ملک میں مارشل لا کا کوئی امکان نہیں, وزیر داخلہ پاکستان

خبر کا کوڈ: 1565221 خدمت: پاکستان
احسن اقبال

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے ملک میں مارشل لاء کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مارشل لاء لگانا ملک توڑنے کے مترادف ہوگا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ’پاکستان میں مارشل لاء لگانا ملک توڑنے کے مترادف ہوگا اور پاکستان کا کوئی بھی محب وطن پاکستان توڑنے کے فارمولے پر عمل نہیں کرسکتا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’فوجی قیادت بھی واضح طور پر یہ کہہ چکی ہے کہ ہم آئین و جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ اگر پاکستان میں مارشل لاء لگتا ہے تو یہ بلاشبہ پاکستان اور خود فوج کے لیے تباہی کا باعث ہوگا۔‘

ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’امریکا میں موجود کچھ لابیز پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنا چاہتی ہیں اور پاکستان کو ناکام ریاست قرار دلوا کر ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنا چاہتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جب بھی سینیٹ کے انتخابات قریب آتے ہیں تو اس طرح کی فضا بنادی جاتی ہے کہ پتہ نہیں کیا ہوجائے گا، پی ٹی آئی کی بھی کوشش ہے کہ مارچ کے اس الیکشن کو ملتوی کرایا جائے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس سے انہیں عام انتخابات میں مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ ملک میں افرا تفری پیدا نہ کریں اور انتخابات کی تیاری کریں، اس وقت پاکستان کو سنگین بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ملک کے مفاد کے لیے آپس میں اتحاد پیدا کریں، ایک دوسرے کی پشت پر کھڑے ہوں اور ملکی مفاد کو ترجیح دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اب سب کو معلوم ہے کہ تحریک انصاف کے 2014 کے دھرنے کو اسٹیبلشمنٹ کے ایک حصے کی حمایت حاصل تھی، لیکن یہ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کا بڑا پن تھا کہ انہوں نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی حالانکہ حکومت کے خلاف سازش تیار کرنے والوں کے خلاف موثر کارروائی کی جاسکتی تھی، لیکن ہم ملک میں اندرونی سلامتی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔‘

عمران خان کو گرفتار نہ کیے جانے کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ہم عمران خان کو گرفتار کرکے انہیں مظلوم بننے کا موقع نہیں دینا چاہتے، تاہم اگر عدالت چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کرنے کا براہ راست حکم دے تو تعمیل کی جائے گی۔‘

صحافی احمد نورانی پر حملے سے متعلق احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ’احمد نورانی سمیت تمام صحافیوں پر حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور جیسے ہی یہ تحقیقات مکمل ہوں گی صحافیوں کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر پالیسی مرتب کی جائے گی۔‘

نواز شریف کے حالیہ جارحانہ بیانات پر ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے موجودہ موقف کو پوری جماعت کا اعتماد حاصل ہے، پارٹی اجلاسوں میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر کسی کو میرے موقف سے اختلاف ہے تو وہ بے شک پارٹی چھوڑ کر چلا جائے۔‘

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حالیہ بیانات سے متعلق احسن اقبال نے کہا کہ ’ہم ایک جمہوری جماعت ہیں جس میں کوئی بھی اختلاف رائے کر سکتا ہے، چوہدری نثار کی کسی بات سے ایسا نہیں لگتا کہ انہوں نے پارٹی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہو جبکہ اختلاف رائے ان کا حق ہے۔‘

سابق وزیر اعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی پارلیمنٹ میں متنازع تقریر پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’پارلیمنٹ میں کیپٹن صفدر کا بیان ان کی ذاتی رائے تھی، پارٹی پالیسی اس کے برعکس ہے، ہم ایک متحد پاکستان چاہتے ہیں اور ملک کی تمام اقلیتی برادریوں کے تحفظ پر یقین رکھتے ہیں۔‘

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری