پاکستان کے تعلیمی اداروں میں آئس ڈرگ "کرسٹل" کے استعمال کا انکشاف

خبر کا کوڈ: 1543130 خدمت: پاکستان
آئس ڈرگ کرسٹل

پاکستان کے تعلیمی اداروں میں چرس اور ہیروئن کے نشے کے ساتھ ساتھ کرسٹل نامی آئس ڈرگ کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، ان تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم نوجوان نسل جسے مستقبل میں ملکی باگ ڈور سنبھالنی ہے وہ اپنی تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے نشے کی دلدل میں اترتی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق کرسٹل نامی ڈرگ جسے آئس ڈرگ بھی کہا جاتا ہے ، نوجوانوں میں مقبولیت پاتا جارہا ہے جس کی تازہ مثال ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبعلم سید محمد افعان ہے جوکہ جامعہ میں اس ڈرگ کا استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا، اس سے قبل چند بڑے اسکولوں میں ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں لیکن وہاںکی انتظامیہ کی جانب سے معاملے کو دبا لیا گیا۔

ایکسپریس نے وزیراعلی کے ترجمان رشید چنا سے اس سے متعلق پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات کے مطابق احکام محکمہ تعلیم اور صحت کو جاری کردیے گئے ہیں تاہم کیا عملی پیش رفت ہوئی اس سے متعلق معلومات نہیں۔

پولیس آفسر کے مطابق کراچی میں کرسٹل ڈرگ کی وافر مقدار میںبرآمد صوبہ پنجاب سے ہورہی ہے جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔کراچی میں کرسٹل ڈرگ، عام منشیات فروشوں کے پاس سے ہی آگے فروخت ہورہی ہے، کرسٹل ڈرگ کی فروخت کے گڑھ لیاری، بنارس، گڈاپ، پاک کالونی ہیں، یہ شیریں جناح کالونی میں بھی فروخت ہوتی تھی تاہم گذشتہ چند ماہ سے شیریں جناح کے اڈے بند ہوجانے کے باعث یہ وہاں نہیں مل رہی۔

نام نہ بتانے کی شرط پر پولیس آفسر نے بتایا کہ یہ ڈرگ کراچی کے پوش علاقوں میں پارٹی کے دوران اس کااستعمال عام ہے جبکہ شہر میں سیاسی سرگرمیوں اور جلسوں میں اس کی خریدوفرخت میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

کلینکل سا ئیکلوجسٹ اور ڈرگ ایکسپرٹ ڈاکٹر وکیل مراد نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کرسٹل جسے آئس ڈرگ بھی کہا جاتا ہے، یہ اس ڈرگ کا اسٹریٹ نام ہے ، اس کا کیمیائی نام ایم فیٹامین ہے جو کہ نئی ڈرگ ہر گز نہیں ہے، میں کئی عرصہ سے نشہ کے عادی افراد کا علاج کررہا ہوں، یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ سب سے مہلک نشہ ہے جس کے اثرات دیگر نشوں کے بجائے زیادہ ہولناک ہیں،یہ ڈرگ دماغ کو جگاتی ہے، انسان کو تھکاوٹ سے دور رکھتی ہے لیکن اس کے استعمال سے نفسیاتی مسائل رونما ہونے لگ جاتے ہیں۔

کرسٹل نشہ آوار علی(فرضی نام) نے بتایا کہ وہ تین سال قبل اس ڈرگ کی لت کا شکار ہوا، اس سے قبل وہ شراب نوشی، چرس اور کوکین کا استعمال عام کرتا تھا، اسے پہلی بار یہ ڈرگ ایک پارٹی کے دوران ملی تھی، جس کو کرنے کے بعدوہ مسلسل چار دن تک جاگا رہا۔

یہ نشہ انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے اس نشہ کے استعمال سے بھوک نیند سب مرجاتی ہے، صرف پانی کی طلب کبھی کبھی محسوس ہوتی تھی، وہ ایک بار میں ایک گرام کا چوتھائی حصہ استعمال کرتا تھا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اسے عجیب آوازیں سنائی دینے لگیں، اسے یاد نہیں رہتا تھا کہ وہ کب کہاں ہے، کیا کرچکا ہے، ملازمت سے استعفیٰ بھی اس نے ہذیان کی حالت میں دیا ۔علی 32 سال کا ہے اوریہ گذشتہ 18 سالوں سے مختلف نشوں کا عادی ہے، علی نے کمپوٹر انجینئر کی اعلی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے اور وہ نجی اسکول میں بطور استاد ملازمت کرتا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری