ٹی ٹی پی نے آرمی پبلک اسکول حملے کے ماسٹر مائنڈ کی ہلاکت کی تصدیق کردی

خبر کا کوڈ: 1549681 خدمت: پاکستان
عمر منصور

خیال رہے کہ اس سے قبل جولائی 2016 میں یہ رپورٹس سامنے آئیں تھی کہ وہ افغانستان میں امریکی حملے میں ہلاک ہوچکا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق  تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) حملے کے ماسٹر مائنڈ اور ٹی ٹی پی کے گیڈر گروپ (گیدار گروپ) کے آپریشنل سربراہ عمر منصور عرف خلیفہ منصور عرف عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔

بدھ کے روز ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں کہا کہ تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل اور پشاور کے سابق امیر خلیفہ عمر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ ان کی جگہ نئے امیر خلیفہ عثمان منصور کی تقرری کا اعلان بھی کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے خلیفہ منصور عرف عمر نارے کی ہلاکت کی تصدیق ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ روز سیکیورٹی اداروں نے کہا تھا کہ حال ہی میں پاک-افغان سرحد پر ہونے والے ڈرون حملوں میں جماعت الحرار کے امیر عمر خالد خراسانی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ٹی ٹی پی درہ آدم خیل کے سربراہ عمر منصور عرف خلیفہ منصور عرف عمر نارے پر پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام تھا.

16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرکے 132 بچوں سمیت 144 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

اس کے علاوہ خلیفہ عمر منصور کو چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

ٹی ٹی پی کے ایک کمانڈر کے مطابق عمر منصور حکومت سے مذاکرات کا شدید مخالف تھا جبکہ وہ ابتدا سے ہی بہت سخت مزاج اور حکومت سے مذاکرات کے لیے لچک دکھانے والے کئی کمانڈرز سے اپنا راستہ الگ کرچکا تھا۔

صحافی حسن عبداللہ نے بتایا تھا کہ عمر منصور چارسدہ، ڈیرہ آدم خیل، نوشہرہ اور ارد گرد کے علاقوں میں طالبان کا علاقائی سربراہ تصور کیا جاتا تھا، جن کا شمار حکیم اللہ محسود کے قریبی حلقے میں ہوتا تھا جب کہ ایک وقت میں وہ عمر خالد خراسانی کے بھی قریب رہ چکے ہیں۔

حسن عبداللہ کہتے ہیں کہ ملک میں فوجی آپریشن کے تیز ہوتے ہی عمر منصور افغانستان منتقل ہو گیا لیکن اس حوالے سے بھی اطلاعات تھیں کہ وہ اس کے بعد بھی کئی مرتبہ پاکستان آچکے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ عمر منصور کے گروپ کا اصل تلفظ گیدار گروپ ہے، لیکن پاکستان میں اسے گیڈر گروپ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری