکہ مختلف شکلوں میں آج بھی موجود ہے۔ اسلام کے نام پر مسلمانوں کو مختلف فرقوں میں تقسیم کردیاگیاہے، ہمیں متحدہ ہونے اور درس کربلا سے سیکھنے کی ضرورت ہے، آج پوری امت مسلمہ مسائل کا شکار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حسینیت کے جذبہ کو بیدار کیا جائے۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر اجمل خان نے طلباءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر بیدار ضمیر امام عالی مقام حضر ت امام حسین علیہ السلام کی یاد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، دور حضرت آدم علیہ السلام سے آج تک بقاءانسانیت کی خاطر حق وباطل کی جنگ جاری ہے۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ معرکہ حق وباطل میں طاقت کے زور پر کامیاب ہونے والے ہمیشہ ناکام ہوئے ہیں۔ واقعہ کربلا نے تاقیامت حق وباطل کے درمیان ایک لکیر قائم کردی ہے۔فکر حسینی علیہ السلام عام کرکے دہشتگردی کو شکست دی جاسکتی ہے نوجوانوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی اعلیٰ ترین درسگاہ کربلا ہے۔اس موقع پر منہاج القرآن کے رہنما مفتی مکرم قادری نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا مقصد دین محمد کی سربلندی تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جامعات میں یوم حسین علیہ السلام کے انعقاد کا مقصد اس بات کا ثبوت ہے کہ حسینیت فرقہ واریت نہیں بلکہ اتحاد بین المسلمین کا ذریعہ ہے۔ یزید ایک شخص کانام نہیں بلکہ ایک طرز کا نام ہے ہمیں حسینیت عام کرنے کے لئے اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔ مولانا عباس وزیری نے اپنے خطاب میں کہا کہ واقعہ کربلا وقوع پذیر ہوئے صدیوں گزر گئیں مگر ذہنوں اور دلوں میں امام کے ایثار اور صبر کے جذبے کو لازوال دوام حاصل ہے۔کربلا آکر حسین علیہ السلام زندہ جاوید ہوگئے جس کی زمانے نے بھی قدر ومنزلت کی اور یزیدیت کانام ونشان مٹ گیا۔

اس موقع پر طلباوطالبات نے نوحہ ،سلام ومرثیے کے ذریعے امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام و شہدائے کربلا کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر مشیر امور طلبہ پروفیسر عاصم، پروفیسر ڈاکٹر جمیل کاظمی، پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی، آئی ایس او کراچی ڈویژن کے صدر محمد یاسین سمیت اساتذہ وطلبہ کی کثیر تعداد موجودتھی۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری