قادیانیت کی طرح بہائیت بھی انحرافی فرقہ اور استعماری ایجنڈا ہے/ وزارت مذہبی امور کا آج تک امور زائرین میں کوئی کردار نہیں دیکھا گیا


قادیانیت کی طرح بہائیت بھی انحرافی فرقہ اور استعماری ایجنڈا ہے/ وزارت مذہبی امور کا آج تک امور زائرین میں کوئی کردار نہیں دیکھا گیا

ایم ڈبلیو ایم کے رہنما کا اس بیان کیساتھ کہ فضل الرحمان سپاہ صحابہ کو بھی ایم ایم اے میں لانا چاہتے ہیں، کہا کہ جب کالعدم سپاہ صحابہ وہاں بیٹھے گی تو ہمارے لوگ وہاں کیا کریں گے؟

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ اصغر عسکری کا تسنیم نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو، جس میں زائرین کو درپیش مسائل، ایم ایم اے کی بحالی، مسنگ پرسنز اور فتنہ  بہائیت کے پاکستان پر اثرات پر گفتگو کی گئی، پیش خدمت ہے۔

علامہ اصغر عسکری کا کہنا تھا کہ محرم الحرام اور صفر المظفر میں زائرین کے لئے مشکلات کھڑی کرنا اور کانوائے نہ فراہم کرنا وفاقی حکومت اور حکومت بلوچستان کی سراسر ناانصافی ہے، عام دنوں میں پندرہ دنوں کے بعد ایک کانوائے جاتی ہے، بلوچستان حکومت محرم و صفر میں بھی یہی روٹین رکھنا چاہتی ہے حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ اربعین کے موقع پر کروڑوں کی تعداد میں زائرین عراق پہنچتے ہیں اسی طرح پاکستان سے بھی لاکھوں زائرین جاتے ہیں۔ زائرین کو کوئٹہ اور بارڈر میں کانوائے کے نام پر کئی کئی دن روکنا ظلم ہے، چونکہ ان میں بوڑھے، بچے اور خواتین ہوتے ہیں، راشن ختم ہو جاتا ہے، کسمپرسی کا عالم ہوتا ہے۔ یہ  حکومت بلوچستان کی نااہلی، نالائقی اور بےحسی ہے، کئی دفعہ مذاکرات کے باوجود زائرین کی مشکلات اب تک کم نہیں ہو سکیں۔ علامہ راجہ ناصر تفتان گئے، اعلیٰ حکومتی افراد سے ملاقاتیں ہوئیں لیکن معاملہ جوں کا توں ہے، ہم سجھتے ہیں کہ بلوچستان حکومت جان بوجھ کر مسائل بنا رہی ہے، تاکہ زائرین کی تعداد کو کم کیا جا سکے، لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔ مولا حسین علیہ السلام کی محبت کے سبب یہ تعداد ہر سال بڑھے گی۔ تو بلوچستان حکومت کو ان معاملات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ وفاقی حکومت کو معاملہ حل کرانا چاہیے۔ پھر بلوچستان شیعہ کانفرنس وہاں کی ایک چھوٹی سے تنظیم ہے، جو صرف کوئٹہ کے اندر ہے، اس کا پاکستان بھر میں کہیں رول نہیں ہے، کوئی قومیات میں اس کا کردار نہیں ہے، ان کو حکومت نے پاکستان کے کروڑوں شیعوں کا نمائندہ بنایا ہوا ہے، یہ پاکستان کے پانچ کروڑ شیعہ کے ساتھ زیادتی ہے، پاکستان کی وہ جماعتیں جوملت تشیع کی حقیقی نمائندہ جماعتیں ہیں، ان کے ساتھ بیٹھ کر حکومت کو مذاکرات کرنے چاہیں اور وفاقی حکومت خاص طور پر وزارت خارجہ اور داخلہ ان معاملات کو دیکھے، اور پھر وزارت مذہبی امور ان معاملات کو دیکھے جن کا ایک شعبہ یہ ہے کہ وہ حج و زیارات کو جانے والوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے، آج تک اس وزارت کا رول زائرین کے معاملے میں نہیں دیکھا گیا۔ یہ زائرین کے ساتھ انتہائی ناانصافی اور ظلم ہے،  ہمارا مطالبہ ہے ان معاملات کے ایک ایسی کمیٹی تیار کی جائے جو اہم شیعہ مذہبی جماعتوں، جن کی پاکستان بھر میں نمائندگی موجود ہے، ان پر مشتمل ایک کمیٹی اور ایک فورم بنے اور وہ پاکستان بھر کے زائرین کے معاملات کو دیکھے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت اس کمیٹی کو ایک مینڈیٹ دے اور وہ ان معاملات کو حل کریں۔

علامہ اصغر عسکری کا متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ ایم ایم اے کی بحالی سے کوئی بڑا انقلاب آجائے گا، اور  ملت تشیع کو حقوق ملنا شروع ہو جائیں گے۔ ایم ایم اے کے گزشتہ دور حکومت میں ملت تشیع کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے، اس فورم میں ہمارا کوئی مفاد نہیں ہے، مولانا فضل الرحمان کو چونکہ ڈی آئی خان کی سیٹ جیتنی ہوتی ہے، اس شیعہ ووٹ بینک کے لئے وہ ہمیشہ یہ چالاکی کرتا ہے، ڈی آئی خان میں ہمارا تشیع کا ووٹ بینک مولانا فضل الرحمان کو جاتا ہے، وہاں پر ہمارے لئے کیا بہتری آسکی، کیا ٹارگٹ کلنگ رکی ہے، ڈی آئی خان کے تشیع کی محرومیاں اسی طرح سے باقی ہیں، اور اب تو مولانا صاحب سپاہ صحابہ کو بھی ایم ایم اے میں لانا چاہتے ہیں، مولانا سمیع الحق نے کہہ دیا ہے کہ دفاع پاکستان کونسل بھی اس کا حصہ بنے گی، جب سپاہ صحابہ وہاں بیٹھے گی تو ہمارے لوگ وہاں کیا کریں گے۔ لہذا ان کو فیصلہ کرنا چاہیے اس سے پہلے کہ وہ خود ان کو آوٹ کر دیں۔ خدا کے لئے اپنی عزت اور وقار کے ساتھ ایم ایم اے کو چھوڑیں اور اپنی شیعہ جماعتیں مل بیٹھ کر اپنی سیاسی حکمت عملی طے کریں۔ مضبوط الائنس بنائیں، اگر الائنس بنانا ہے تو حقیقی سنیوں کے ساتھ بنائیں، بریلوی عقیدت رکھتے ہیں، اور اہل تشیع کے ساتھ ملکر چلنا بھی چاہتے ہیں، جن کی پاکستان کے اندر اکثریت ہے، طالبان بنانے والی شیعہ دشمن جماعتں کے ساتھ مل بیٹھنے کا کیا جواز ہے۔

مسنگ پرسنز بارے چلائی جانے والی تحریک کے بارے میں بتاتے ہوئے رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ مسنگ پرسنز کے لئے چلائے جانے والی تحریک پورے تشیع پاکستان کی تحریک ہے، ہم لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، علامہ حسن ظفر نے گرفتاری دی ہے، یہ ایک لمبی جنگ ہے، جس کا آغاز ہم نے کراچی سے کیا، اسے اگلے مرحلے میں پنجاب اور پھر کے پی کی جانب بڑھائیں گے۔ کئی لاپتہ افراد کو چھوڑا اور پیش کیا گیا ہے، یہ پاکستان کے شیعہ جوانوں اور متاثرہ خاندانوں کا مسئلہ ہے، آج تک کوئی شیعہ دہشت گردی میں نہیں پکڑا گیا، اگر مجرم ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، چھ چھ سال سے لوگ لاپتہ ہیں، یہ ظلم و زیادتی ہے، اگلے مرحلے میں ہم پاکستان بھر سے علما اور عوام کو اسلام آباد میں بلا سکتے ہیں۔

پاکستان میں بہائیت کے بڑھتے اثر و رسوخ کے بارے میں علامہ کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جس طرح قادیانیت ایک استعماری ایجنڈا تھا، اسی طرح بہائیت بھی ایک انحرافی فرقہ ہے، استعماری طاقتیں ان کی پشت پناہی کر رہی ہیں، پاکستان میں ان دنوں بہائیت کے پروگرام بڑھ رہے ہیں، لوگوں کے ساتھ ان کے روابط ہونا شروع ہو گئے ہیں، یہاں وزارت داخلہ اور وزارت مذہبی امور کی ذمہ داری ہے کہ ایسے انحرافی گروہ جو خود کو مسلمان کہتے ہیں، ان پر کڑی نظر رکھیں اور اس حوالے سے ہمیں آواز اٹھانی چاہیے، اور خاص طور پر مختلف این جی اووز جو فنڈنگ کر رہی ہیں، اس پر حکومت کڑی نظر رکھے تاکہ ان کے فتنے اور گمراہی سے قوم بچ سکے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی انٹرویو خبریں
اہم ترین انٹرویو خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری