تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

روزگار کی تلاش میں عراق جانے والے افراد ہوشیار

خبر کا کوڈ: 1553758 خدمت: دنیا
اتوبوس اربعین

چند سالوں سے محرم الحرام اور اربعین حسینی کے ایام میں کچھ منفعت پسند حضرات پاکستان اور ہندوستان سے متعدد افراد کو عراق لے جاکر بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روزگار کی تلاش میں عراق جانے والے دسیوں پاکستانی اور ہندوستانی اس وقت اس ملک کے مختلف جیلوں میں قید ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

اربعین حسینی قریب آتے ہی بعض لوگ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر فعال ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کہ روزگار کی تلاش میں عراق جانے والے حضرات کے لئے بھی ویزا دلوایا جائے گا۔

واضح رہے کہ عراق میں قانونی طور پر کسی بھی ملک کے شہری کو نوکری کرنے کا ویزا نہیں دیا جاتا، بعض منفعت پسند لوگ عراق میں نوکری دلوانے کے بڑے بڑے وعدے کرکے لاکھوں روپے بٹورتے ہیں اور زیارت کا ویزا حاصل کرنے کے بعد انہیں عراق لے جا کر بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ایجنٹ فی نفر کے حساب سے ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ تک روپے لیتے ہیں اور عراق میں اقامہ سمیت ہر ماہ 70 سے 80 ہزار پاکستانی روپیہ دلوانے کے جھوٹے وعدے کرکے زیارتی ویزے پر انہیں عراق پہنچاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق روزگار کی تلاش میں نکلنے والوں کو باقاعدہ طور پر عراق کے مختلف شہروں کے ہوٹل مالکان پر کمترین تنخواہ کے عوض ایک سال کے لئے ایک ہزار ڈالر میں فروخت کردیا جاتا ہے۔

عراق میں موجود ایک جوان کا تسنیم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نجف اشرف کے ایک ہوٹل میں کام کرنے کے عوض مجھے اقامہ سمیت 80 ہزار روپیہ ماہانہ تنخواہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، اب صرف 30 ہزار روپیہ کے عوض 18 گھنٹے سے زائد کام لیا جاتا ہے، نہ ہمارے پاس اقامہ ہے اور نہ ہی رہائش کا انتظام ہے، 30 ہزار روپیہ تو ہم اپنے ملک میں بھی کماتے تھے، ہم یہاں بہت پریشان ہیں، پولیس کی ڈر سے ہم باہر بھی نہیں نکل سکتے، ہوٹل مالکان کہہ رہے ہیں کہ چوبیس گھنٹے ہوٹل کے اندر ہی رہیں ورنہ جیل جانا پڑے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ہم نے ہوٹل والے سے اقامہ اور تنخواہ کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کے ایجنٹ سے ایک ہزار ڈالر کے عوض بغیر اقامہ کے ماہانہ 30 ہزار کا معاہدہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ عراق میں اس وقت پاکستان، ہندوستان اور بنگلادیش سے تعلق رکھنے والےہزاروں افراد مختلف جگہوں خاص کر ہوٹلوں میں کام کرتے نظر آتے ہیں تاہم ان میں سے اکثریت کے پاس اقامہ نہ ہونے کی وجہ سے سخت پریشانی سامنا ہے جبکہ سینکڑوں افراد کو عراقی سیکیورٹی فورسز نے جیل روانہ کردیا ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری