مذاکرات سہ فریقی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تابع ہوں، صلاح الدین

خبر کا کوڈ: 1557020 خدمت: اسلامی بیداری
سید صلاح الدین

متحدہ جہاد کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید صلاح الدین نے کہا کہ 27 اکتوبر برصغیر کی تاریخ کا بدترین اور سیاہ ترین دن ہے، پوری کشمیری قوم اسے یوم سیاہ کے طور پر منائے گی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حزب المجاہدین کے سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ ”ہم مذاکرات کے خلاف نہیں، لیکن مذاکرات سہ فریقی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہونے چاہئے، جس نوعیت کے مذاکرات کا دہلی حکومت نے ڈھول پیٹنا شروع کیا ہے، وہ مذاکرات کے نام پر ایک مذاق ہے“۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر نہ ہی بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور نہ ہی دو ملکوں کے کے درمیان کوئی سرحدی تنازعہ ہے بلکہ اس مسئلے کے ساتھ ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کی تقدیر وابستہ ہے۔ سید صلاح الدین نے پاکستانی حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی اور سفارتی محاذ کو مزید مضبوط بنائے اور پوری دنیا کو کشمیر میں ہورہے بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی سے آگاہ کریں۔ متحدہ جہاد کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید صلاح الدین نے کہا کہ 27 اکتوبر برصغیر کی تاریخ کا بدترین اور سیاہ ترین دن ہے، پوری کشمیری قوم اسے یوم سیاہ کے طور پر منائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ”27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے سرزمین جموں و کشمیر پر فوجیں اُتار کر ناجائز قبضہ جمایا اور ایک امن پسند قوم کا بنیادی حق غصب کرکے اسے جبری غلامی میں مبتلا کردیا لیکن کشمیری قوم نے کبھی بھی اس جبری غلامی اور فوجی تسلط کو قبول نہیں کیا بلکہ پچھلے ستر برسوں سے ایک منظم مزاحمتی تحریک چلائی جسے کچلنے کے لئے بھارت نے فوجی قوت کا بے تحاشا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں آج تک پانچ لاکھ سے زائد کشمیری مارے جاچکے ہیں، لاکھوں لوگ زخمی، ہزاروں خواتین بیوہ اور لاکھوں بچے یتیم ہوچکے ہیں اور ہزاروں عفت مآب خواتین کی عصمت کو داغدار بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور یہ خونین و افسوسناک حکومتی ظلم و جبر کا کھیل ہنوز جاری ہے“۔ سید صلاح الدین نے عالمی برادری سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ محض تماشائی کی حیثیت سے دیکھ رہی ہے اور ان کی نظروں کے سامنے ایک تر دماغ قوم کا صفایا ہورہا ہے، اگر دنیا نے اب بھی مسئلہ کشمیر اور ظلم و جبر کی طرف توجہ نہ دی تو وہ وقت پھر قریب سے قریب تر آتا جارہا ہے جب بھارتی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں پوری دنیا کا امن درہم برہم ہوگا اور اس کے ذمہ دار نہ صرف بھارتی حکمران بلکہ عالمی برادری بھی ہوگی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری