کشمیرمیں حکام کی جانب سے بندشیں عائد/ علیحدگی پسندوں کی جانب سے سول کرفیو کا اعلان

خبر کا کوڈ: 1551466 خدمت: اسلامی بیداری
کشمیریوں اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپیں

ہڑتال کے دوران ممکنہ احتجاجی مظاہرے ہونے کے پیش نظرضلع انتظامیہ نے سرینگرشہرمیں سنیچر کو کچھ علاقوں میں بندشیں عائدرکھنے کافیصلہ لیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے نے مقبوضہ کشمیر سے رپورٹ دی ہے کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے گیسو تراشی کے واقعات کے خلاف ہفتہ کو دی گئی احتجاجی ہڑتال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ سرینگر نے شہر خاص اور سیول لائنز کے تحت آنے والے نصف درجن سے زیادہ پولیس تھانوں کے زیرنگرانی متعدد علاقوں میں دفعہ 144 کے تحت بندشیں رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد سول اور پولیس حکام نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہڑتال کے دوران مظاہرے بھی ہوسکتے ہیں اور صورتحال بگڑنے کا اندیشہ بھی ہے، اس لئے سرینگر شہر میں 7 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سنیچر کیلئے دفعہ 144 کے تحت بندشیں عائد کی گئی ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ پولیس تھانہ رعناواری، خانیار، نوہٹہ، مہاراج گنج، صفا کدل، کرالہ کھڈ اور مائسمہ پولیس تھانہ کے تحت آنے والے علاقوں میں بندشیں رہیں گی اور اس دوران ان سبھی علاقوں میں کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے اضافی تعداد میں پولیس اور فورسز کے دستے تعینات کئے گئے ہیں۔

ہڑتال کال کے پیش نظر کشمیر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے سنیچر کو لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کر دئیے۔

حکام کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے یہاں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ شہر خاص سمیت درجنوں علاقوں کو خار دار تاروں سے سیل کیا گیا ہے جبکہ یہاں چپے چپے پر پولیس اور فورسز کے اضافی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔

شہر خاص میں پابندیوں اور بندشوں کے باعث وسیع آبادی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے جبکہ ٹریفک نظام بھی درہم برہم ہو کر گیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں خاص طور پر مریضوں کو اسپتالوں تک پہنچنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پابندی اور بندشوں زدہ علاقوں میں صبح سے ہی فورسز کی گاڑیوں کا گشت بھی شروع ہوا۔ حساس علاقوں میں فورسز کی بکتر بند گاڑیاں کھڑی کی گئی ہیں۔

اس دوران مزاحمتی قیادت کو احتجاجی مظاہروں کی قیادت سے روکنے کیلئے خانہ اور تھانہ نظر بند رکھا گیا۔ اس دوران ہ مزاحمتی قیادت کے ایک مشترکہ اجلاس میں ریاست جموں کشمیر کی گھمبیر صورتحال، خاص کر خواتین کی چوٹیاں کاٹنے اور اسٹیٹ سبجیکٹ لاءکو ختم کرنے پر تفصیلی غور و حوض ہوا۔

اجلاس میں ریاست جموں کشمیر میں بھارت کی افواج اور ریاستی حکومت کی طرف سے جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی، قتل و غارت اور لاقانونیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی، جبکہ خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے گھناونے جرائم کے خلاف 12 اکتوبر کو ریاست گیر ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے حریت پسند عوام کو اس روز سول کرفیو نافذ کرنے کا ناگزیر فیصلہ کیا ہے۔

مزاحمتی قائدین نے خواتین کو نشانہ بنانے کو بھارت کی فوجی منصوبہ سازی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کپواڑہ، پہلگام و دیگر واقعات چشم کشا ہیں کہ اس گھناونے کام کے لئے تربیت یافتہ افراد کو استعمال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی چوٹیاں کاٹنے پر مقامی پولیس کی چشم پوشی اور انتظامیہ کی پر اسرار خاموشی کی وجہ سے ان غیر اخلاقی حرکات میں ملوث افراد جری بنتے جارہے ہیں، جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا اور ایسے بے غیرت حملوں سے ہمارے اجتماعی صبر کا امتحان لیا جارہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری