یروشلم پوسٹ: نتین یاہو عراقی کردوں کے لیے اپنی لابنگ کو جاری رکھے گا

خبر کا کوڈ: 1552801 خدمت: اسلامی بیداری
نتانیاهو

اسرائیل کی داخلی قومی سلامتی کے سربراہ ایسی حالت میں جمعہ کے روز ماسکو اور واشنگٹن کے دورے سے واپس مقبوضہ فلسطین پہنچ گئے کہ عراقی کردوں کی سرنوشت اور ایران و شام کے حوالے سے اہم موضوعات اس کے دورے کے ایجنڈے کا حصہ تھے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے یروشلم پوسٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن اور ماسکو میں گفتگو عین اسی وقت انجام پائی جب اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور صہیونیوں نے اپنے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے شام پر تین مرتبہ حملہ کیا۔

بن شابات نے واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب ایچ آر میک ماسٹر اور ٹرمپ حکومت کے اعلیٰ عہدداروں سے ملاقات کی جس کے بعد وہ واشنگٹن سے روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچے۔ ان کے ساتھ وفد میں وزارت خارجہ و دفاع کے اعلیٰ عہدیداران بھی شامل تھے۔

صہیونی عہدیداروں کے مطابق بنیامین نتین یاہو نے نے گذشتہ ہفتے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور اس سے ایک ہفتہ قبل جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے ملاقات کی اور کردستان کی علحیدگی کے موضوع پر بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کرد مغرب کے حامی اور آزادی کے حقدار ہیں۔

ایک مہینہ قبل نتین یاہو دنیا کے پہلے صدر کے طور پر کردستان ریفرینڈم کی حمایت میں سامنے آئے اور اس وقت سے لیکر اب تک عراقی فوج کہ جس نے گذشتہ ہفتے ہی تیل سے مالامال علاقے کرکوک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، کے مقابلے میں کردوں کی حمایت کرتا آرہا ہے لہٰذا واضح ہے کہ دنیا کا واحد رہنما عراق کیخلاف کردوں کی حمایت میں لابنگ میں مصروف ہے۔

صہیونی وزیر اطلاعات نے جمعہ کے روز اسرائیلی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہماری ترجیح کردوں پر حملے میں رکاوٹ ڈالنا، ان کو ہر قسم کی تنگی و تکلیف سے بچانا اور علاقے میں ان کی آزدی کی حق کو کسی قسم کا نقصان پہچانے سے روکنا ہے۔ اتفاق سے ایران، ترکی اور عراق میں شیعہ حکومت اور دوسری قوتیں ایسا چاہتیں ہیں۔

کاٹز نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نتین یاہو بطور یقین امریکہ، جرمنی، فرانس اور روس کو کردوں کو تکلیف و نقصان سے بچانے کے لیے آمادہ کریں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری