ناقابل شکست ایران عظیم رہبر کی زیر سرپرستی ترقی و کامرانی کی منازل طے کررہا ہے/ سعودیہ کو ایران کے بجائے امریکی مفاد عزیز ہے

خبر کا کوڈ: 1548698 خدمت: انٹرویو
قاضی احمد نورانی

رہنما جمعیت علمائے پاکستان کا کہنا ہے کہ ایران ناقابل شکست ہے، جو عظیم رہنما اور رہبر کی زیر سرپرستی ترقی اور کامرانی کی منازل طے کر رہا ہے جبکہ اس ملک کے دوٹوک موقف نے عالمی طاقتوں کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے سے جمعیت علمائے پاکستان اور معروف اہل سنت عالم مولانا قاضی احمد نورانی نے خصوصی بات چیت میں کہا کہ "امریکا خود کو دنیا کا اجارہ دار سمجھتا ہے، جب بھی کسی امن معاہدے کی بات ہو، اسلحے کے نقل و حرکت پر پابندی کو کوئی معاہدہ ہو، نیٹو کے نام پر کوئی سمجھوتہ ہو، علاقائی تعاون و ترقی کی بات ہو یا کسی اور نام پر کوئی معاہدہ یا سمجھوتہ ہو، ان سب معاہدوں میں امریکا صرف دکھاوے کی حد تک پیش پیش رہتا ہے، افغانستان پر جنگ مسلط کرنے کا معاملہ ہو یا عراق پر چڑھائی، ہر محاذ پر امریکا اپنی من مانی کرتا ہے، اسے صرف اپنا مفاد عزیز ہے، دیگر اتحادیوں کی اسے کوئی پروا نہیں، ایران کے معاملے پر بھی اس نے یہی روش اپنائی ہوئی ہے، جب پانچ بڑی طاقتوں نے ایران کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تو اب امریکی صدر کو معاہدے کے خدوخال پر تحفظات یاد آرہے ہیں، عجیب حرکت ہے، امریکا کی، اپنی انہی پالیسیوں کی وجہ سے امریکا کو دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔"

عالمی امن و سلامتی کے لئے امریکی کردار پر بات کرتے ہوئے قاضی احمد نورانی نے کہا کہ "امریکا موجودہ وقت کا فرعون ہے، اگر ہم دیکھیں تو تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور نمرود کا رویہ بھی وہی تھا جو آج امریکا کا ہے، وہ لوگ بھی ظالم اور جابر تھے، امریکا بھی امن و سلامتی کا دشمن ہے، کسی کا سکون و چین اسے برداشت نہیں، فرق صرف یہ ہے کہ نمرود نے حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا تھا، آج امریکا کے پاس جدید ہتھیار ہیں، جن سے وہ دنیا کو ڈراتا دھمکاتا ہے، جہاں دل چاہتا ہے، فوج اتارتا ہے، جنگ مسلط کرتا ہے، اپنے ہی بنائے گئے انسانی حوقو کے قوانین کو اپنے ہی پیروں سے کچلتا ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔"

ایران کے معاملے پر امریکا کی نئی ہرزہ سرائی کے حوالے سے قاضی احمد نورانی نے کہا کہ "امریکا صرف گیڈر بھبکیوں سے ایران کو دباو میں لینا چاہ رہا ہے، وہ جانتا ہے کہ ایران خلیج کی ایک اہم اور بڑی طاقت ہے، امرکا کو علم ہے کہ ایران نے خود کو ماضی کے مقابلے میں کافی زیادہ مضبوط کر لیا ہے، ایرانی قوم ناقابل شکست ہے، جو عظیم رہنما اور رہبر کی زیر سرپرستی ترقی اور کامرانی کی منازل طے کر رہی ہے، لیکن شاید امریکا کو اس بات کا ادراک نہیں کہ ایران نے ماضی میں بھی دنیا کی ناانصافیوں کے خلاد سخت جدوجہد کی اور اپنے دوٹوک موقف پر عالمی طاقتوں کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کردیا، جوہری معاہدہ بھی اسی کامیابی کی ایک کڑی ہے، جسے اب امریکا ختم کرنے پر تلا ہوا ہے، لیکن انشااللہ ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی بدترین زلت و رسوائی ہی امریکا کا مقدر بنے گی۔"

اگر امریکا ایران جوہری معاہدے سے پھرتا ہے تو اس سے کس کو نقصان ہوگا، کے جواب میں جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما قاضی احمد نورانی نے کہا کہ "امریکا صرف دھمکیاں دے رہا ہے، اگر اس نے ایک بار پھر بے غیرتی اور عالمی معاہدے کی پاسداری کو دھچکا پہنچاتے ہوئے ایران پر پابندیاں عائد کردیں تو اس سے ساری دنیا کو نقصان پہنچے گا، امریکا بھی اس نقصان سے محفوظ نہیں رہ سکے گا، معاہدے سے روگردانی کی صورت میں مختلف اقوام کے درمیان منفی رویئے پروان چڑھیں گے، جس سے دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہوگا۔"

جب امریکا کی موجودگی میں پانچ جمع ایک کے درمیان عالمی جوہری معاہدہ طے ہو چکا تو اب نئے امریکی صدر اسے کیوں ختم کرنے پر بضد ہیں، کے جواب میں قاضی احمد نورانی نے کہا کہ "امریکا کے نئے صدر نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے، تب سے ہی وہ متنازعہ بیانات کی وجہ سے خاصی شہرت پا رہے ہیں، ایران کا جوہری معاہدہ پر دوبارہ بیانات دینا اور تہران کو دھمکیاں دینا، دراصل امریکی صدر کی ذہنی بیماری کا عکاس ہیں، جب امریکا کا سابق صدر براک اوبامہ معاہدے پر دستخط کرچکا تو نیا صدر آکر اس کو کس طرح چیلنج کر سکتا ہے، اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ معاہدہ درست نہیں تھا تو پھر سابق امریکی صدر براک اوبامہ کے خلاف بھی تحقیقات شروع ہونا چاہئے، جو اس معاہدے میں پیش پیش رہے، جرمنی، فرانس اور دیگر ملکوں کے خلاف بھی امریکا کارروائی کرے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو یقینا امریکا خود غلطی پر ہے، جو دنیا کا امن برباد کرنے کے در پہ پے۔"

معاہدے کی منسوخی کے جواب میں ایران کا کیا متوقع ردعمل ہوگا، کےسوال پر قاضی احمد نورانی نے کہا کہ " کوئی مانے یا نہ مانے، ایران ایک بڑا ملک ہے، جو امریکا اور اسرائیل کو کھٹکتا ہے، ایران نے بالکل صاف اور واضح موقف اپنایا ہوا ہے کہ اگر معاہدے کو نقصان پہنچتا ہے تو امریکا کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایران کی حکومت عوام کو حوصلہ بلند کر رہی ہے، تمام ایران ایک ساتھ متحد ہے، اور سب سے بڑھ کر ایران نے جب دنیا کو یقین دہانی کروادی ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے، تو پھر امریکا کو کیا پریشانی ہے، امریکی صدر کو شوشے چھوڑنے کی عادت ہے، انھیں خبروں میں رہنے کا شوق ہے، اسی لئے انھیں دور کی سوجھتی ہے، جب ایران اور پانچ طاقتوں کے درمیان معاہدہ ہوا تھا تو اس وقت بھی عالمی توانائی ایجنسی کے نمائندوں نے تہران کے مختلف منصوبوں کا معاہدہ کیا تھا، اور کہا تھا کہ انھیں کوئی ایسے شواہد نہیں ملے، جس سے عالمی سلامتی یا کسی کو خطرہ ہو، معاہدے کے بعد بھی مختلف حکام نے ایران کا دورہ کیا، اور ایران کی جانب سے معاہدے کی پاسداری کی تصدیق کی، لیکن اب اچانک امریکا کی جانب سے متنازعہ بیانات عقل سے بالا ہیں۔"

جوہری معاہدے کو لے کر ایران امریکا تنازعے پر دنیا خصوصا پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما قاضی احمد نورانی نے کہا کہ "انشااللہ صورتحال جلد بہتر ہوجائے گی، کچھ نہیں ہوگا، اگر خدانخواستہ کچھ ہوا تو دنیا کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ حق پر کون ہے، معاہدے کی خلاف ورزی کون کر رہا ہے، پاکستان کو بھی کھل کر ایران کا ساتھ دینا چاہیئے، ایران نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، امریکا نے تو پاکستان کی قربانیوں تک کو فراموش کردیا، میرے خیال میں اب دوست سے دوستی کا حق ادا کرنے کا وقت ہے، دوسرے ملکوں کو بھی ایران کا ساتھ دیتے ہوئے امریکا کی سخت مخالفت کرنا چاہیئے۔"

اس سارے معاملے میں خود کو اسلام کا قلعہ کہلوانے والے سعوی عرب کے کردار پر قاضی احمد نورانی نے کہا کہ "سعودی عرب اہم اسلامی ملک ہے، جو خود کو امت مسلمہ کا بڑا رہنما سمجھتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سعودی عرب امریکا کا بھی اہم اتحادی اور دوست ہے، جبکہ ایران سے اس کی کوئی خاص سفارت کاری بھی نہیں، ایسے میں یقینا جب امریکی مفادات کو ٹھیس پہنچے گی تو سعودی عرب سامنے آئے گا، جس کا جھکاو بلا شبہ امریکا کی جانب ہوگا، حالانکہ وہ چاہے تو معاملے کو ختم کرنے کے لئے امریکا سے بات کر سکتا ہے، لیکن اسے ایران کے بجائے امریکی مفاد عزیز ہے، اس لئے وہ ایسا نہیں کر رہا ہے۔"

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری