پانچ ہفتوں بعد سرینگر جامع مسجدکے معراب وممبر سے اذان کی صدائیں بلند

خبر کا کوڈ: 1563936 خدمت: اسلامی بیداری
جامع مسجد سرینگر

پانچ ہفتوں تک سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے معراب و ممبر خاموش رہنے کے بعد آج وہاں کے مناروں سے اذن گونجی لیکن بهارتی حکام نے شہر سرینگر کے کئی علاقوں میں جمعہ کو پابندیاں عائد کردی.

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پانچ ہفتوں تک سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے معراب و ممبر خاموش رہنے کے بعد آج وہاں کے مناروں سے اذن گونجی لیکن حکام نے شہر سرینگر کے کئی علاقوں میں جمعہ کو پابندیاں عائد کردی.

تفصیلات کے مطابق آج صبح پانچ بجے بعدر شہر سرینگر میں جامعہ مسجد میں اجتماعی دعا کی اجازت دی گئی میرواعظ عمر فاروق جو گھر کے اندر نظر بند تھے نے جامع مسجد میں جم غفیر سے خطاب کیا.

سری نگر کے پائین شہر میں واقع سب سے بڑی عبادت گاہ ‘تاریخی و مرکزی جامع مسجد’ میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر عائد پابندی آج پانچ ہفتوں کے بعد ہٹالی گئی جس کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے نماز جمعہ اجتماعی طور پر ادا کی۔

اس دوران اپنی رہائش گاہ پر نظربند حریت کانفرنس چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو تاریخی جامع مسجد جانے کی اجازت دی گئی ۔

لوگوں کی حوصلہ شکنی کے لئے جامع مسجد کو جانے والے راستوں پر سیکورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔

یاد رہے گزشتہ کئی ہفتوں سے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر حکام نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ نماز کی ادئیگی پر پابندی عائد کی تھی بندشوں کے ذریعے نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنائی گئی تھی اور بعدازاں یہ سلسلہ مسلسل پانچ جمعوں تک جاری رکھا گیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری