ڈاکٹر قبلہ ایاز اسلامی نظریاتی کونسل کے نئے چیئرمین مقرر

خبر کا کوڈ: 1564203 خدمت: پاکستان
قبلہ ایاز

وفاقی وزارت قانون نے پشاور یونیورسٹی کے کلیہ اسلامک اینڈ اورینٹیئل اسٹڈیز کے ڈین ڈاکٹر قبلہ ایاز کی بطور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل تقرری کا اعلامیہ جاری کردیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے لیے منتخب ہونے والے نئے اراکین میں صاحب زادہ ساجدالرحمٰن، خورشید ندیم، حافظ فضل الرحیم اور اللہ بخش کلیار بھی شامل ہیں۔

مولانا راغب نعیمی، قاری عبدالرشید، غلام حسین سیالوی، پیر روح الحسنین معین اور علامہ عارف حسین واحدی بھی اسلامی نظریاتی کونسل کے نئے اراکین منتخب ہوگئے ہیں۔

صدرمملکت ممنون حسین نے تین سال کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری کی منظوری دے دی۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر قبلہ ایاز اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن کے طور پر ذمہ داریاں نبھارہے تھے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے قواعد و ضوابط کے مطابق کونسل کے سالانہ کم ازکم چار اجلاس لازمی ہیں اور اجلاس طلب کرنے کے لیے 7 اراکین کا کورم لازمی قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کونسل 20 اراکین پر مشتمل ہے جن میں سے 10 اراکین نے گزشتہ سال اپنی مدت مکمل کی تھی جس کے بعد وزارت قانون نے اراکین کی تقرری کے لیے 30 افراد کے نام وزیراعظم کو بھیجے تھے۔

گزشتہ سال نومبر 2016 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے اپنی مدت ملازمت کے آخری اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم کو کونسل کی سفارشات نظرانداز کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اجلاس میں وزیراعظم سیکریٹریٹ کو لکھے جانے والے ایک خط پر بحث ہوئی تھی جس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت کونسل کو اہمیت نہیں دیتی۔

خط میں لکھا گیا تھا کہ یہ روایت بن چکی ہے کہ صدر اور وزیراعظم یا تو کونسل کی تشکیل نو کے بعد ہونے والے پہلے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں یا اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہونے والے آخری اجلاس کا حصہ بنتے ہیں۔

جمیعت علماء اسلام ف (جے یو آئی ایف) کے رکن قومی اسمبلی مولانا محمد خان شیرانی پہلی مرتبہ 1994 سے 1997 کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن رہے، 2009 میں وہ دوبارہ رکن منتخب ہوئے اور پھر نومبر 2010 سے نومبر 2013 تک کونسل کے چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے۔

بعد ازاں 18 دسمبر 2013 کو وہ دوباہ تین سال کے لیے کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے۔

قانون کے مطابق کم از کم 8 اور زیادہ سے زیادہ 20 رکن اسلامی نظریاتی کونسل کا حصہ ہونے چاہئیں، جن میں چیئرمین، مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور اسلام کے فلسفے اور تعلیمات کا علم رکھنے والے افراد شامل ہوں۔

سپریم کورٹ کے دو موجودہ یا ریٹائرڈ ججز بھی کونسل کا حصہ ہونے چاہئیں جبکہ ایک خاتون رکن کا شامل ہونا بھی ضروری ہے۔

کونسل کے ارکان کا تقرر وزیراعظم کرتے ہیں جو تین سال تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں تاہم وہ دوبارہ بھی منتخب ہوسکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری