جنرل رضوان اختر کی ریٹائرمنٹ پر سینیٹرز کے سوالات؛

کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ ایک تجربہ کار جنرل نے قبل از وقت استعفی کیوں دیا ؟

خبر کا کوڈ: 1542494 خدمت: پاکستان
مجلس سنای پاکستان

سینیٹر حافظ حمداللہ نے اجلاس کے دوران کہا کہ اس حوالے سے کوئی سوال نہیں کرے گا کیوں کہ ان کو پتہ ہے کہ اگر وہ ناراض ہوئے تو انتخابات میں پتہ نہیں کیا حال ہوگا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جمیعت علما اسلام ف کے سینیٹر حافظ حمداللہ نے اجلاس کے دوران کہا کہ ایک تجربہ کار جنرل نے کیوں وقت سے پہلے استعفی دیا ہے کوئی سیاسی جماعت ہے جو اس حوالے سے سوال کرے، کوئی پوچھے گا کہ وقت سے پہلے استعفی دینے کی وجوہات کیا ہیں۔

حافظ حمداللہ نے رضوان اختر کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک ایسا افسر جس نے کراچی جیسے اہم علاقے میں بھی فرائض سرانجام دیے اور ایک اہم عہدے پر فائز جنرل نے کیوں استعفی دیا ہے اور کیا وجوہات ہیں کہ جنرل رضوان اختر نے ایک سال پہلے ہی استعفی دے دیا۔

انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی سوال نہیں کرے گا کیوں کہ ان کو پتہ ہے کہ اگر وہ ناراض ہوئے تو انتخابات میں پتہ نہیں کیا حال ہوگا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر سلیم ضیا نے اس موقع پر کہا کہ ایک وزیر استعفی دے تو اس کے گھر کے باہر ڈیرے ڈال دیے جاتے ہیں لیکن ایک آرمی افسر استعفی دے تو کوئی سوال نہیں کرتا۔

انھوں نے کہا کہ کسی میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ اس افسر کے گھر کے باہر سے گذر سکے، کوئی پوچھ کر دکھائے۔

یاد رہے کہ دوروز قبل پاکستان کی اہم ترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کے موجودہ صدر لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے اچانک قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے اپنا استعفیٰ پاک فوج کے سربراہ جنر قمر جاوید باجوہ کو پیش کردیا ہے۔

اپنے استعفے میں لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی وجہ نجی معاملات کو قرار دیا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب بھی پاک فوج کو ان کی خدمات درکار ہوں گی تو وہ حاضر ہوں گے۔

لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں انفینٹری بریگیڈ ڈویژن کی کمانڈ کی جبکہ پشاور کور میں پلاننگ افسر کے عہدے پر بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

آئی ایس آئی کا سربراہ بننے سے قبل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کو 2012 میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رینجرز سندھ تعینات کیا گیا اور 2013 میں ان کی قیادت میں کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا جس میں انھوں نے موثر کردار ادا کیا۔

لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر کو 7 نومبر 2014 کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کردیا گیا جبکہ 11 دسمبر 2016 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی کے اہم عہدوں پر تبدیلیاں کرتے ہوئے انھیں خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا کر این ڈی یو کا صدر تعینات کر دیا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری