مسقط اجلاس؛ کیا فریقین طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاسکیں گے؟

خبر کا کوڈ: 1548460 خدمت: دنیا
طالبان

چار فریقی تعاون گروپ (کیو سی جی) کے تحت افغان امن مذاکرات کے عمل کو آگئے بڑھانے کے لیے مسقط میں پاکستان، چین، امریکا اور افغانستان کے نمائندوں کا اجلاس منعقد ہوا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس ایک ’اعلامتی اجتماع‘ تھا جس کا مقصد 4 ممالک کے فورم کے طریقہ کار کو وضح کرنا تھا جو گذشتہ ایک سال سے تعطل کا شکار تھا۔

واضح رہے کہ کیو سی جی کے عمل کے چھٹے سیشن کے حوالے سے ہونے والی ملاقات کے بعد اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، یہ مذاکرات افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی گذشتہ سال مئی میں ڈرون حملے کے دوران ہلاکت کے بعد ملتوی ہوگئے تھے۔

پاکستان کی جانب سے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، امریکا کی جانب سے اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ایلس ویلس اور افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی اپنے اپنے وفد کی قیادت کررہے تھے۔

یاد رہے کہ کیو سی جی کے اہم مقاصد میں سے ایک افغان حکومت اور جنگجوؤں کو مذاکرات کی میز پر لانا بھی ہے جبکہ طالبان پہلے ہی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ وہ مسقط میں ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

ایک جاری بیان میں افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ چار فریقی اجلاس کے دوران کابل اور اسلام آباد کے تعلقات بہتر ہوں گے۔

طلوع نیوز کے مطابق عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس اجلاس میں زیر غور آئیں گے اور نتائج کے بارے میں آگاہ کردیا جائے گا‘۔

افغان میڈیا نے وزیر خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے کہا کہ کابل یہ اُمید کرتا ہے کہ ’ماضی میں ہونے والے وعدوں کو پورا کرنے اور امن کے لیے روڈ میپ دینے کے لیے مخصوص مقاصد واضح کیے جاٰٗئیں گے‘۔

واشگٹن میں موجود سفارتی مبصرین کا کہنا تھا کہ امریکا مذکورہ مذاکرات میں طالبان کو شامل کرنا چاہتا ہے، لیکن انہوں نے ساتھ ہی نشاندہی کی کہ مذاکراتی عمل میں طالبان کی غیر موجودگی کسی پیش رفت تک رسائی کے امکانات کو کم کردے گی۔

تاہم جنوبی ایشیا کے سینئر سفارت کاروں نے زور دیا کہ مذاکرات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ پاکستان کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے، جیسا کہ 21 اگست کی تقریر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔

جنوبی ایشیا کے حوالے سے امریکا کی نئی پالیسی میں طالبان سے فوری مذاکرات کی ضرورت کو کم کرکے اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ طالبان سے مذاکرات سے قبل انہیں جنگ کے میدان میں کمزور کیا جائے۔

ایک سفارت کار نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان سے مذاکرات کی بحالی کے عمل میں شرکت کرکے یہ واضح کیا ہے کہ وہ صرف فوجی آپشن استعمال نہیں کرنا چاہتے‘۔

حال ہی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈونفورڈ نے امریکی کانگریس کو بتایا تھا کہ ’ہم جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ افغانستان کو سراہتے ہیں اور ان کی افغان قیادت سے اچھی ملاقاتیں ہوئی ہیں جبکہ ان ملاقاتوں میں ہماری قیادت بھی شریک تھی‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے افغانستان سے پاکستان منتقل کیے جانے والے مغوی کینیڈین خاندان کی رہائی کے بعد ٹرمپ انتطامیہ کے لہجے میں تبدیلی دیکھی گئی۔

واشنگٹن میں ان مذاکرات کو طالبان سے فوری جنگ بندی کے تناظر میں نہیں دیکھا جارہا بلکہ انہیں اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان افغان تنازع کے سیاسی حل کے لیے موجود اختلافات کے خاتمے کے سلسلے میں دیکھا جارہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری