"قادیانیت" سے زیادہ خطرناک "بہائیت" سازش سے پاکستانی عوام اور حکومتی ذمہ داران غافل + ثبوت

خبر کا کوڈ: 1552979 خدمت: اسلامی بیداری
بہائیت

بہائیت کے خطرناک عزائم سے عوامی عدم آگہی اور حکومتی غفلت کے باعث پاکستان میں ایک خطرناک سازش فروغ پانے لگی ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطبق قادیانیت سے زیادہ خطرناک سازش سے عوام اور حکومتی ذمہ داران غافل ہیں جس کے باعث پاکستان میں بہائیت پھلنے پھولنے لگی ہے۔

ذرائع کے مطابق بہائیت کے خطرناک عزائم سے عوامی عدم آگہی  اور حکومتی غفلت کے باعث پاکستان میں ایک خطرناک سازش  فروغ پانے لگی ہے۔

بہائیت کے خفیہ اہداف کی تکمیل کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں مراکز کھلم کھلا کفریہ عقائد کا پرچار کرنے کے ساتھ ساتھ صہیونی ایجنڈے کو پروان چڑھانے میں مصروف ہیں۔

علاوہ ازیں بہائیت کے پرچار کے لئے سوشل میڈیا کو بھی بروئے کار لایا جارہا ہے اور سادہ لوح عوام کو ملک میں موجود دفاتر سے رابطے کرنے کو کہا جاتا ہے۔

جس طرح قادیانیت سادہ لوح عوام کو پیسے اور ملک سے باہر بھجوانے کا لالچ دیکر اپنے جھانسے میں گرفتار کرتی رہی ہے اسی انداز میں بہائیت بھی اس وقت مصروف عمل ہے۔ 

افسوس ناک امر یہ ہے کہ اہل تسنن کے ساتھ ساتھ تشیع سے تعلق رکھنے والے افراد اور علمائے کرام کا بھی ان مراکز میں آنا جانا نوٹ کیا گیا ہے۔ 

حالانکہ علمائے کرام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بہائیت کے خطرات سے عوام اور حکومت کو  آگاہ کریں۔ 

تسنیم نیوز نے اس سے قبل بھی بہائیت کے خطرات کے حوالے سے عوامی شعور مہم چلائی تھی جس کا مقصد عوامی اور حکومتی خواص کو متوجہ کرنا تھا۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قادیانیت اور بہائیت  اسلام مخالف تحریکوں میں سر فہرست ہیں۔ جن دنوں ہندوستان میں قادیانیت کی داغ بیل ڈالی جا رہی تھی ٹھیک انہی دنوں میں ایران میں بہائیت کو پروان چڑھایا جا رہا تھا چونکہ دونوں کے مقاصد ایک تھے اس لیے ان کے طریقۂ کار میں بھی حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے جو اس بات کی غماز ہے کہ اسلام کے خلاف یہ دونوں ہی بہت بڑی گھناونی سازشیں ہیں جن کا قلع قمع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ بہائیت کا مرکز غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے شہر حیفا کے "کوہ کرمل" میں ہے۔

نیچے دی گئی تصویر بہائی سنٹر کی ہے، جہاں پروفیسر مہرداد کے ساتھ علامہ اصغر عسکری اور ان کے سامنے تحریک فقہ جعفریہ کے مسئولین کو دیکھا جا سکتا ہے۔

 

 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری