امریکی سرپرستی میں افغانستان میں افیون کی کاشت ریکارڈ سطح پر

خبر کا کوڈ: 1556557 خدمت: دنیا
پوست کی کاشت

امریکہ کی افغانستان میں موجودگی کا مقصد نہ صرف اس ملک کے قدرتی وسائل پر قبضہ ہے بلکہ اس ملک میں پوست کی پیداوار جس کا کاروبار اسلحے کی مانند دنیا کے منافع بخش کاروباروں میں ہوتا ہے، میں بھی واشگٹن کا خاص کردار ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق افغانستان میں منشیات کی پیداوار امریکی سرپرستی میں 64 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، 3 لاکھ 40 ہزار ہیکٹرز پر پوست کی فصل کاشت ہورہی ہے۔

افغانستان میں پوست کی کاشت میں یک دم بے پناہ اضافہ ہوگیا، رواں برس گزشتہ سال کے مقابلے میں دگنی پوست کاشت کی گئی۔

افغان وزیر برائے انسداد منشیات سلامت عظیمی نے وائس آف ایشیا پشتو سروس کو بتایا کہ بدامنی کے سبب حکومت پوست (پوپی سیڈ) کی پیدوار کو روکنے کے پروگرام پر عمل درآمد نہیں کرسکی جس کے سبب پوست کے پودے کی کاشت یک دم 64 فیصد اضافے کے ساتھ 3 لاکھ 40 ہزار ہیکٹرزیعنی 8 لاکھ 40 ہزار ایکڑ تک پہنچ گئی ہے۔

ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ بدعنوانی اور حکومتی کمزوریوں کے سبب ریاست کو منشیات کے سونامی کی تباہی کا سامنا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پوست کی کاشت میں 2015ء کے مقابلے میں 46 فیصد اضافہ ہوا، یہ کاشت دولاکھ ایک ہزار ہیکٹر رقبے پر تھی جس سے چار ہزار 700 ٹن افیم حاصل کی گئی۔

وائس آف ایشیا پشتو سروس کو ذرائع نے بتایا کہ رواں برس پوست کی کاشت کے ذریعے 10 ہزار ٹن سے زائد افیم حاصل کی گئی جسے ریفائن کرکے ہیروئن حاصل کی گئی۔

اقوام متحدہ کے شعبہ جرائم اور منشیات کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار کا 16 فیصد پوست کی کاشت تھی جو کہ پورے ملک کی زراعت کا دو تہائی حصہ تھی (یعنی پورے ملک کی زراعت کے تین حصے کیے جائیں تو ایک حصہ دیگر فصلیں اور بقیہ دو حصے پوست کی کاشت کی گئی)

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں بدامنی، تشدد، بغاوت اور پوست کی کاشت کے عوامل کے سبب پرائیویٹ اینڈ پبلک انویسٹمنٹ کو خطرات کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ سال 2001ء میں طالبان کی حکومت میں پوست کی کاشت پر پابندی عائد کردی گئی تھی تاہم ان کی حکومت ختم ہونے اور امریکی و اتحادی افواج کی آمد سے یہ کاشت یک دم پہلے سے بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

امریکا کی جانب سے پوست کی کاشت کے سوا دیگر فصلوں کی کاشت کے لیے کئی بار کسانوں کی حوصل افزائی کی مد میں اب تک اربوں روپے خرچ کیے گئے مگر نتیجہ کچھ خاص نہ نکلا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری