امام خامنہ ای: جوہری معاہدے کو پھاڑدیا گیا تو ہم بھی اس کے ٹکڑے کردیں گے

خبر کا کوڈ: 1549639 خدمت: ایران
امام خامنه ای

امام خامنہ ای کا کہنا ہے کہ جب تک دوسری طرف سے جوہری معاہدے کو نہیں پھاڑا جاتا ہم بھی نہیں پھاڑیں گے اور اگر اسے پھاڑدیا گیا توہم بھی اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امام خامنہ ای نے ملکی نوجوان دانشمندوں کے ایک گروہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے جوہری معاہدے کو پھاڑ دیا تو ہم بھی اسے کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔

امام خامنہ ای کا کہنا تھا کہ سو سال پہلے بھی کچھ لوگ کہا کرتے تھے کہ اگر ترقی کرنی ہے تو یورپ جائیں اور آج بھی کچھ خام ذہن لوگ اسی بات کو دہرا رہے ہیں، ہم پہلوی دور میں پچاس سال تک یورپ کے زیر اثر رہے، اس وقت کتنی ترقی کی؟ انقلاب اسلامی کی برکتوں سے سیاسی وابستگی کا خاتمہ ہوگیا ہے لیکن بعض دیگر وابستگیاں اب بھی موجود ہیں جن کا ازالہ کرنا ضروری ہے، کسی سے وابستہ ہونا انسان کو بے چارہ اور بدبخت کردیتا ہے، انہی وابستگیوں میں سے ایک علمی میدان میں ترقی کرنی ہے۔

رہبر معظم انقلاب نے کہا کہ ہم امریکی تسلط پسندانہ سیاست کو ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور امریکہ کی ایران دشمن پالیسوں کے باوجود آج ہم نہایت طاقتور قوم بن کر ابھرے ہیں اور ہر میدان میں ترقی کی ہے، ایران نے ترقی کے جتنے بھی منازل طے کئے ہیں، سب کے سب پابندیوں کے دور میں ہی کئے ہیں۔

میں امریکی صدر کی بدزبانی کا جواب دیکر اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا کیونکہ وہ جواب کے لائق بھی نہیں ہیں۔

سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ امریکہ بین الاقوامی سطح پر صہیونی ایجنٹ ہے اور خطے میں داعش اور تکفیریوں کی بنیاد رکھنے والا ہی امریکہ ہے جس کی وجہ سے جو بھی داعش کے خلاف میدان جنگ میں آتا ہے، اس پر امریکہ سخت ناراض ہوتا ہے، اس وقت امریکی ایران سے سخت نالاں ہیں کیونکہ ایران نے خطے میں ان کی تمام تر پالیسیوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

امام خامنہ ای نے اساتید اور نوجوان دانشمندوں کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مطمئن رہیں ایک بار پھر امریکیوں کا منہ کالا ہوگا اور ایرانی قوم ایک بار پھر اسے شکست سے دوچار کردے گی۔

سپریم لیڈر نے کہا کہ یورپی ممالک نے جوہری معاہدے کی حمایت کرکے امریکی صدر کو سخت جواب دیا ہے۔ ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن یورپی ممالک کا صرف اتنا کہنا کہ ہم جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہیں اور "اسے مت پھاڑو" کافی نہیں ہے، اگر امریکیوں نے جوہری معاہدے کو پھاڑ دیا تو ہم بھی اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔ مغربی ممالک کو چاہئے کہ امریکی غلط پالیسیوں کے خلاف عملی اقدات کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ایران کے دفاعی امور میں مداخلت کرنا بھی بند کردیں، یہ کہنا کہ ایران خطے میں کیوں ہے؟ ایران کے پاس میزائل کیوں ہیں؟ اس قسم کی باتوں کا خاتمہ ہونا چاہئے، ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے پاس میزائل اور ایٹم بم کیوں ہے؟

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری