ترجمان عالمی ادارہ صحت کی تسنیم نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو؛

ناگہانی آفات کے مدنظر ایمرجنسی پلان کو اجلاس کے ترجیحاتی ایجنڈے میں رکھا گیا + ویڈیو

خبر کا کوڈ: 1543541 خدمت: انٹرویو
ابراہیم الکردارنی

ناگہانی آفات اور ایمرجسنی صورتحال کے دوران انسانی جانوں کے ضائع ہونے اور بیماریوں کے پھیلنے کے شدید خطرات ہوتے ہیں، جس کے باعث ایمرجنسی پلان کو سب سے زیادہ ترجیحاتی ایجنڈا کے طور پر رکھا گیا،

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مشرقی بحیرہ روم کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کی علاقائی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں صحت عامہ کے دو سو پچاس سے زائد نمائندوں اور ماہرین کے ساتھ ساتھ بائیس ممالک سے شعبہ صحت کے وزراء نے خطے کے ممالک میں عوام کے علاج معالجے سے متعلق ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر عالمی ادارہ برائے صحت کے ترجمان ڈاکٹر ابراہیم الکردانی نے تسنیم نیوز کےساتھ خصوصی گفتگو کی، ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کی اہم سالانہ میٹنگ ہے، جس میں خطے کے بائیس ممالک کے وفود شریک ہیں۔ اس اہم اجلاس میں ممبر ممالک کے ساتھ صحت عامہ کے حوالے سے حکمت عملی اور ترجیحات پر بات ہوئی ہے۔ اس سال ہمارے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ اس اجلاس کا افتتاح صدر پاکستان ممنون حسین نے کیا۔ جس کے باعث یہ اجلاس ہمارے لئے مزید اہم اور خاص ہو گیا ہے۔ مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں صحت عامہ کے حوالے سے ہماری بہت سی ترجیحات ہیں، جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ناگہانی آفات اور ایمرجسنی صورتحال کے دوران انسانی جانوں کے ضائع ہونے اور بیماریوں کے پھیلنے کے شدید خطرات ہوتے ہیں، جس کے باعث ایمرجنسی پلان کو سب سے زیادہ ترجیحاتی ایجنڈا کے طور پر رکھا گیا، اس خطے میں بہت سے ممالک کو ناگہانی آفات کا سامنا رہا ہے، امیر کے ساتھ ساتھ غریب ممالک بھی ہیں، جنہیں امداد کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح غیر سنچاری بیماریاں بھی ہمارے ایجنڈے پر ہیں، یہ بیماریاں گھر گھر میں موجود ہیں، جیسے کہ ہارٹ اٹیک، کینسر، نظام تنفس اور نفسیاتی بیماریاں شامل ہیں، انہیں آئندہ سالوں کے ایجنڈے پر ترجیحی حکمت عملی میں لیا گیا ہے۔

نئی حکمت عملی میں ناگہانی آفات کے دوران پھیلنے والی بیماریوں کو بھی ترجیحاتی ایجنڈا میں شامل کیا گیا ہے، اسی طرح ایڈز پر بھی کام کیا جائے گا، عالمی سطح پر صحت کے منصوبوں پر بھی کام کیا جائے گا، خطے کے ہر مستحق فرد تک پہنچیں جسے انسانی بنیادوں پر ہماری مدد کی فوری ضرورت ہو گی، ہمارے نئے ڈائریکٹر ڈاکٹر فکری نے چارج سنبھالنے کے بعد نیا لائحہ عمل ترتیب دیا ہے، جس کے تحت ایس ڈی جیز پر کام کیا جائے گا، خاص طور پر تیسرے ہدف پر کام کی رفتار تیز کی جائے گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری