ہنیہ: ابو نعیم پر حملے کے تانے بانے غاصب صہیونیوں سے ملتے ہیں

خبر کا کوڈ: 1558126 خدمت: اسلامی بیداری
5

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک کے صدر نے حماس کے سیکورٹی سربراہ پر ہونے والے ناکام حملے کا ذمہ دار غاصب صہیونی ریاست کو قرار دیا اور فتح سے دونوں تحریکوں کے درمیان جلد از جلد قومی مفاہمت کا مطالبہ کیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے فلسطین میڈیا سیل کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسماعیل ہنیہ نے ابو نعیم سے ہسپتال میں ملاقات اور احوال پرسی کے بعد کہا کہ اس ظالمانہ اقدام کے ناکام ہونے پر فلسطینی قوم، ملت اسلامیہ اور فلسطینی قیدیوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

ہنیہ نے مزید کہا کہ یہ ظلم جس کسی نے بھی کیا ہو لیکن اس کے اصلی سرپرست اسرائیل اور اس کے آلہ کار ہیں۔ 

انہوں نے اشارہ کیا کہ اس طرح کے ظالمانہ اقدام سے حماس کو فلسطینی قوم کے حقوق کی پاسداری اور اپنی سرزمین کے مکمل آزاد ہونے تک مزاحمت سے روکنا ہے۔

اسماعیل ہنیہ نے یاد دلایا کہ صہیونیوں کو وہم ہے کہ اس طرح کی ظالمانہ کاروائیوں سے فلسطینیوں کو قومی اتحاد سے روک لیں گے، یقینا وہ اشتباہ کر رہے ہیں۔ 

ہنیہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی تحریک داخلی اختلافات کو ختم کرنے اور قومی صلح و وحدت کے راستے پر گامزن رہے گی۔

انہون نے فلسطین اتھارٹی کے صدر اور تحریک الفتح سے مطالبہ کیا کہ صلح کے معاہدے کو جلد از جلد نافذ کریں تاکہ تمام رخنہ ڈالنے والے اور وہ عناصر جو اس مفاہمت کو گزند لگانے کے درپے ہیں، کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے اور داخلی محاذ اس طرح کی کارروائیوں اور وسوسوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ مضبوط ہو۔

دوسری طرف حماس کے سیاسی امور کے صدر نے کہا ہے کہ مصر کی انٹیلی جنس ایجنسی نے اپنے ٹیلیفونک رابطے میں ابونعیم کی احوال پرسی اور اظہار ہمدردی  کرنے کے ساتھ ساتھ اس بزدلانہ حملےکی مذمت کی ہے۔ 

اس موقع پر اسماعیل ہنیہ نے مصری انٹیلی جنس کا فلسطین کے حالات کی نگرانی اور ہمیشہ ساتھ رہنے پر شکریہ ادا کیا۔

ہنیہ نے متحدہ قومی حکومت کے وزیراعظم سے کہا کہ اس ظالمانہ اقدام کرنے والوں کی مکمل تحقیق کرنے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے ہر قسم کی کوششوں کو بروئے کار لائے۔

یہ ایسی صورت حال میں ہے کہ وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد بزم نے گزشتہ روز اپنے بیان میں حماس کے سیکورٹی سربراہ توفیق ابو نعیم کے حملے میں زخمی ہونے کی اطلاع دی اور کہا کہ زخمی حالت میں ان کو ہسپتا ل منتقل کیا گیا ہے جہاں پر اب ان کی حالت بہتر ہے۔

بزم نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پٹی کی سیکورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے فوری تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

فلسطین کے مختلف گروہوں نے اپنے الگ الگ بیانات میں اس ظالمانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے عناصر کا ہدف غزہ کے حالات کو بگاڑنا، اس کے امن کو تباہ کرنا، صہیونیوں کے اہداف کی تکمیل اور فلسطینی قوم کے درمیان ہونے والی صلح کو توڑنا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری