مسلم لیگ (ن) کے بیان پر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کا سخت رد عمل

خبر کا کوڈ: 1569076 خدمت: پاکستان
عمران خان و زرداری

شریف خاندان کے خلاف عدالت عظمیٰ کے 28 جولائی کے فیصلے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نظر ثانی درخواست مسترد کیے جانے پر لیگی قیادت کے ردِ عمل پر مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب ہاؤس میں ہونے والے لیگی رہنماوں کے اجلاس میں (ن) لیگ کی جانب سے عدالتی فیصلے پر سخت الفاظ استعمال کرنے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکمراں جماعت پر سخت الفاظ میں مذمت کی۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سابق وزیراعظم کی جانب سے عدلیہ پر تنقید کرنے پر سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت نے نواز شریف کی کرپشن کو بے نقاب کیا تو نواز شریف عدلیہ پر حملہ کرنے لگے، انہیں خود پر شرم آنی چاہیئے‘۔

پیپیلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے عدالتی فیصلے پر حکمراں جماعت کی تنقید پر کہا کہ نواز شریف نے اپنا غیر جمہوری ایجنڈا بے نقاب کردیا اور اس موقع پر (ن) لیگ کا ساتھ دینا ایسا ہی ہوگا جیسے ہم ملک کے خلاف سازش میں ان کے شریک ہیں۔

پی پی پی رہنماوں سے بات کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف میرے خلاف بیانات دیتے ہیں تو دوسری طرف (ن) لیگ مجھ سے ملاقات کے پیغامات بھجواتی ہے‘۔

ملک کی نامور وکیل عاصمہ جہانگیر کے عدالتی فیصلے میں استعمال کی گئی زبان پر تشویش کا اظہار کرنے سے (ن) لیگ کو قانونی برادری کے کچھ حلقوں سے حمایت حاصل ہوئی۔

عاصمہ جہانگیر کا میڈیا سے گفتگو کے دوران عدلیہ کے ریمارکس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’عدالت کو لگتا ہے کہ تمام ادارے ناکام ہوچکے ہیں اور صرف وہی بہتری لا سکتے ہیں‘۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ’ہم جانتے ہیں کہ سیاست دان پاک نہیں لیکن ہم اس بات سے بے وقوف نہیں بنیں گے کہ نواز شریف کو بے ایمانی کرنے پر نکالا گیا ہے‘۔

واضح رہے کے مسلم لیگ (ن) نے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’عدالت عظمیٰ کے ریمارکس انتہائی نامناسب ہیں‘۔

انہوں نے ججز پر الزام لگایا کہ بینچ نے اس فیصلے کے ذریعے نہ صرف ذیلی عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی بلکہ اپیل کا فیصلہ بھی وقت سے پہلے ہی سنا دیا گیا۔

حکمراں جماعت کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک کے سابق وزیراعظم کے بارے میں توہین اور تضحیک آمیز الفاظ اور جملے دنیا کی کسی بھی عدالت کے لیے باعث فخر نہیں ہو سکتے۔

حکمراں جماعت نے ججز کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے میں شعر کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ شاعری کا سہارا لیتے ہوئے، رہبری کا سوال اٹھایا گیا، قوم جانتی ہے کہ رہبری کرنے والوں نے ہی پاکستان بنایا اور اس کے لیے قربانیاں بھی دیں۔

حکمراں جماعت کا موقف تھا کہ قافلے اس لیے لُٹے کہ رہزنوں کے ہاتھ پر بیعت کی گئی، رہزنوں سے وفاداری کے حلف اٹھائے گئے اور رہزنوں کی رہزنی کا جواز فراہم کرنے کے لیے نظریہ ضرورت ایجاد کیا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ رہزنوں کو آئین سے کھیلنے کے فرمان جاری کیے گئے، 71 برس پر پھیلا ہوا سوال رہبری کا نہیں بلکہ منصفی کا ہے کیونکہ رہبر تو آج بھی سزا پا رہے ہیں، پیشیاں بھگت رہے ہیں، بتایا جائے کہ رہزن کہاں ہیں؟

اعلامیے میں کہا گیا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان نے کسی تذبذب کے بغیر عدالتی فیصلوں پر عمل کیا لیکن ان کے بارے میں سیاسی حریفوں کے جلسوں جیسی زبان برداشت نہیں کی جا سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ جیسے مقدس ادارے کے لیے محمد نواز شریف کی جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے اور مسلم لیگ ن آئندہ بھی ایک آزاد اور آئین کے تحفظ کی علمبردار عدلیہ کے لیے اپنا کردار اداکرتی رہے گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری