پاکستان اور افغانستان میں مسلمانوں کے خون سے کھیل اور دونوں ممالک کے حکام کے بیہودہ الزامات بدستور جاری

خبر کا کوڈ: 1551675 خدمت: پاکستان
نقشه افغانستان و پاکستان

افغان وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہےکہ کابل، قندھار، پکتیا، غزنی اور غور کے حالیہ حملوں میں پاکستانی انٹیلی جنس ادارہ آئی ایس آئی ملوث ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے مختلف شہروں خاص کر قندھار، پکتیا، غزنی اور غور میں خودکش بم حملوں اور دہشت گردی کے واقعات میں افغان سیکورٹی فورسز سمیت 400 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پر عائد کی گئی ہے۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان جنرل دولت وزیری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی لہر میں پاکستان کے خفیہ ادارے ملوث ہیں اور ان حملوں کی تمام تر منصوبہ بندی پاکستان میں ہی کی گئی ہے۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان نے عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کی پناگاہوں کے خاتمے کے لئے پاکستانی حکام پر دباؤ ڈالے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل افغان پارلیمنٹ کے نمائندوں نے بھی افغانستان میں جاری دہشت گردی میں پاکستان کو ہی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد نے کابل کے خلاف ایک نئی جنگ کا باقاعدہ طور پر آغاز کیا ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد نے متعدد بار افغانستان اور بھارت کے تمام تر دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور پاک فوج نے ملک بھر سے دہشت گردوں کا خاتمہ کردیا ہے، اگرپاکستان میں کہیں کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس میں افغان سرزمین استعمال کی جاتی ہے اور وہاں سے حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں دنیا کے طاقتور ترین ملکوں کے بے شمار فوجی دستوں کی موجودگی کے باوجود حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان سیکیورٹی فورسز سمیت کم از کم 500 افراد ہلاک یا زخمی ہوگئے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری