جنوبی کشمیر کے ولرہامہ اننت ناگ میں مظاہرین پر فائرنگ ،سات افراد زخمی

خبر کا کوڈ: 1549317 خدمت: اسلامی بیداری
کشمیریوں اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپیں

جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں آج علی الصبح امن و قانون کی صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب فوج نے ولر ہامہ علاقے میںاحتجاجی مظاہرین پر فائر کھولتے ہوئے پانچ افراد کو زخمی کردیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق یہ مظاہرین علاقے میں ایک خاتون کی چوٹی کاٹے جانے کے واقعہ پر احتجاج کررہے تھے ۔

تفصیلات کے مطابق اننت ناگ کے ولر ہامہ علاقے میں بدھ کی صبح سات بجے نامعلوم افراد نے ایک مقامی خاتون شریفہ بانو زوجہ ذوالفقار احمد ساکن صوفی پورہ ولر ہامہ کی چوٹی کاٹ دی۔

ابتدائی اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس علاقے کے لوگوں نے اس شخص کو پکڑ لیا تھا، جس نے مبینہ طور پر خاتون کی چوٹی کاٹ دی تھی۔ لیکن فوج نے مداخلت کرتے ہوئے اسے لوگوں کی تحویل سے چھڑالیا اور سے اپنے ساتھ لیکر گئی۔ اس واقعہ کی خبر پھیلتے ہی علاقے کے مشتعل نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے۔

مظاہرین نے ایک فوجی گاڑی پر پتھراﺅ بھی کیا، جس کے بعد فوج نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔ پانچ افراد جو گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں، کو ضلع اسپتال اننت ناگ میں داخل کیا گیا ہے۔

جنوبی کشمیر کے پہلگام علاقہ میںچوٹی کاٹے جانے کے بعد ہوئے احتجاجی مظاہرے کے دوران فوج کی جانب سے فائرنگ کئے جانے سے زائد از نصف درجن افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ لوگوں کی جانب سے مقامی خاتون کے بال کاٹنے کے الزام میں پکڑے گئے دو مشکوک افراد کو فوج اپنے ساتھ لے گئے ہے۔

یہ واقعہ بجبہاڑہ-پہلگام روڑ پر آباد ولرہامہ گاوں میں شیعہ اکثریت والے صوفی پورہ کا ہے کہ جہاں صبح آٹھ بجے کے قریب نامعلوم افراد ایک گھر میں گھس گئے اور انہوں نے ایک خاتون، شریفہ زوجہ ذوالفقار احمد کی چوٹی کاٹنے کی کوشش کی۔

متاثرہ گھر والوںنے شور مچاکر آس پاس پڑوس کے لوگوں کو جمع کیا اور پھر لوگوں نے دو مشکوک افراد کو دبوچ لیا اور ان سے پوچھ گچھ کرنے کی کوشش کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی لوگ ملزموں سے بیان لے ہی رہے تھے کہ اچانک ہی فوج کی دو گاڑیاں نمودار ہوئیں جن میں سوار اہلکاروں نے گولیاں چلاکر بھیڑ کو تتر بتر کرنے کے علاوہ دونوں مشکوک افراد کو اپنے تحویل میں لے لیا۔

فائرنگ کی زد میں آکر کم از کم سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پورے علاقے میں غم و غصہ کے ساتھ ساتھ خوف و حراس کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ پورےعلاقے میں احتجاجی ہڑتال جاری ہے۔

وادی میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے خواتین کے بال کاٹے جانے کا پراسرار سلسلہ جاری اور ایک معمہ بناہوا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی کشمیر کے کولگام سے شروع ہوکر یہ پراسرار اور خوفناک سلسلہ اب پوری وادی میں پھیل چکا ہے اور ابھی تک مختلف اضلاع میں اس طرح کے زائد از ایک سو واقعات پیش آچکے ہیں جبکہ لوگوں نے ایسی درجنوں کوششیں ناکام بنادی ہیں۔

اس پر طرہ یہ کہ ابھی تک پولیس کو اس معمہ کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملاہے اور پولیس کاکہناہے کہ اس کے بارے میں تحقیات جاری ہیں۔

زلف تراشی کے واقعات میں روز افزوں اضافہ دیکھ کر پوری وادی میں کشیدگی کا ماحول چھایا ہوا ہے اور لوگ شام ہوتے ہی خوف و ہراس کے ماحول میں اپنے اپنے گھروں میں سہم کر رہ جاتے ہیں۔ اگر چہ نوجوانوں کی ٹولیاں اپنے اپنے علاقے میں گشت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن نوجوانوں میں بھی بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری