رہنما ایم ڈبلیو ایم کا تسنیم نیوز کو انٹرویو؛

بہائیت خطرناک ترین انحرافی مذہب ہے، عوام و خواص اور اداروں کو حساسیت دکھانی چاہیے + ویڈیو

خبر کا کوڈ: 1567682 خدمت: انٹرویو
اقبال بہشتی

علامہ اقبال بہشتی نے کہا: "چونکہ عالم اسلام دو حصوں شیعہ اور سنی میں تقسیم تھا، اس لئے بوڑھے استعمار نے بڑی چالاکی کے ساتھ چار جعلی مذاہب کی بنیاد رکھنے کی پلاننگ کی، دو کے لئے عرب اور دو کے لئے عجم کو چنا گیا اور پھر ان علاقوں سے اہم شخصیات کا انتخاب کیا گیا۔

مجلس وحدت مسلمین صوبہ کے خیبرپختونخواہ کے سیکرٹری جنرل علامہ اقبال بہشتی نے بہائیت اور دیگر انحرافی مذاہب اور تحریکوں کے حوالے سے تسنیم نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کی، جس کا متن من و عن پیش خدمت ہے؛

علامہ اقبال بہشتی کا کہنا تھا کہ عالمی استکباری طاقتیں اسلام سے خوفزدہ ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ استعماری طاقتیں انسانیت کا استحصال کرتی ہیں، اور ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اسلام ہے۔ لہذا ان طاقتوں نے اسلام کے خلاف سازش کی اور اٹھارویں صدی میں اسلام مخالف تحریکوں اور نئے انحرافی جعلی مذاہب کی بنیاد رکھی گئی۔ چونکہ عالم اسلام دو حصوں شیعہ اور سنی میں تقسیم تھا، اس لئے بوڑھے استعمار نے بڑی چالاکی کے ساتھ چار جعلی مذاہب کی بنیاد رکھنے کی پلاننگ کی، دو کے لئے عرب اور دو کے لئے عجم کو چنا گیا اور پھر ان علاقوں سے اہم شخصیات کا انتخاب کیا گیا۔

سنی عرب میں محمد بن عبدالوہاب کو چنا گیا، عربستان میں نجد کے علاقے میں وہابیت کی بنیاد ڈالی گئی۔ شیعہ عرب میں سے شیخ احمد کو احصاء کے علاقے سے چنا گیا اور شیخیت کی بنیاد رکھی گئی۔ برصغیر میں مرزا غلام احمد کا انتخاب ہوا اور قادیانیت کی بنیاد رکھی گئی۔ اسی طرح شیعہ عجم میں محمد علی باب اور مرزا حسین اور پھر اس کے بیٹے بہاء اللہ کا انتخاب کیا گیا، جنہوں نے بہائیت کو پروان چڑھایا جنہیں بابی بھی کہا جاتا ہے۔

ان چار انحرافی مذاہب میں سے وہابیت اسلام کے نام پر بڑی تیزی سے پروان چڑھا، قادیانیت نے بھی پذیرانی حاصل کی، تاہم شیعہ دنیا میں بننے والی انحرافی مذاہب تیزی سے پروان چڑھنے میں ناکام رہے، جس کی بڑی وجہ شیعیت میں اجتہاد کی ہے۔

اسی طرح ان کے عقائدی ٹارگٹ بھی مختلف تھے۔ وہابیت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روحانی پہلو کو کم کرنے اور قادیانیت ختم نبوت کو ٹارگٹ کرنے کے لئے میدان عمل میں اترے۔ شیخیت نے غلو کو پروان چڑھایا اور بہایئت کے ذریعے عقیدتی کے ساتھ ساتھ اخلاقی انحراف پیدا کیا گیا جیسا کہ محارم کے ساتھ شادی وغیرہ۔

پاکستان میں قادیانیت کے خلاف شعور موجود ہے لیکن بہائیت کے خطرات سے پاکستانی عوام آگاہ نہیں ہیں۔ ایران میں ناکامی کے بعد بہائیت نے برصغیر اور یورپ کا رخ کیا ہے۔ بہائیت کا نظریاتی مرکز غاصب صہیونی ریاست  کے شہر حیفہ میں ہے۔ بہائیت باقی تینوں سے زیادہ خطرناک ہے۔ ان کا مرکز اسرائیل ہے۔ شمالی علاقہ جات سے لیکر کراچی تک بہائیت کے چھوٹے بڑے مراکز موجود ہیں۔ عوام، خواص، اداروں اور وزارت داخلہ اور مذہبی امور کو اس حوالے سے حساسیت دکھانے کی اشد ضرورت ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری