شام کے "البوکمال آپریشن" میں شریک ہوں گے، ترجمان عراقی حزب اللہ

خبر کا کوڈ: 1564969 خدمت: دنیا
جعفر الحسینی سخنگوی کتائب حزب الله عراق

عراقی حزب اللہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ عراقی مزاحمتی فورسز نے القائم پر تسلط حاصل کر کے مزاحمتی تحریکوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کا امریکی منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ عراقی حزب اللہ کے ترجمان جعفر الحسینی نے المیادین ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران القائم کی آزادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اہم کامیابی مزاحمتی گروہوں کا عراق اور شام  کی مشترکہ سرحدوں پر موجود ہونا ہے اس کامیابی کی وجہ سے مزاحتی گروہوں کو جدا کرنے کا امریکی منصوبہ شکست سے دوچار ہوا ہے۔

الحسینی نے یاد دلایا کہ القائم شہر کی آزادی نے شام کے ساتھ رابطے اور مزاحمتی مراکز کے ساتھ ھماھنگی کو پورے خطے میں مضبوط کردیا اور یوں مزاحمتی تحریکوں کو جدا کرنے کا امریکی منصوبہ بھی ناکام ہوگیا۔  

حزب اللہ کے نمائندہ نے مزید کہا کہ  امریکہ نے سال 2010 میں عراقی حزب اللہ کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا جبکہ ہم اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہمیں امریکہ کا دشمن شمار کیا جائے۔

انہوں نے امریکہ کے عراق میں رہنے کے بارے میں کہا کہ واشنگٹن نے بغداد کو عراقی فورسز کو ٹریننگ کی تجویز دی ہے یہ تجویز عراقی قوم اور مزاحمتی گروہوں کو قابل قبول نہیں ہے ہم ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ امریکی فوج کسی بھی بہانے سے عراق میں باقی رہیں ہم عراق سے امریکی فورسز کا انخلاء چاہتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ عراق میں بحران صرف اور صرف امریکہ کی موجودگی کی وجہ سے ہے اور ہم اپنی قوم کو امریکہ کے بارے میں دوبارہ غلط فہمی کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔

الحسینی نے واضح کیا کہ واشنگٹن عراقی حکومت پر القائم شہر کو آزاد نہ کرانے کے حوالے سے دباو ڈال رہا ہے۔

عراقی حزب اللہ کے ترجمان نے شام اور عراق کی سرحد کے دونوں طرف جنگی روابط کے بارے میں تاکید کی کہ فوجی نقطہ نظر سے القائم اور البوکمال  میں فاصلہ نہیں ڈالا جا سکتا یہ آپریشن ایک ہی مرکز پر انجام دیا جا ئے گا۔

عراقی حزب اللہ کے ترجمان نے المیادین کو انٹرویو میں تاکید کی کہ عراقی فورسز شام میں داعش کے خلاف البوکمال آپریشن میں بھی شریک ہوں گی کیونکہ یہ علاقہ عراق کی دفاعی سرحد پر واقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ القائم سے البوکمال عراقی میزائلوں کی رینج میں ہے اور یہ علاقہ داعش کے ساتھ جنگ میں نیا مرکز ہوگا۔

الحسینی نے خبر دی کہ عراقی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی القائم کو فتح کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں شام کے ساتھ مشترکہ سرحد پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کیلئے شمال کی جانب گامزن ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری