شریف خاندان سے چھٹکارہ حاصل کرنے سے ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے، جاوید ہاشمی

خبر کا کوڈ: 1572411 خدمت: پاکستان

پاکستان کے سینئر سیاستدان اور مسلم لیگ (ن) و پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ نوازشریف یا اُن کے خاندان سے چھٹکارہ حاصل کرنے سے ملکی مسائل ختم نہیں ہوسکتے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابمق ملتان میں پریس کلب پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتیں نوازشریف کو سیاست سے باہر دیکھنا چاہتی ہیں، جمہوریت منتخب حکومت کو معاملات طے کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

اے پی پی کے مطابق جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں نے ملک کے لیے عظیم مثالیں قائم کیں، ذوالفقار علی بھٹو، بے بظیر بھٹو اور نوازشریف نے پاکستان کو جوہری طاقت، میزائل پروگرام اور سی پیک جیسے منصوبے دیئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ نوازشریف کا احتساب مسلم لیگ (ن) کے لیے آئندہ انتخابات میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔

مارشل لاء نافذ ہونے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ عوام غیر آئینی اقدام کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے، ملک کو چلانے کے لیے جمہوریت نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

پرویزمشرف کی سربراہی میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے متعلق اُن کا کہنا تھا کہ ’کسی آمر کے پاس عوام تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں ہے‘۔

جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری خطے میں خوشحالی لے کر آئے گا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ میں نے 18 سال قبل جو کتاب لکھی اُس میں کہا تھا کہ روس اور چین تجارت کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ جڑ جائیں گے۔

سینئر سیاست دان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت سی پیک کے خلاف ہے مگر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی منصوبے کا حصہ بننا چاہتا ہے۔

دوسری جانب جمعیت اہل الحدیث کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں کوئی بڑی حتمی تبدیلیاں نہیں کی گئیں تھیں۔

گذشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’قبل ازوقت انتخابات غیر آئینی اقدام ہے تاہم اس کا خدشہ بھی موجود ہے، سینیٹ کے انتخابات مارچ سے پہلے ہوسکتے ہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے سیاسی کھیل نے پردہ چاک کردیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری