اس بار نواز اور زرداری کو کسی قسم کی چھوٹ نہیں ملے گی/ خارجہ پالیسی کا بیڑا غرق، بھارت کا معاملہ الگ ایران اور افغانستان کیوں؟

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ روس، چین اور ایران ہمارے لئے اچھے دوست ثابت ہوسکتے ہیں، تو پھر ہم ان سے تعلقات بہتر کیوں نہیں کرتے؟

اس بار نواز اور زرداری کو کسی قسم کی چھوٹ نہیں ملے گی/ خارجہ پالیسی کا بیڑا غرق، بھارت کا معاملہ الگ ایران اور افغانستان کیوں؟

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے کو دئے گئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے تفصیلی انٹرویو کا دوسرا حصہ پیش خدمت ہے۔

سابق وزیر اعظم کی نااہلی کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے سبراہ عمران خان نے کہا کہ "ہم تو پہلے ہی روز سے کہہ رہے تھے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، نواز شریف ٹھیک آدمی نہیں، اس کی تحقیقات ہونا چاہیئے، اسی جدوجہد کو لے کر ہم نے اسلام آباد میں پاکستان کی تاریخ کا طویل دورانیے کا دھرنا دیا، ہمارا مطالبہ صرف یہی تھا کہ وہ تین حلقے جہاں دھاندلی کا واضح ثبوت ہے، انھیں دوبارہ کھولا جائے، جب تک نواز شریف کسی اور کو وزیراعظم کی ذمہ داریاں سونپ دیں، لیکن انھوں نے اس وقت بھی سازش کی، بہرحال عدالت اور الیکشن کمیشن کے حکم پر انتخابی حلقے کھولے گئے، لیکن بدقسمتی سے یہ بچ گئے، لیکن اس کے باوجود میں مسلسل کہتا رہا کہ نواز شریف کو ہٹایا جائے، ہم نے ہر فورم پر نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیا، اور آپ دیکھئے کیا ہوا، وہی ہوا ناں جو ہم شروع سے کہہ رہے تھے، اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، آخر کار سپریم کورٹ نے اسے نااہل کردیا۔"

نواز شریف کی نااہلی کے بعد اب پی ٹی آئی کا کیا مطالبہ ہے، کے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ "ہمارا کوئی خاص مطالبہ نہیں، ہم تو صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ حدیبیہ اسٹیل مل کا کیس بھی عدالت میں لگایا جائے، تاکہ مزید کرپشن ثابت ہونے کے نیتجے میں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو سزا ہوسکے، اسحاق ڈار جو ملک کا وزیر خزانہ بنا بیٹھا ہے، وہ بھی پیشیاں بھگت رہا ہے، عنقریب ان کی بھی چالاکی اور کرپشن ثابت ہوجائے گی، جس کے بعد وہ بھی نااہل ہوجائیں گے۔"

آپ پر بھی تو نااہلی کیس چل رہا ہے، اس بارے میں کچھ بتائیے، کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ "کیس تو چلتے ہی رہتے ہیں، جب ہم نے نواز شریف کو عدالتوں میں گھسیٹا تو ان لوگوں نے بھی میرے خلاف کیس دائر کردیا، میرا کیس ان سے بالکل مختلف ہے، وہ میرے پیسے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں، لیکن یہ تو ساری دنیا کو معلوم ہے کہ جمائما اسمتھ نے میرے شوکت خانم اسپتال کے لئے کتنا فنڈ دیا، اس کے علاوہ باقی لوگ بھی کچھ نہ کچھ مدد کرتے رہتے ہیں، اب میں ساری رقوم تو یاد نہیں رکھ سکتا، لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں نے ملکی خزانے سے پیسہ چرایا ہے، یا میں کرپٹ ہوں، میرے وکیل نے عدالت میں ثبوت جمع کرائے ہیں، بنی گالا جو میری رہائش گاہ ہے، اس کی اراضی کے سلسلے میں بھی دستاویزات پیش کی ہیں، کہا جا رہا تھا کہ میرے پاس ثبوت نہیں، ثبوت تھے، جبھی تو عدالت میں جمع کرادیئے، البتہ کچھ تاخیر ہوئی، لیکن سارا ریکارڈ عدالت میں جمع کروادیا۔"

خیبرپختونخوا میں حکومت قائم کرنے کے بعد اب پی ٹی آئی نے سندھ میں انٹری دی ہے، کے سوال کے جواب میں عمران خان کے کہا کہ " ہاں ہم نے دو روز قبل سیہون شریف میں بھی جلسہ کیا، آپ دیکھیں میں اس وقت کراچی میں بیٹھا ہوا ہوں، ہمارا ارادہ سندھ کے باقی شہروں میں جانے کا بھی ہے، میرا خیال ہے، پورا ملک ہم سب کا ہے، اس لئے ہمیں آمدورفت میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیئے، سندھ والے ہمارا شاندار استقبال کر رہے ہیں، یعنی وہ بھی تبدیلی چاہتے ہیں، سب سے زیادہ کرپشن سندھ میں ہے، جہاں لوگ کھلے عام بھتہ جمع کر کے سیاسی پارٹی کو دیتے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں چلے گا، نواز شریف اور زرداری نے باری لگا رکھی ہے، اس مرتبہ شریف خاندان اور آصف زرداری کو کسی قسم کی چھوٹ  نہیں لینے دیں گے۔"

پی ٹی آئی ہمیشہ کرپشن کی بات کرتی ہے، کیا دوسری سیاسی جماعتیں اس لعنت کے خلاف آواز نہیں اٹھاتیں، کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ "اللہ کا شکر ہے کہ اب پاکستانی قوم کرپشن سے باعلم ہوچکی ہے، ورنہ کہا جاتا تھا کہ عمران خان فضول میں شور مچا رہا ہے، لیکن دیکھیں ہمارا شور بے کار نہیں تھا، کچھ تو تھا ناں جس پر اتنی بڑی تبدیلی آئی، ایک وزیراعظم نااہل ہوگیا، قوم بھی سمجھ گئی کہ ہمارا وژن صاف اور واضح ہے، ہم ان کے خلاف نہیں ہمارا مقصد صرف بدعنوانی کا خاتمہ ہے، جہاں تک دوسری جماعتوں کی بات ہے جب ہم نے دھرنا دیا تھا تو اس وقت بھی پیپلز پارٹی کے بلاول اور خورشید شاہ نے ہمارے ساتھ آواز بلند کی تھی، باقی جماعتوں کی جانب سے بھی بیانات سامنے آئے تھے، میرے خیال سے کرپشن کو برا سب کہتے ہیں لیکن ہر ایک میں اس کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں، یا شاید کسی نہ کسی طرح سب ہی اس میں ڈوبے ہوئے ہیں۔"

ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ "ہم یہاں تاجروں سے ملاقات کے لئے آئے ہیں، بلکہ آئندہ انتخابات کے لئے اپنا معاشی منشور لے کر ان لوگوں کے پاس آئے ہیں، میرے ساتھ میرے دیگر ساتھی بھی ہیں یہاں موجود ہیں، حکومت نے پاکستان اسٹیل مل اور پی آئی اے سمیت کئی سرکاری ادارے تباہ کر دیئے، برآمدات گرنے سے تجارتی اور مالی خسارہ بڑھ رہا ہے، خسارے میں کمی کے لئے بیرونی تجارت پر توجہ دینا ہوگی، خارجہ پالیسی کا بیڑا غرق ہوگیا ہے، پڑوسیوں سے تعلقات میں اتارچڑھاو رہتا ہے، بھارت تو چلیں الگ ہی معاملہ ہے اس کا تو، لیکن افغانستان اور ایران کو دیکھیں، ان سے بھی معاملات بہت اچھے نہیں، ہم تو کہتے ہیں پڑوسیوں سے دوستی کر کے تجارت بڑھائیں، چین دوست ہے، لیکن باقیوں کو تو نظر انداز نہ کریں، ایران سے تجارت پاکستان کے لئے سودمند ثابت ہوسکتی ہے، پاکستان اور ایران دونوں مل کر ترقی کرسکتے ہیں۔"

آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی اور اس کے ووٹرز سے کیا امیدیں ہیں، کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ "ہم دوسرے مسائل کے ساتھ الیکشن کی بھی تیاری کر رہے ہیں، میرے خیال سے ملک کے نوجوان انتخابات میں بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں، ملک کو چلانے کے لئے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا، پی ٹی آئی ایسے نئے نوجوانوں کو الیکشن میں ٹکٹ دے گی، جو ملک کی خدمت کرسکیں، کسی رشتے دار کو نہیں نوازا جائے گا الیکشن میں۔"

اگر اقتدار کا ہما پی ٹی آئی کے سر بیٹھتا ہے تو کیا حکمت عملی ہوگی، کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ "حکومت تو ہماری ابھی بھی ہے، خیبرپختونخوا کو دیکھ لیں، وہاں ہم نے کیسا انقلاب برپا کیا ہے، سب سے پہلے پولیس کو سیاست سے پاک کیا، روزگار میں اضافہ کیا، صوبے میں ستر فیصد جرائم کم ہوگئے، جس کا اعتراف سب کر رہے ہیں، کے پی کے میں امن قائم ہے، اب وہاں لوگ خوشی خوشی آتے ہیں، لوگوں کو جان و مال کا تحفظ حاصل ہے، میں نے تو چار سال میں ایک فیکٹری نہیں لگائی، اپنے رشتے داروں کو کہیں بھرتی نہیں کیا، میں نے کوئی قرضہ نہیں لیا، صرف بزنس کمیونٹی کے لئے ماحول سازگار بنایا، ترقی خود بخود آگئی۔"

موجودہ حکومت کو پیغام دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے مزید کہا کہ "حکومت براہ راست اور انڈائریکٹ ٹیکسوں کی شرح کم کرے، جس سے مہنگائی پھیل رہی ہے، پانی، بجلی اور گیس کے نرخ کم کئے جائیں، پولیس کا نظام درست کیا جائے، اور بھرتیاں میرٹ پر کی جائیں تو میرے خیال سے بہتری ممکن ہے۔"

سب سے زیادہ دیکھی گئی انٹرویو خبریں
اہم ترین انٹرویو خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری